<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوگرا نے 34 او ایم سیز کو تقریباً 38 ارب روپے کے پی ڈی سی جاری کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285198/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایندھن کی قیمتوں کو عوام کی پہنچ میں رکھنے کے حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کے طور پر 34 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو تقریباً 38 ارب روپے کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز (پی ڈی سی) کی ادائیگی کا عمل مکمل کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوگرا نے وفاقی حکومت کے فیصلے پر ایک ایسے طریقہ کار (میکانزم) کے ذریعے عملدرآمد کیا  جس کی حکومت نے باقاعدہ منظوری دی ہے۔ اس کا مقصد پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی تصدیق اور ان کے اجرا میں شفافیت، کارکردگی اور بروقتی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ فریم ورک جانچ پڑتال کے ایک منظم عمل کو یقینی بناتا ہے جس سے جائز اور اہل دعووں (کلیمز) کا تصفیہ تیزی سے ممکن ہو پاتا ہے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم  قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی حکومتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی تیل کی سپلائی چین سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام شہریوں کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بچانے کی کوشش میں، حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے 129 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا تھا۔ ان اقدامات کے لیے فنڈز کی فراہمی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیوں، کارکردگی میں بہتری اور بچت کی مہمات کے ذریعے ممکن بنائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے متنبہ کیا تھا کہ پرائس ڈیفرینشل کلیمز  کی ادائیگیوں میں طویل تاخیر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ورکنگ کیپٹل کے سرکل کو متاثر کر رہی ہے جنہیں ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل درآمدات کی مالی معاونت، انونٹری انتظام اور ترسیل کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم ڈویژن کو لکھے گئے ایک خط میں او سی اے سی نے موقف اختیار کیا کہ مقررہ وقت کے اندر ادائیگیاں مکمل طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں۔ واجب الادا رقوم میں 14 سے 20 مارچ کے تقریباً 23 ارب روپے (ہائی اسپیڈ ڈیزیل اور پیٹرول کا مجموعی اثر)، 21 سے 27 مارچ کے 48 ارب روپے اور 28 مارچ سے 2 اپریل کے 57 ارب روپے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایندھن کی قیمتوں کو عوام کی پہنچ میں رکھنے کے حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کے طور پر 34 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو تقریباً 38 ارب روپے کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز (پی ڈی سی) کی ادائیگی کا عمل مکمل کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>اوگرا نے وفاقی حکومت کے فیصلے پر ایک ایسے طریقہ کار (میکانزم) کے ذریعے عملدرآمد کیا  جس کی حکومت نے باقاعدہ منظوری دی ہے۔ اس کا مقصد پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی تصدیق اور ان کے اجرا میں شفافیت، کارکردگی اور بروقتی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ فریم ورک جانچ پڑتال کے ایک منظم عمل کو یقینی بناتا ہے جس سے جائز اور اہل دعووں (کلیمز) کا تصفیہ تیزی سے ممکن ہو پاتا ہے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p>اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم  قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی حکومتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی تیل کی سپلائی چین سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی بھی کرائی۔</p>
<p>عام شہریوں کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بچانے کی کوشش میں، حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے 129 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا تھا۔ ان اقدامات کے لیے فنڈز کی فراہمی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیوں، کارکردگی میں بہتری اور بچت کی مہمات کے ذریعے ممکن بنائی گئی تھی۔</p>
<p>آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے متنبہ کیا تھا کہ پرائس ڈیفرینشل کلیمز  کی ادائیگیوں میں طویل تاخیر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ورکنگ کیپٹل کے سرکل کو متاثر کر رہی ہے جنہیں ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل درآمدات کی مالی معاونت، انونٹری انتظام اور ترسیل کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔</p>
<p>پٹرولیم ڈویژن کو لکھے گئے ایک خط میں او سی اے سی نے موقف اختیار کیا کہ مقررہ وقت کے اندر ادائیگیاں مکمل طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں۔ واجب الادا رقوم میں 14 سے 20 مارچ کے تقریباً 23 ارب روپے (ہائی اسپیڈ ڈیزیل اور پیٹرول کا مجموعی اثر)، 21 سے 27 مارچ کے 48 ارب روپے اور 28 مارچ سے 2 اپریل کے 57 ارب روپے شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285198</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 11:27:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/18112041d67008a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/18112041d67008a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
