<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی یونین کا 400 ارب یورو کا سرمایہ کاری اقدام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285215/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی یونین کے 400 ارب یورو کے گلوبل گیٹ وے سرمایہ کاری پروگرام پر توجہ کے ساتھ، اسلام آباد 28-29 اپریل کو بلاک کے پہلے اعلیٰ سطح کے ’یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم‘ کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت کے ساتھ یہ سرکاری جوش و خروش بھی وابستہ ہے کہ یہ موقع پاکستان کے لیے موجودہ حد تک تجارتی شراکت داری سے آگے بڑھ کر یورپی یونین کے ساتھ سرمایہ کاری، تجارت اور کاروبار میں ایک اسٹریٹجک اور سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داری کی جانب پیش رفت کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس جوش کو ایک حقیقت پسندانہ جانچ اور بہتر فہم کی ضرورت ہے: یورپی یونین کا 400 ارب یورو کا گلوبل گیٹ وے سرمایہ کاری پروگرام دراصل کیا ہے اور یہ پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کا 400 ارب یورو کا گلوبل گیٹ وے اقدام اکثر چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے یورپی جواب کے طور پر دیکھا جاتا ہے، مگر یہ سادہ تعبیر اس کے اصل مقصد کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ بنیادی طور پر گلوبل گیٹ وے محض بڑے انفرااسٹرکچر اخراجات سے زیادہ، سپلائی چینز کے خطرات کم کرنے، اسٹریٹجک وسائل کو محفوظ بنانے اور شراکت دار معیشتوں میں یورپی ریگولیٹری اور پائیداری کے معیارات کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں اعلان کیے گئے اس پروگرام کا مقصد 2027 تک سرکاری فنڈز، ڈویلپمنٹ فنانس اداروں اور نجی سرمایہ کے امتزاج کے ذریعے 300 سے 400 ارب یورو تک وسائل متحرک کرنا ہے۔ روایتی امداد یا چین کے ریاستی زیرِ قیادت مالیاتی ماڈل کے برعکس، گلوبل گیٹ وے کو ایسے ” بینک ایبل“ منصوبوں کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، یعنی وہ منصوبے جو گورننس، شفافیت، ماحولیاتی تقاضوں اور مالیاتی پائیداری کے سخت معیارات پر پورا اتریں۔ ترجیحی شعبوں میں صاف توانائی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ کوریڈورز، صحت کے نظام اور تعلیم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ پیشکش بیک وقت پُرکشش بھی ہے اور مطالبہ کرنے والی بھی۔ یورپی یونین محض سرمایہ فراہم نہیں کر رہی بلکہ اپنے معاشی نظام میں شمولیت کی پیشکش کر رہی ہے، اگرچہ یورپی شرائط پر۔ اس کا مطلب ہے ای ایس جی فریم ورکس کی پاسداری، قانونی پیش گوئی، معاہدوں پر عملدرآمد اور پالیسیوں کا تسلسل۔ اس کے بدلے میں شراکت دار ممالک کو یورپی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے بہاؤ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں اسلام آباد میں پہلے اعلیٰ سطح کے  یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم کا انعقاد ایک سوچا سمجھا تزویراتی رخ موڑنے کا اشارہ ہے۔ تجارت پر مرکوز تعلقات، جو تاریخی طور پر جی ایس پی پلس ترجیحات سے جڑے رہے، سے سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داری کی طرف یہ منتقلی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ صرف ترجیحی ٹیرف پاکستان کو بدلتی ہوئی عالمی سپلائی چینز میں موثر مقام دلانے کے لیے کافی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس موقع کی حقیقت پسندی کو پاکستان کے موجودہ سرمایہ کاری ماحول کے تناظر میں جانچنا ضروری ہے۔ پاکستان میں یورپی سرمایہ کار کوئی نئے کھلاڑی نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط عملی تجربہ رکھنے والے دیرینہ شراکت دار ہیں۔ ان کا حالیہ رویہ، جس میں کاروبار سمیٹنا، محتاط سرمایہ کاری، یا مکمل انخلا شامل ہے، عارضی عوامل نہیں بلکہ ساختی مسائل کا نتیجہ ہے۔ مسلسل پالیسی غیر یقینی، زرمبادلہ کی ترسیل میں رکاوٹیں، ریگولیٹری عدم پیش گوئی اور گورننس کی کمزوریاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں گلوبل گیٹ وے کوئی ایسا نیا سرمایہ نہیں جو بغیر شرائط کے دستیاب ہو۔ درحقیقت یہ ایک طرح کا فلٹر ہے۔ صرف وہی ممالک خاطر خواہ سرمایہ حاصل کر سکیں گے جو اصلاحات پر عملدرآمد، ادارہ جاتی استحکام اور منصوبوں کی تیاری کی صلاحیت ثابت کریں۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یورپی سرمایہ تک رسائی نہیں بلکہ اس کے لیے اہل ثابت ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود چند شعبے ایسے ہیں جہاں پاکستان گلوبل گیٹ وے کی ترجیحات کے ساتھ موثر طور پر ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ توانائی کی منتقلی ایسا ہی ایک شعبہ ہے۔ یورپ بالخصوص شمسی، ہوا اور ہائیڈروجن توانائی میں اپنی شراکت داری کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت، خاص طور پر ونڈ کوریڈورز اور شمسی گنجائش، ایک موزوں موقع فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ ریگولیٹری فریم ورک کو مستحکم کیا جائے اور سرکلر ڈیٹ کے خطرات پر قابو پایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات ایک اور اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کا بڑھتا ہوا ٹیک ٹیلنٹ بیس یورپی ڈیجیٹل ویلیو چینز میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ڈیٹا کے تحفظ کے مضبوط نظام اور یورپی یونین کے معیارات سے ہم آہنگ سرحد پار ڈیجیٹل معاہدوں کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کا شعبہ نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرچہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑنے کے حوالے سے نظریاتی طور پر نمایاں اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس صلاحیت کو عملی شکل دینے کے لیے علاقائی استحکام اور اندرونی انفرااسٹرکچر کی ہم آہنگی درکار ہے،اور یہ دونوں عوامل ابھی تک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک نظریاتی موقف ضرور موجود ہے کہ موجودہ سپلائی چین میں خلل یا خلیجی خطے سے سرمایہ کے ممکنہ انخلا کے باعث توجہ پاکستان جیسے متبادل بازاروں کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔ لیکن عملی طور پر سرمایہ غیر یقینی صورتحال میں نہیں آتا۔ اگر خلیجی خطے میں جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھتے ہیں تو عالمی سرمایہ کار عموماً زیادہ محفوظ معیشتوں کا رخ کرتے ہیں، نہ کہ ایسے بازاروں کا جہاں خطرات مساوی یا اس سے بھی زیادہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود محدود نوعیت کے کچھ مواقع سامنے آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر خلیجی خطے کے بعض حصوں میں لاجسٹکس روٹس یا آپریشنل بیسز متاثر ہوتے ہیں تو پاکستان کی بندرگاہی انفرااسٹرکچر، خاص طور پر کراچی اور گوادر، میں بتدریج دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح خوراک کے تحفظ جیسے شعبوں میں، جہاں خلیجی ممالک بیرونی شراکت داری کے خواہاں ہیں، پاکستانی ایگری بزنس برآمدات یا جوائنٹ وینچرز کے لیے محدود مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے گلوبل گیٹ وے اور آئندہ بزنس فورم سے اصل نتیجہ اخذ کرنے کی بات سرمایہ کے حجم نہیں بلکہ اس میں شامل شرائط ہیں۔ یورپ درحقیقت یہ پیغام دے رہا ہے کہ سرمایہ دستیاب ہے، مگر اس کا بہاؤ وہیں ہوگا جہاں خطرات کی مناسب قیمت لگائی گئی ہو اور گورننس طے شدہ معیار پر پوری اترتی ہو۔ یہ معیارات درحقیقت پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس ترجیحات پر مزید شرائط بھی عائد کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ کسی غیر معمولی فائدے کا لمحہ نہیں بلکہ ایک کڑا امتحان ہے۔ موقع حقیقی ہے، مگر نہ خودکار ہے اور نہ فوری۔ اس کے لیے وقتی معاملات سے ہٹ کر ساختی اصلاحات کی طرف پیش رفت ضروری ہے، خصوصاً پالیسی تسلسل، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور ادارہ جاتی ساکھ کے شعبوں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اسلام آباد اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ان اصلاحات کا واضح اشارہ دے، اور زیادہ اہم بات یہ کہ ان پر عملدرآمد بھی کرے، تو گلوبل گیٹ وے یورپ کی قیادت میں قائم سپلائی چینز میں شمولیت کے لیے ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی یونین کے 400 ارب یورو کے گلوبل گیٹ وے سرمایہ کاری پروگرام پر توجہ کے ساتھ، اسلام آباد 28-29 اپریل کو بلاک کے پہلے اعلیٰ سطح کے ’یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم‘ کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔</strong></p>
<p>اس پیش رفت کے ساتھ یہ سرکاری جوش و خروش بھی وابستہ ہے کہ یہ موقع پاکستان کے لیے موجودہ حد تک تجارتی شراکت داری سے آگے بڑھ کر یورپی یونین کے ساتھ سرمایہ کاری، تجارت اور کاروبار میں ایک اسٹریٹجک اور سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داری کی جانب پیش رفت کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم اس جوش کو ایک حقیقت پسندانہ جانچ اور بہتر فہم کی ضرورت ہے: یورپی یونین کا 400 ارب یورو کا گلوبل گیٹ وے سرمایہ کاری پروگرام دراصل کیا ہے اور یہ پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کا 400 ارب یورو کا گلوبل گیٹ وے اقدام اکثر چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے یورپی جواب کے طور پر دیکھا جاتا ہے، مگر یہ سادہ تعبیر اس کے اصل مقصد کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ بنیادی طور پر گلوبل گیٹ وے محض بڑے انفرااسٹرکچر اخراجات سے زیادہ، سپلائی چینز کے خطرات کم کرنے، اسٹریٹجک وسائل کو محفوظ بنانے اور شراکت دار معیشتوں میں یورپی ریگولیٹری اور پائیداری کے معیارات کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>2021 میں اعلان کیے گئے اس پروگرام کا مقصد 2027 تک سرکاری فنڈز، ڈویلپمنٹ فنانس اداروں اور نجی سرمایہ کے امتزاج کے ذریعے 300 سے 400 ارب یورو تک وسائل متحرک کرنا ہے۔ روایتی امداد یا چین کے ریاستی زیرِ قیادت مالیاتی ماڈل کے برعکس، گلوبل گیٹ وے کو ایسے ” بینک ایبل“ منصوبوں کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، یعنی وہ منصوبے جو گورننس، شفافیت، ماحولیاتی تقاضوں اور مالیاتی پائیداری کے سخت معیارات پر پورا اتریں۔ ترجیحی شعبوں میں صاف توانائی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ کوریڈورز، صحت کے نظام اور تعلیم شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ پیشکش بیک وقت پُرکشش بھی ہے اور مطالبہ کرنے والی بھی۔ یورپی یونین محض سرمایہ فراہم نہیں کر رہی بلکہ اپنے معاشی نظام میں شمولیت کی پیشکش کر رہی ہے، اگرچہ یورپی شرائط پر۔ اس کا مطلب ہے ای ایس جی فریم ورکس کی پاسداری، قانونی پیش گوئی، معاہدوں پر عملدرآمد اور پالیسیوں کا تسلسل۔ اس کے بدلے میں شراکت دار ممالک کو یورپی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے بہاؤ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>اسی تناظر میں اسلام آباد میں پہلے اعلیٰ سطح کے  یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم کا انعقاد ایک سوچا سمجھا تزویراتی رخ موڑنے کا اشارہ ہے۔ تجارت پر مرکوز تعلقات، جو تاریخی طور پر جی ایس پی پلس ترجیحات سے جڑے رہے، سے سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داری کی طرف یہ منتقلی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ صرف ترجیحی ٹیرف پاکستان کو بدلتی ہوئی عالمی سپلائی چینز میں موثر مقام دلانے کے لیے کافی نہیں۔</p>
<p>تاہم اس موقع کی حقیقت پسندی کو پاکستان کے موجودہ سرمایہ کاری ماحول کے تناظر میں جانچنا ضروری ہے۔ پاکستان میں یورپی سرمایہ کار کوئی نئے کھلاڑی نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط عملی تجربہ رکھنے والے دیرینہ شراکت دار ہیں۔ ان کا حالیہ رویہ، جس میں کاروبار سمیٹنا، محتاط سرمایہ کاری، یا مکمل انخلا شامل ہے، عارضی عوامل نہیں بلکہ ساختی مسائل کا نتیجہ ہے۔ مسلسل پالیسی غیر یقینی، زرمبادلہ کی ترسیل میں رکاوٹیں، ریگولیٹری عدم پیش گوئی اور گورننس کی کمزوریاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر چکی ہیں۔</p>
<p>اس تناظر میں گلوبل گیٹ وے کوئی ایسا نیا سرمایہ نہیں جو بغیر شرائط کے دستیاب ہو۔ درحقیقت یہ ایک طرح کا فلٹر ہے۔ صرف وہی ممالک خاطر خواہ سرمایہ حاصل کر سکیں گے جو اصلاحات پر عملدرآمد، ادارہ جاتی استحکام اور منصوبوں کی تیاری کی صلاحیت ثابت کریں۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یورپی سرمایہ تک رسائی نہیں بلکہ اس کے لیے اہل ثابت ہونا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود چند شعبے ایسے ہیں جہاں پاکستان گلوبل گیٹ وے کی ترجیحات کے ساتھ موثر طور پر ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ توانائی کی منتقلی ایسا ہی ایک شعبہ ہے۔ یورپ بالخصوص شمسی، ہوا اور ہائیڈروجن توانائی میں اپنی شراکت داری کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت، خاص طور پر ونڈ کوریڈورز اور شمسی گنجائش، ایک موزوں موقع فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ ریگولیٹری فریم ورک کو مستحکم کیا جائے اور سرکلر ڈیٹ کے خطرات پر قابو پایا جائے۔</p>
<p>اسی طرح ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات ایک اور اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کا بڑھتا ہوا ٹیک ٹیلنٹ بیس یورپی ڈیجیٹل ویلیو چینز میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ڈیٹا کے تحفظ کے مضبوط نظام اور یورپی یونین کے معیارات سے ہم آہنگ سرحد پار ڈیجیٹل معاہدوں کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کا شعبہ نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرچہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑنے کے حوالے سے نظریاتی طور پر نمایاں اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس صلاحیت کو عملی شکل دینے کے لیے علاقائی استحکام اور اندرونی انفرااسٹرکچر کی ہم آہنگی درکار ہے،اور یہ دونوں عوامل ابھی تک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکے۔</p>
<p>یہ ایک نظریاتی موقف ضرور موجود ہے کہ موجودہ سپلائی چین میں خلل یا خلیجی خطے سے سرمایہ کے ممکنہ انخلا کے باعث توجہ پاکستان جیسے متبادل بازاروں کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔ لیکن عملی طور پر سرمایہ غیر یقینی صورتحال میں نہیں آتا۔ اگر خلیجی خطے میں جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھتے ہیں تو عالمی سرمایہ کار عموماً زیادہ محفوظ معیشتوں کا رخ کرتے ہیں، نہ کہ ایسے بازاروں کا جہاں خطرات مساوی یا اس سے بھی زیادہ ہوں۔</p>
<p>اس کے باوجود محدود نوعیت کے کچھ مواقع سامنے آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر خلیجی خطے کے بعض حصوں میں لاجسٹکس روٹس یا آپریشنل بیسز متاثر ہوتے ہیں تو پاکستان کی بندرگاہی انفرااسٹرکچر، خاص طور پر کراچی اور گوادر، میں بتدریج دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح خوراک کے تحفظ جیسے شعبوں میں، جہاں خلیجی ممالک بیرونی شراکت داری کے خواہاں ہیں، پاکستانی ایگری بزنس برآمدات یا جوائنٹ وینچرز کے لیے محدود مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین کے گلوبل گیٹ وے اور آئندہ بزنس فورم سے اصل نتیجہ اخذ کرنے کی بات سرمایہ کے حجم نہیں بلکہ اس میں شامل شرائط ہیں۔ یورپ درحقیقت یہ پیغام دے رہا ہے کہ سرمایہ دستیاب ہے، مگر اس کا بہاؤ وہیں ہوگا جہاں خطرات کی مناسب قیمت لگائی گئی ہو اور گورننس طے شدہ معیار پر پوری اترتی ہو۔ یہ معیارات درحقیقت پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس ترجیحات پر مزید شرائط بھی عائد کر سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ کسی غیر معمولی فائدے کا لمحہ نہیں بلکہ ایک کڑا امتحان ہے۔ موقع حقیقی ہے، مگر نہ خودکار ہے اور نہ فوری۔ اس کے لیے وقتی معاملات سے ہٹ کر ساختی اصلاحات کی طرف پیش رفت ضروری ہے، خصوصاً پالیسی تسلسل، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور ادارہ جاتی ساکھ کے شعبوں میں۔</p>
<p>اگر اسلام آباد اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ان اصلاحات کا واضح اشارہ دے، اور زیادہ اہم بات یہ کہ ان پر عملدرآمد بھی کرے، تو گلوبل گیٹ وے یورپ کی قیادت میں قائم سپلائی چینز میں شمولیت کے لیے ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285215</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 15:41:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/18151635dbc7656.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/18151635dbc7656.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
