<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں، اسٹیٹ بینک کے عہدیدار کی تصدیق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285226/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ترجمان نور احمد نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 2 ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں، جو رواں ماہ کے آخر میں میچور ہونا تھے، اور ملک اپنی قرض کی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کی جانب سے یہ رقوم پہلے سالانہ بنیادوں پر رول اوور کی جاتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نور احمد نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ ”پاکستان نے یو اے ای کو 2 ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ادائیگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے زائد تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے لیے دوطرفہ ڈپازٹس کی رول اوور شرط بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے آغاز میں پاکستان نے 8 اپریل 2026 کو میچور ہونے والا 1.43 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی واپس کیا تھا، جس کے بعد 10 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر 15.08 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یو اے ای کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر پر دباؤ پڑنے کا امکان نہیں، کیونکہ اسی ہفتے پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کی اضافی رقم موصول ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق سعودی عرب نے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کرائی ہے، جس سے سعودی ڈپازٹس کی کل مالیت 8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کا سعودی ڈپازٹ اب سالانہ رول اوور کے بجائے تین سال کے لیے توسیع شدہ شکل میں برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے حکومت کے اس عزم کو بھی دہرایا کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ذخائر کو برقرار رکھے گی، جس کا ہدف مالی سال کے اختتام تک تقریباً 18 ارب ڈالر (یعنی تقریباً 3.3 ماہ کی درآمدات کے برابر) حاصل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ترجمان نور احمد نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 2 ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں، جو رواں ماہ کے آخر میں میچور ہونا تھے، اور ملک اپنی قرض کی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>یو اے ای کی جانب سے یہ رقوم پہلے سالانہ بنیادوں پر رول اوور کی جاتی رہی ہیں۔</p>
<p>نور احمد نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ ”پاکستان نے یو اے ای کو 2 ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں۔“</p>
<p>یہ ادائیگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے زائد تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے لیے دوطرفہ ڈپازٹس کی رول اوور شرط بھی شامل ہے۔</p>
<p>اس ماہ کے آغاز میں پاکستان نے 8 اپریل 2026 کو میچور ہونے والا 1.43 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی واپس کیا تھا، جس کے بعد 10 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر 15.08 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔</p>
<p>تاہم یو اے ای کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر پر دباؤ پڑنے کا امکان نہیں، کیونکہ اسی ہفتے پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کی اضافی رقم موصول ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق سعودی عرب نے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کرائی ہے، جس سے سعودی ڈپازٹس کی کل مالیت 8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کا سعودی ڈپازٹ اب سالانہ رول اوور کے بجائے تین سال کے لیے توسیع شدہ شکل میں برقرار رہے گا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے حکومت کے اس عزم کو بھی دہرایا کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ذخائر کو برقرار رکھے گی، جس کا ہدف مالی سال کے اختتام تک تقریباً 18 ارب ڈالر (یعنی تقریباً 3.3 ماہ کی درآمدات کے برابر) حاصل کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285226</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 22:27:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/18221952c47376a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/18221952c47376a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
