<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ کا روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں نرمی برقرار رکھنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285214/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں نرمی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کو ایک ماہ کے لیے پابندیوں میں استثنیٰ جاری کیا ہے جس کے تحت سمندر میں موجود روسی تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اقدام توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے پہلے سے کیے گئے فیصلے میں توسیع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ یہ لائسنس وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے دو دن بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن اس استثنیٰ  کی تجدید نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تازہ ترین اقدام کے تحت جمعہ تک کسی بھی بحری جہاز پر لدے ہوئے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کی اجازت 16 مئی کی صبح 12:01 بجے  تک ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ پابندیوں میں اس سے قبل دی گئی نرمی کی مدت کو بڑھاتا ہے جو 11 اپریل کو ختم ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بدھ کو بیسنٹ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکہ روسی تیل یا ایرانی تیل کے لیے ایسی کسی توسیع کا ارادہ نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں اقدامات کا مقصد ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی رسد کے جھٹکوں  کے اثرات کو کم کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا جو توانائی کی ترسیل کے لیے ایک کلیدی آبی گزرگاہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تب سے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس نے مختلف ممالک اور خاص طور پر خطے سے توانائی کی برآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں بھی پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے اس سال ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل گھرانوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس طرح کے استثنیٰ ان کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں جن کا مقصد روس کو اس تیل کی آمدنی سے محروم کرنا ہے جو اسے یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کے ڈیموکریٹس جین شاہین، چک شومر اور ایلزبیتھ وارن نے ایک مشترکہ بیان میں اس فیصلے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹرز نے کہا کہ یہ فیصلہ شرمناک ہے اور سیکرٹری بیسنٹ کے اس وعدے سے 180 ڈگری کا یوٹرن ہے جو انہوں نے صرف دو دن پہلے روس کے لیے پابندیوں میں ریلیف کی توسیع نہ کرنے کے حوالے سے کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کی جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں سے ایک پیوٹن ہے کیونکہ مارچ میں روس کے تیل کی آمدنی تقریباً دوگنا ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے واشنگٹن میں جی سیون کے مالیاتی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد فرانسیسی وزیرِ خزانہ رولینڈ لیسکیور نے اس بات پر زور دیا کہ ایران میں جو کچھ ہورہا ہے روس کو اس کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو بھی اس کا مظلوم فریق نہیں بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 2022 میں شروع ہونے والا یوکرین پر روس کا حملہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا مہلک ترین تنازع بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں نرمی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کو ایک ماہ کے لیے پابندیوں میں استثنیٰ جاری کیا ہے جس کے تحت سمندر میں موجود روسی تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اقدام توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے پہلے سے کیے گئے فیصلے میں توسیع ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ یہ لائسنس وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے دو دن بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن اس استثنیٰ  کی تجدید نہیں کرے گا۔</p>
<p>اس تازہ ترین اقدام کے تحت جمعہ تک کسی بھی بحری جہاز پر لدے ہوئے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کی اجازت 16 مئی کی صبح 12:01 بجے  تک ہو گی۔</p>
<p>یہ فیصلہ پابندیوں میں اس سے قبل دی گئی نرمی کی مدت کو بڑھاتا ہے جو 11 اپریل کو ختم ہوگئی تھی۔</p>
<p>تاہم بدھ کو بیسنٹ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکہ روسی تیل یا ایرانی تیل کے لیے ایسی کسی توسیع کا ارادہ نہیں رکھتا۔</p>
<p>ان دونوں اقدامات کا مقصد ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی رسد کے جھٹکوں  کے اثرات کو کم کرنا تھا۔</p>
<p>تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا جو توانائی کی ترسیل کے لیے ایک کلیدی آبی گزرگاہ ہے۔</p>
<p>تب سے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس نے مختلف ممالک اور خاص طور پر خطے سے توانائی کی برآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔</p>
<p>امریکہ میں بھی پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے اس سال ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل گھرانوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>تاہم، اس طرح کے استثنیٰ ان کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں جن کا مقصد روس کو اس تیل کی آمدنی سے محروم کرنا ہے جو اسے یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے درکار ہے۔</p>
<p>سینیٹ کے ڈیموکریٹس جین شاہین، چک شومر اور ایلزبیتھ وارن نے ایک مشترکہ بیان میں اس فیصلے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔</p>
<p>سینیٹرز نے کہا کہ یہ فیصلہ شرمناک ہے اور سیکرٹری بیسنٹ کے اس وعدے سے 180 ڈگری کا یوٹرن ہے جو انہوں نے صرف دو دن پہلے روس کے لیے پابندیوں میں ریلیف کی توسیع نہ کرنے کے حوالے سے کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کی جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں سے ایک پیوٹن ہے کیونکہ مارچ میں روس کے تیل کی آمدنی تقریباً دوگنا ہو گئی ہے۔</p>
<p>اس ہفتے واشنگٹن میں جی سیون کے مالیاتی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد فرانسیسی وزیرِ خزانہ رولینڈ لیسکیور نے اس بات پر زور دیا کہ ایران میں جو کچھ ہورہا ہے روس کو اس کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو بھی اس کا مظلوم فریق نہیں بننا چاہیے۔</p>
<p>یاد رہے کہ 2022 میں شروع ہونے والا یوکرین پر روس کا حملہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا مہلک ترین تنازع بن چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285214</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 15:16:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/18150525de737e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="1250" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/18150525de737e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
