<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے اہم میکرو اکنامک اشاریے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں، گورنراسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285225/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال کے آغاز میں اندازوں کے مقابلے میں پاکستان کے اہم میکرو اکنامک اشاریے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب جمیل احمد نے عالمی مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں، جن میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن شامل تھے، جبکہ فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 تک ہونے والے آئی ایم ایف–ورلڈ بینک اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر ہوئیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، جمیل احمد نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے اہم میکرو اکنامک اشاریے مالی سال کے آغاز میں لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے نئے خطرات اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے، تاہم پاکستان کی معیشت پچھلے بحرانوں کے مقابلے میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے قبل پاکستان نے معیشت کے استحکام میں نمایاں پیش رفت حاصل کی تھی۔ ان کے مطابق محتاط مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے امتزاج نے مہنگائی کو کم کرکے ہدف کے دائرے میں لانے اور مستحکم رکھنے میں مدد دی، جبکہ ملکی مالیاتی اور بیرونی ذخائر بھی مضبوط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے بتایا کہ جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مہنگائی اوسطاً 5.7 فیصد رہی، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس میں رہا، اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو زیادہ تر انٹر بینک مارکیٹ سے خریداری کے ذریعے حاصل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی آمد، بشمول نئے دوطرفہ معاہدوں کے تحت، کے نتیجے میں جون 2026 تک زرمبادلہ ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر کے مطابق بہتر میکرو اکنامک استحکام نے معاشی نمو میں بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد بحالی میں مدد دی ہے۔ مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 1.8 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ محتاط پالیسی سمت کے باعث پاکستان کی ابتدائی معاشی صورتحال ماضی کے بیرونی جھٹکوں، جیسے 2022 کے روس–یوکرین تنازع، کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عالمی توانائی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور فریٹ و انشورنس لاگتوں میں اضافہ نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے، تاہم اسٹیٹ بینک اور حکومت قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے اور میکرو اکنامک استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی محتاط رہی ہے اور حقیقی شرح سود مثبت سطح پر برقرار ہے، جبکہ حکومت نے بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا ہے اور ساتھ ہی ٹارگٹڈ سبسڈیز اور اخراجات میں کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کا بھی ذکر کیا، جو توسیعی فنڈ سہولت ( ای ایف ایف ) کے تحت تیسری جائزہ رپورٹ اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی کے تحت دوسرے جائزے سے متعلق ہے۔ اسی طرح ایک بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے ریٹنگ کی توثیق کو انہوں نے حکومت اور اسٹیٹ بینک کی میکرو اکنامک استحکام اور اصلاحاتی ایجنڈے سے مسلسل وابستگی کی آزادانہ توثیق قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دورے کے دوران احمد نے ترسیلات زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ( آر ڈی اے ) روڈ شو میں پاکستانی تارکین وطن اور عالمی اسٹیک ہولڈرز سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ آر ڈی اے کے تحت رقوم کی آمد 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد اکاؤنٹس کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آر ڈی اے کے ریگولیٹری فریم ورک میں حالیہ بہتریوں کا بھی ذکر کیا، جن میں غیر مقیم اداروں کی شمولیت شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ مزید مربوط کرنا اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو وسعت دینا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال کے آغاز میں اندازوں کے مقابلے میں پاکستان کے اہم میکرو اکنامک اشاریے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب جمیل احمد نے عالمی مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں، جن میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن شامل تھے، جبکہ فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔</p>
<p>یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 تک ہونے والے آئی ایم ایف–ورلڈ بینک اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر ہوئیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، جمیل احمد نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے اہم میکرو اکنامک اشاریے مالی سال کے آغاز میں لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے نئے خطرات اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے، تاہم پاکستان کی معیشت پچھلے بحرانوں کے مقابلے میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے قبل پاکستان نے معیشت کے استحکام میں نمایاں پیش رفت حاصل کی تھی۔ ان کے مطابق محتاط مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے امتزاج نے مہنگائی کو کم کرکے ہدف کے دائرے میں لانے اور مستحکم رکھنے میں مدد دی، جبکہ ملکی مالیاتی اور بیرونی ذخائر بھی مضبوط ہوئے۔</p>
<p>گورنر نے بتایا کہ جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مہنگائی اوسطاً 5.7 فیصد رہی، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس میں رہا، اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو زیادہ تر انٹر بینک مارکیٹ سے خریداری کے ذریعے حاصل ہوئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی آمد، بشمول نئے دوطرفہ معاہدوں کے تحت، کے نتیجے میں جون 2026 تک زرمبادلہ ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔</p>
<p>گورنر کے مطابق بہتر میکرو اکنامک استحکام نے معاشی نمو میں بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد بحالی میں مدد دی ہے۔ مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 1.8 فیصد تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ محتاط پالیسی سمت کے باعث پاکستان کی ابتدائی معاشی صورتحال ماضی کے بیرونی جھٹکوں، جیسے 2022 کے روس–یوکرین تنازع، کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عالمی توانائی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور فریٹ و انشورنس لاگتوں میں اضافہ نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے، تاہم اسٹیٹ بینک اور حکومت قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے اور میکرو اکنامک استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی محتاط رہی ہے اور حقیقی شرح سود مثبت سطح پر برقرار ہے، جبکہ حکومت نے بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا ہے اور ساتھ ہی ٹارگٹڈ سبسڈیز اور اخراجات میں کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے ہیں۔</p>
<p>گورنر نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کا بھی ذکر کیا، جو توسیعی فنڈ سہولت ( ای ایف ایف ) کے تحت تیسری جائزہ رپورٹ اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی کے تحت دوسرے جائزے سے متعلق ہے۔ اسی طرح ایک بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے ریٹنگ کی توثیق کو انہوں نے حکومت اور اسٹیٹ بینک کی میکرو اکنامک استحکام اور اصلاحاتی ایجنڈے سے مسلسل وابستگی کی آزادانہ توثیق قرار دیا۔</p>
<p>اپنے دورے کے دوران احمد نے ترسیلات زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ( آر ڈی اے ) روڈ شو میں پاکستانی تارکین وطن اور عالمی اسٹیک ہولڈرز سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ آر ڈی اے کے تحت رقوم کی آمد 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد اکاؤنٹس کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے آر ڈی اے کے ریگولیٹری فریم ورک میں حالیہ بہتریوں کا بھی ذکر کیا، جن میں غیر مقیم اداروں کی شمولیت شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ مزید مربوط کرنا اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو وسعت دینا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285225</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 21:49:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/18213615d6582c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/18213615d6582c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
