<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:58:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 19:58:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او آئی سی سی آئی کی مرحلہ وار کارپوریٹ ٹیکس میں کمی اور سپر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285255/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اوآئی سی سی آئی) نے وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سے ملاقات کے دوران حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کو ترجیح دے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ مملکت کے چیمبر کے دورے کے دوران اوآئی سی سی آئی  نے وفاقی بجٹ 27-2026 کے لیے اپنی اہم ٹیکس تجاویز پیش کیں، جو ممبران کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہیں۔ ملاقات میں ٹیکس پالیسی آفس  کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نجیب میمن نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ یہ ملاقات وزارتِ خزانہ کے بجٹ سازی کے عمل اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وفاقی وزیرِ خزانہ کی مشاورت کا حصہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ مملکت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور معاشی ترقی، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور شفافیت کے فروغ کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر نے تجویز دی کہ مالی سال 27-2026 میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کم کر کے 28 فیصد کی جائے، جسے تین سالوں میں مرحلہ وار 25 فیصد تک لایا جائے اور سپر ٹیکس کو بتدریج ختم کیا جائے۔ چیمبر نے نوٹ کیا کہ کارپوریٹ ٹیکس، سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسیپیشن فنڈ کے مجموعی اثر سے ٹیکس کی مؤثر شرح تقریباً 46 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوآئی سی سی آئی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بینکنگ سیکٹر پر غیر متناسب زیادہ ٹیکس معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے بینکوں کی سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس کا براہِ راست اثر ملک بھر کی صنعتوں کے لیے ورکنگ کیپیٹل کی فراہمی اور لاگت پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوآئی سی سی آئی نے ٹیلنٹ (ماہر افرادی قوت) کو برقرار رکھنے کے لیے سپر ٹیکس اور زیادہ تنخواہ والے طبقے پر 10 فیصد سرچارج ختم کرنے اور ذاتی انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 25 فیصد تک محدود کرنے کی سفارش کی۔ دیگر تجاویز میں ودہولڈنگ ٹیکسز کو معقول بنانا، اشیاء پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 17 فیصد (اور بعد ازاں 15 فیصد) کرنا اور کم از کم ٹیکس کی دفعات پر نظر ثانی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوآئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل ایم عبد العلیم نے کہا کہ ان تجاویز کا مقصد ایک منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور سرمایہ کاری دوست ٹیکس نظام فراہم کرنا ہے جو ڈیجیٹلائزیشن پر مبنی ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت، ریٹیل، ہول سیل، رئیل اسٹیٹ اور سروسز سمیت معیشت کے تمام شعبوں کو ان کے معاشی حصے کے مطابق ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے آپریشنل تحفظات بھی اٹھائے، جن میں ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، بہترین ریکارڈ کے باوجود تعمیل کے بے جا نوٹسز اور وفاقی و صوبائی نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوآئی سی سی آئی نے برآمدات پر مبنی صنعتی شعبوں کی مدد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عالمی منڈی میں مقابلہ برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے موزوں پالیسی سپورٹ اور لچک پر غور کیا جانا چاہیے۔ چیمبر نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے ایک متوازن ٹیکس نظام قائم ہوگا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور پاکستان پائیدار، برآمدی ترقی کی طرف گامزن ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اوآئی سی سی آئی) نے وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سے ملاقات کے دوران حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کو ترجیح دے۔</strong></p>
<p>وزیرِ مملکت کے چیمبر کے دورے کے دوران اوآئی سی سی آئی  نے وفاقی بجٹ 27-2026 کے لیے اپنی اہم ٹیکس تجاویز پیش کیں، جو ممبران کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہیں۔ ملاقات میں ٹیکس پالیسی آفس  کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نجیب میمن نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ یہ ملاقات وزارتِ خزانہ کے بجٹ سازی کے عمل اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وفاقی وزیرِ خزانہ کی مشاورت کا حصہ تھی۔</p>
<p>وزیرِ مملکت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور معاشی ترقی، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور شفافیت کے فروغ کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>چیمبر نے تجویز دی کہ مالی سال 27-2026 میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کم کر کے 28 فیصد کی جائے، جسے تین سالوں میں مرحلہ وار 25 فیصد تک لایا جائے اور سپر ٹیکس کو بتدریج ختم کیا جائے۔ چیمبر نے نوٹ کیا کہ کارپوریٹ ٹیکس، سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسیپیشن فنڈ کے مجموعی اثر سے ٹیکس کی مؤثر شرح تقریباً 46 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔</p>
<p>اوآئی سی سی آئی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بینکنگ سیکٹر پر غیر متناسب زیادہ ٹیکس معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے بینکوں کی سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس کا براہِ راست اثر ملک بھر کی صنعتوں کے لیے ورکنگ کیپیٹل کی فراہمی اور لاگت پر پڑتا ہے۔</p>
<p>اوآئی سی سی آئی نے ٹیلنٹ (ماہر افرادی قوت) کو برقرار رکھنے کے لیے سپر ٹیکس اور زیادہ تنخواہ والے طبقے پر 10 فیصد سرچارج ختم کرنے اور ذاتی انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 25 فیصد تک محدود کرنے کی سفارش کی۔ دیگر تجاویز میں ودہولڈنگ ٹیکسز کو معقول بنانا، اشیاء پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 17 فیصد (اور بعد ازاں 15 فیصد) کرنا اور کم از کم ٹیکس کی دفعات پر نظر ثانی شامل تھی۔</p>
<p>اوآئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل ایم عبد العلیم نے کہا کہ ان تجاویز کا مقصد ایک منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور سرمایہ کاری دوست ٹیکس نظام فراہم کرنا ہے جو ڈیجیٹلائزیشن پر مبنی ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت، ریٹیل، ہول سیل، رئیل اسٹیٹ اور سروسز سمیت معیشت کے تمام شعبوں کو ان کے معاشی حصے کے مطابق ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے آپریشنل تحفظات بھی اٹھائے، جن میں ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، بہترین ریکارڈ کے باوجود تعمیل کے بے جا نوٹسز اور وفاقی و صوبائی نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی شامل تھی۔</p>
<p>اوآئی سی سی آئی نے برآمدات پر مبنی صنعتی شعبوں کی مدد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عالمی منڈی میں مقابلہ برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے موزوں پالیسی سپورٹ اور لچک پر غور کیا جانا چاہیے۔ چیمبر نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے ایک متوازن ٹیکس نظام قائم ہوگا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور پاکستان پائیدار، برآمدی ترقی کی طرف گامزن ہو سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285255</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 10:05:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/2010035152d108a.webp" type="image/webp" medium="image" height="575" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/2010035152d108a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
