<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جبری ٹیکس وصولی پر ایف بی آر کی سرزنش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285230/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ایک اہم پیش رفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے جبر پر مبنی اقدامات فوری طور پر روک دے، جن میں موروثی جائیدادوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گینز پر ریکوری بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او نے ایف بی آر کو ہدایت دی ہے کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 4C (سپر ٹیکس) کے اطلاق سے متعلق تمام شعبوں کے لیے واضح پالیسی یا وضاحت جاری کرے، خصوصاً موروثی جائیدادوں سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گینز کے معاملے میں۔ مزید برآں، ایف ٹی او نے کہا ہے کہ جب تک ایف بی آر شق 4C (6) کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کرتا، اس وقت تک جبر کے ذریعے ٹیکس وصولی معطل رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او کے حکم کے مطابق شق 4C (6) کے تحت بورڈ کو اختیار ہے کہ وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اس شق پر عملدرآمد کے لیے قواعد وضع کرے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل کورٹ کے مختصر فیصلے کے بعد فوری اور بلاامتیاز ریکوری مہم کا آغاز غیر منصفانہ ہے، کیونکہ اس شق کے اطلاق سے متعلق مکمل تفصیلی فیصلہ ابھی جاری نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ خاص طور پر ان کیسز سے متعلق ہے جہاں موروثی جائیدادوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کو بنیاد بنا کر سپر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ ایف ٹی او کے مطابق جب تک اس حوالے سے قانونی دائرہ کار اور اطلاق کے اصول واضح نہیں ہوتے، اس وقت تک ریکوری کارروائیاں قبل از وقت اور بدنظمی کے مترادف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی ریجنل ٹیکس آفس کے خلاف جاری حکم میں شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے صرف مختصر فیصلہ جاری کیا گیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے، اس کے باوجود ایف بی آر نے ریکوری نوٹسز جاری کر دیے جو غیر مناسب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تفصیلی عدالتی تشریح کے بغیر نفاذی اقدامات من مانی، حد سے زیادہ اور شفاف طرز حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہیں۔ شکایت کنندہ کے مطابق موروثی جائیداد سے حاصل ہونے والا منافع موجودہ قوانین کے تحت مستثنیٰ یا زیرو ریٹڈ ہے، جبکہ اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کے باعث ایف بی آر کی کارروائیاں امتیازی اور غیر یقینی صورتحال کا باعث بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او نے ایف بی آر کی اس معاملے میں کوتاہی کو بدانتظامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واضح رہنما اصول جاری نہ کرنا ادارے کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ایک اہم پیش رفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے جبر پر مبنی اقدامات فوری طور پر روک دے، جن میں موروثی جائیدادوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گینز پر ریکوری بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>ایف ٹی او نے ایف بی آر کو ہدایت دی ہے کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 4C (سپر ٹیکس) کے اطلاق سے متعلق تمام شعبوں کے لیے واضح پالیسی یا وضاحت جاری کرے، خصوصاً موروثی جائیدادوں سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گینز کے معاملے میں۔ مزید برآں، ایف ٹی او نے کہا ہے کہ جب تک ایف بی آر شق 4C (6) کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کرتا، اس وقت تک جبر کے ذریعے ٹیکس وصولی معطل رکھی جائے۔</p>
<p>ایف ٹی او کے حکم کے مطابق شق 4C (6) کے تحت بورڈ کو اختیار ہے کہ وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اس شق پر عملدرآمد کے لیے قواعد وضع کرے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل کورٹ کے مختصر فیصلے کے بعد فوری اور بلاامتیاز ریکوری مہم کا آغاز غیر منصفانہ ہے، کیونکہ اس شق کے اطلاق سے متعلق مکمل تفصیلی فیصلہ ابھی جاری نہیں ہوا۔</p>
<p>یہ معاملہ خاص طور پر ان کیسز سے متعلق ہے جہاں موروثی جائیدادوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کو بنیاد بنا کر سپر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ ایف ٹی او کے مطابق جب تک اس حوالے سے قانونی دائرہ کار اور اطلاق کے اصول واضح نہیں ہوتے، اس وقت تک ریکوری کارروائیاں قبل از وقت اور بدنظمی کے مترادف ہیں۔</p>
<p>راولپنڈی ریجنل ٹیکس آفس کے خلاف جاری حکم میں شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے صرف مختصر فیصلہ جاری کیا گیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے، اس کے باوجود ایف بی آر نے ریکوری نوٹسز جاری کر دیے جو غیر مناسب ہیں۔</p>
<p>ایف ٹی او نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تفصیلی عدالتی تشریح کے بغیر نفاذی اقدامات من مانی، حد سے زیادہ اور شفاف طرز حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہیں۔ شکایت کنندہ کے مطابق موروثی جائیداد سے حاصل ہونے والا منافع موجودہ قوانین کے تحت مستثنیٰ یا زیرو ریٹڈ ہے، جبکہ اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کے باعث ایف بی آر کی کارروائیاں امتیازی اور غیر یقینی صورتحال کا باعث بن رہی ہیں۔</p>
<p>ایف ٹی او نے ایف بی آر کی اس معاملے میں کوتاہی کو بدانتظامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واضح رہنما اصول جاری نہ کرنا ادارے کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285230</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 09:59:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/19095654f863a50.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/19095654f863a50.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
