<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:34:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:34:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، 100 انڈیکس ایک فیصد گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285273/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو اتار چڑھاؤ سے بھرپور کاروباری سیشن دیکھا گیا جہاں بینچ مارک کے ایس ای100 انڈیکس میں دونوں جانب بڑی لہریں دیکھنے میں آئیں اور آخر کار یہ ایک فیصد کی کمی پر بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے آغاز پر ہی شدید مندی دیکھی گئی جس کی وجہ منفی عالمی اشارے یا جیو پولیٹیکل خدشات بنے۔ تاہم یہ گراوٹ تھوڑی دیر ہی برقرار رہی کیونکہ اداروں کی جانب سے خریداری کے باعث مارکیٹ نے تیزی سے ریکوری کی اور مثبت زون میں داخل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انڈیکس میں مسلسل اضافے کا رجحان رہا،ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 174,523.76 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر کے وقت مارکیٹ میں ایک بار پھر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں انڈیکس دن کی کم ترین سطح 169,226.56 پوائنٹس تک گرگیا۔ اس مندی کی وجہ ان اطلاعات کو قرار دیا گیا کہ ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے آخری گھنٹوں کے دوران مارکیٹ کسی حد تک مستحکم ہوئی تاہم یہ استحکام جزوی رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,742.31 پوائنٹس یا 1 فیصد کی کمی سے 172,196.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں نے فروخت کے دباؤ کی وجہ جیو پولیٹیکل حالات کو قرار دیا کیونکہ ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی غیر یقینی صورتحال کے باعث اعتماد اب بھی متزلزل ہے کیونکہ ایران نے تاحال کل اسلام آباد میں متوقع پاک امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور میں اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار رہا جہاں بہتر ہوتے جغرافیائی سیاسی حالات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد نے ہمہ جہت خریداری کو فروغ دیا۔ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک کے ا یس ای 100 انڈیکس میں 4 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں یہ 6,748 پوائنٹس بڑھ کر 173,939 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، امریکی ڈالر اپنی نچلی ترین سطح سے اوپر آگیا اور اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی۔ خطے میں تناؤ کی وجہ سے خلیج سے جہازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود ہوگئی، تاہم تاجر اب بھی حالات کی بہتری اور کسی ممکنہ حل کے لیے پرامید ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ میں جنگ بندی جو منگل تک جاری رہنی تھی، اس وقت شکوک و شبہات کا شکار ہوگئی جب امریکہ نے ایران کا ایک مال بردار بحری جہاز قبضے میں لے لیا اور تہران کی اعلیٰ فوجی کمان نے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے آبنائے ہرمز کی عملی بندش دوبارہ نافذ کردی تاہم کپلر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہفتے کو پیٹرولیم مصنوعات، دھاتوں، گیس اور کھاد لے جانے والے 20 سے زائد بحری جہاز وہاں سے گزرے، یہ یکم مارچ کے بعد سے اس اہم گزرگاہ کا مصروف ترین دن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں ابتدائی تجارت کے دوران برینٹ کروڈ کے سودوں میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب امریکی ڈالر جس کی قدر میں جمعہ کو آبنائے ہرمز کے عارضی طور پر کھلنے پر تیزی سے کمی آئی تھی، اب معمولی بہتری کی جانب مائل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی 500 یوچرز میں تقریباً 0.7 فیصد کی کمی دیکھی گئی جو کہ جمعہ کو انڈیکس کی ریکارڈ سطح پر بندش کے مقابلے میں ایک معمولی تبدیلی ہے۔ ایشیا پیسیفک کی منڈیوں میں ملا جلا رجحان رہا، جہاں آسٹریلیا کا S&amp;amp;P/ASX 200 انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا جبکہ جاپان کا بینچ مارک نکئی 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ اوپر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ مارکیٹس جن میں جمعہ کو تیزی دیکھی گئی تھی، اب مندی کی جانب لوٹ آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کی اتوار کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی نئی پیشکش مسترد کردی ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے پاکستان بھیج رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر ایران نے ان کی شرائط تسلیم نہ کیں تو وہ اس پر نئے حملے شروع کردیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 278.91 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ سیشن کی 1,440.63 ملین گانٹھوں (شیئرز) سے کم ہو کر 1,296.21 ملین رہ گیا۔ شیئرز کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 67.99 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 65.27 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری حجم کے لحاظ سے بینک آف پنجاب 120.58 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا، جس کے بعد یونیٹی فوڈز لمیٹڈ 92.48 ملین اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 85.68 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو مجموعی طور پر 488 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 138 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 319 میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 31 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/20180319becfed0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/20180319becfed0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو اتار چڑھاؤ سے بھرپور کاروباری سیشن دیکھا گیا جہاں بینچ مارک کے ایس ای100 انڈیکس میں دونوں جانب بڑی لہریں دیکھنے میں آئیں اور آخر کار یہ ایک فیصد کی کمی پر بند ہوا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے آغاز پر ہی شدید مندی دیکھی گئی جس کی وجہ منفی عالمی اشارے یا جیو پولیٹیکل خدشات بنے۔ تاہم یہ گراوٹ تھوڑی دیر ہی برقرار رہی کیونکہ اداروں کی جانب سے خریداری کے باعث مارکیٹ نے تیزی سے ریکوری کی اور مثبت زون میں داخل ہوگئی۔</p>
<p>بعد ازاں انڈیکس میں مسلسل اضافے کا رجحان رہا،ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 174,523.76 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>دوپہر کے وقت مارکیٹ میں ایک بار پھر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں انڈیکس دن کی کم ترین سطح 169,226.56 پوائنٹس تک گرگیا۔ اس مندی کی وجہ ان اطلاعات کو قرار دیا گیا کہ ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کرے گا۔</p>
<p>کاروبار کے آخری گھنٹوں کے دوران مارکیٹ کسی حد تک مستحکم ہوئی تاہم یہ استحکام جزوی رہا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,742.31 پوائنٹس یا 1 فیصد کی کمی سے 172,196.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں نے فروخت کے دباؤ کی وجہ جیو پولیٹیکل حالات کو قرار دیا کیونکہ ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں ہے۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی غیر یقینی صورتحال کے باعث اعتماد اب بھی متزلزل ہے کیونکہ ایران نے تاحال کل اسلام آباد میں متوقع پاک امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور میں اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار رہا جہاں بہتر ہوتے جغرافیائی سیاسی حالات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد نے ہمہ جہت خریداری کو فروغ دیا۔ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک کے ا یس ای 100 انڈیکس میں 4 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں یہ 6,748 پوائنٹس بڑھ کر 173,939 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، امریکی ڈالر اپنی نچلی ترین سطح سے اوپر آگیا اور اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی۔ خطے میں تناؤ کی وجہ سے خلیج سے جہازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود ہوگئی، تاہم تاجر اب بھی حالات کی بہتری اور کسی ممکنہ حل کے لیے پرامید ہیں۔</p>
<p>ایران جنگ میں جنگ بندی جو منگل تک جاری رہنی تھی، اس وقت شکوک و شبہات کا شکار ہوگئی جب امریکہ نے ایران کا ایک مال بردار بحری جہاز قبضے میں لے لیا اور تہران کی اعلیٰ فوجی کمان نے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا۔</p>
<p>ایران نے آبنائے ہرمز کی عملی بندش دوبارہ نافذ کردی تاہم کپلر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہفتے کو پیٹرولیم مصنوعات، دھاتوں، گیس اور کھاد لے جانے والے 20 سے زائد بحری جہاز وہاں سے گزرے، یہ یکم مارچ کے بعد سے اس اہم گزرگاہ کا مصروف ترین دن تھا۔</p>
<p>ایشیا میں ابتدائی تجارت کے دوران برینٹ کروڈ کے سودوں میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب امریکی ڈالر جس کی قدر میں جمعہ کو آبنائے ہرمز کے عارضی طور پر کھلنے پر تیزی سے کمی آئی تھی، اب معمولی بہتری کی جانب مائل ہے۔</p>
<p>ایس اینڈ پی 500 یوچرز میں تقریباً 0.7 فیصد کی کمی دیکھی گئی جو کہ جمعہ کو انڈیکس کی ریکارڈ سطح پر بندش کے مقابلے میں ایک معمولی تبدیلی ہے۔ ایشیا پیسیفک کی منڈیوں میں ملا جلا رجحان رہا، جہاں آسٹریلیا کا S&amp;P/ASX 200 انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا جبکہ جاپان کا بینچ مارک نکئی 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ اوپر رہا۔</p>
<p>بانڈ مارکیٹس جن میں جمعہ کو تیزی دیکھی گئی تھی، اب مندی کی جانب لوٹ آئی ہیں۔</p>
<p>ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کی اتوار کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی نئی پیشکش مسترد کردی ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے پاکستان بھیج رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر ایران نے ان کی شرائط تسلیم نہ کیں تو وہ اس پر نئے حملے شروع کردیں گے۔</p>
<p>دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 278.91 پر بند ہوئی۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ سیشن کی 1,440.63 ملین گانٹھوں (شیئرز) سے کم ہو کر 1,296.21 ملین رہ گیا۔ شیئرز کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 67.99 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 65.27 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>کاروباری حجم کے لحاظ سے بینک آف پنجاب 120.58 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا، جس کے بعد یونیٹی فوڈز لمیٹڈ 92.48 ملین اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 85.68 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>پیر کو مجموعی طور پر 488 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 138 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 319 میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 31 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/20180319becfed0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/20180319becfed0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285273</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 21:51:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/20105258c137bb6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/20105258c137bb6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
