<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Financial</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 14:32:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 14:32:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی ، ڈالر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285267/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر پیر کے روز ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے غیر یقینی امکانات کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے اتوار کو کہا تھا کہ اس نے ایک ایرانی کارگو جہاز قبضے میں لے لیا ہے جو اس کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اسی کے ساتھ تہران نے امریکہ کے ساتھ دوسرے مرحلے کے امن مذاکرات میں شرکت سے بھی انکار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے بعد یورو، برطانوی پاؤنڈ اور آسٹریلوی ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ ڈالر انڈیکس 98.38 کی سطح پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق کشیدگی میں اضافہ توانائی کی قیمتوں میں بھی تیزی کا باعث بنا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 7 فیصد بڑھ کر 96.8 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 90.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری غیر یقینی صورتحال عالمی تیل سپلائی کے لیے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹس میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر پیر کے روز ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے غیر یقینی امکانات کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہو گئے۔</strong></p>
<p>امریکہ نے اتوار کو کہا تھا کہ اس نے ایک ایرانی کارگو جہاز قبضے میں لے لیا ہے جو اس کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اسی کے ساتھ تہران نے امریکہ کے ساتھ دوسرے مرحلے کے امن مذاکرات میں شرکت سے بھی انکار کر دیا ہے۔</p>
<p>اس صورتحال کے بعد یورو، برطانوی پاؤنڈ اور آسٹریلوی ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ ڈالر انڈیکس 98.38 کی سطح پر مستحکم رہا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق کشیدگی میں اضافہ توانائی کی قیمتوں میں بھی تیزی کا باعث بنا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 7 فیصد بڑھ کر 96.8 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 90.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری غیر یقینی صورتحال عالمی تیل سپلائی کے لیے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹس میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285267</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 09:37:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/200936283f2aaeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/200936283f2aaeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
