<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 13:29:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 13:29:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی اعتراض کے بعد پاکستان نے سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت روک دی، ذرائع کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285301/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے سوڈان کو 1.5 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں اور لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے اس معاہدے کو ختم کرنے کی درخواست اور خریداری کے لیے فنڈز فراہم نہ کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو پاکستانی سیکورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے مطابق سوڈان کی فوج اور نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز(آر ایس ایف) کے درمیان گزشتہ تین سال سے جاری جنگ نے دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ یہ تنازع غیر ملکی مفادات کی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے اور بحیرہ احمر کے کنارے واقع اس بڑے سونا پیدا کرنے والے ملک کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے رواں سال جنوری میں پہلی بار رپورٹ کیا تھا کہ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور سعودی عرب نے اس میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا، تاہم اس وقت ریاض کی جانب سے کسی مالی امداد کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ ان کئی دفاعی سودوں میں شامل تھا جن پر پاکستانی فوج بات چیت کر رہی تھی، کیونکہ گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے بعد پاکستان کے لڑاکا طیاروں اور ہتھیاروں کی ساکھ میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب پاکستان کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے اور اسلام آباد کی کمزور معیشت کے لیے اہم قرضوں اور مالی امداد کا بڑا ذریعہ رہا ہے۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد ان کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں، جس کے تحت کسی ایک پر بھی حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب نے فنڈنگ کا ارادہ ترک کرنے کے بعد پاکستان کو اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو ختم کر دے۔اس معاملے پر سعودی حکومتی میڈیا آفس، سوڈانی مسلح افواج اور پاکستانی فوج کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذریعے نے مزید بتایا کہ بعض مغربی ممالک نے ریاض کو افریقہ میں جاری پروکسی وار(نیابتی جنگوں) سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے کے کئی شورش زدہ ممالک بشمول سوڈان میں مخالف فریقین کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن سعودی عرب سوڈانی فوج کی پشت پناہی کر رہا ہے، جبکہ یو اے ای پر آر ایس ایف کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام ہے (جس کی وہ سرکاری طور پر تردید کرتا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مارچ میں سوڈانی فوجی قیادت اور سعودی حکام کے درمیان ریاض میں ہونے والی ملاقات کے بعد اس سودے کے لیے سعودی فنڈنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسرے سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ دسمبر میں لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ جس 4 ارب ڈالر کے معاہدے کی خبر آئی تھی وہ بھی اب خطرے میں ہے کیونکہ سعودی عرب ان دونوں ممالک کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے سوڈان کو 1.5 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں اور لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے اس معاہدے کو ختم کرنے کی درخواست اور خریداری کے لیے فنڈز فراہم نہ کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>دو پاکستانی سیکورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے مطابق سوڈان کی فوج اور نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز(آر ایس ایف) کے درمیان گزشتہ تین سال سے جاری جنگ نے دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ یہ تنازع غیر ملکی مفادات کی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے اور بحیرہ احمر کے کنارے واقع اس بڑے سونا پیدا کرنے والے ملک کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔</p>
<p>رائٹرز نے رواں سال جنوری میں پہلی بار رپورٹ کیا تھا کہ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور سعودی عرب نے اس میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا، تاہم اس وقت ریاض کی جانب سے کسی مالی امداد کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ ان کئی دفاعی سودوں میں شامل تھا جن پر پاکستانی فوج بات چیت کر رہی تھی، کیونکہ گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے بعد پاکستان کے لڑاکا طیاروں اور ہتھیاروں کی ساکھ میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>سعودی عرب پاکستان کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے اور اسلام آباد کی کمزور معیشت کے لیے اہم قرضوں اور مالی امداد کا بڑا ذریعہ رہا ہے۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد ان کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں، جس کے تحت کسی ایک پر بھی حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>ایک سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب نے فنڈنگ کا ارادہ ترک کرنے کے بعد پاکستان کو اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو ختم کر دے۔اس معاملے پر سعودی حکومتی میڈیا آفس، سوڈانی مسلح افواج اور پاکستانی فوج کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>ذریعے نے مزید بتایا کہ بعض مغربی ممالک نے ریاض کو افریقہ میں جاری پروکسی وار(نیابتی جنگوں) سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے کے کئی شورش زدہ ممالک بشمول سوڈان میں مخالف فریقین کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن سعودی عرب سوڈانی فوج کی پشت پناہی کر رہا ہے، جبکہ یو اے ای پر آر ایس ایف کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام ہے (جس کی وہ سرکاری طور پر تردید کرتا ہے)۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مارچ میں سوڈانی فوجی قیادت اور سعودی حکام کے درمیان ریاض میں ہونے والی ملاقات کے بعد اس سودے کے لیے سعودی فنڈنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسرے سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ دسمبر میں لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ جس 4 ارب ڈالر کے معاہدے کی خبر آئی تھی وہ بھی اب خطرے میں ہے کیونکہ سعودی عرب ان دونوں ممالک کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285301</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 18:26:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/20181901eac640b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/20181901eac640b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
