<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے 4 سال بعد یورو بانڈ کے ذریعے 500 ملین ڈالر اکٹھے کر لیے، خرم شہزاد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285191/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے بتایا ہے کہ پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں کامیاب واپسی کی ہے اور اپنے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) پروگرام کے تحت تین سالہ یورو بانڈ کے ذریعے 500 ملین ڈالر حاصل کرلیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس  پر اپنی پوسٹ میں خرم شہزاد نے لکھا کہ عالمی معاشی اور جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باوجود ان بانڈز میں سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی دکھائی جو پاکستان کے معاشی مستقبل پر ان کے اعتماد کی بحالی کا اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق بانڈ کی قیمت مسابقتی شرائط پر طے کی گئی ہے، جو بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں اور مستحکم ہوتی مالیاتی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ٹرانزیکشن سے پاکستان کے سویڈن ییلڈ کرو میں بہتری اور مستقبل میں عالمی مارکیٹ سے فنڈز کے حصول کے لیے قیمت کا ایک نیا معیار مقرر ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں یہ کامیاب واپسی بیرونی مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے اور قلیل مدتی فنڈنگ پر انحصار کم کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ خرم شہزاد نے مزید لکھا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست طلب حکومت کے نظم و ضبط پر مبنی قرضوں کے انتظام کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ خزانہ نے نوٹ کیا کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنے روابط کو مزید گہرا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آئندہ کے جی ایم ٹی این اور بین الاقوامی سوک پروگراموں کے لیے مالیاتی مشیروں کے تقرر کی تیاریاں جاری ہیں، جبکہ پانڈا بانڈ کے اقدام پر بھی کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی یورو بانڈ مارکیٹ میں یہ واپسی توانائی کی قیمتوں میں کمی اور بتدریج میکرو اکنامک استحکام کے درمیان ہوئی ہے، ان عوامل نے عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے خطرات کے تاثر کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ اس اقدام سے عالمی قرضہ مارکیٹوں میں پاکستان کی ساکھ مزید مستحکم ہوگی اور مستقبل میں زیادہ سازگار شرائط پر فنڈز جمع کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے بتایا ہے کہ پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں کامیاب واپسی کی ہے اور اپنے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) پروگرام کے تحت تین سالہ یورو بانڈ کے ذریعے 500 ملین ڈالر حاصل کرلیے ہیں۔</strong></p>
<p>ایکس  پر اپنی پوسٹ میں خرم شہزاد نے لکھا کہ عالمی معاشی اور جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باوجود ان بانڈز میں سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی دکھائی جو پاکستان کے معاشی مستقبل پر ان کے اعتماد کی بحالی کا اشارہ ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق بانڈ کی قیمت مسابقتی شرائط پر طے کی گئی ہے، جو بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں اور مستحکم ہوتی مالیاتی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ٹرانزیکشن سے پاکستان کے سویڈن ییلڈ کرو میں بہتری اور مستقبل میں عالمی مارکیٹ سے فنڈز کے حصول کے لیے قیمت کا ایک نیا معیار مقرر ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں یہ کامیاب واپسی بیرونی مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے اور قلیل مدتی فنڈنگ پر انحصار کم کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ خرم شہزاد نے مزید لکھا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست طلب حکومت کے نظم و ضبط پر مبنی قرضوں کے انتظام کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>یورو بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>مشیرِ خزانہ نے نوٹ کیا کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنے روابط کو مزید گہرا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آئندہ کے جی ایم ٹی این اور بین الاقوامی سوک پروگراموں کے لیے مالیاتی مشیروں کے تقرر کی تیاریاں جاری ہیں، جبکہ پانڈا بانڈ کے اقدام پر بھی کام جاری ہے۔</p>
<p>پاکستان کی یورو بانڈ مارکیٹ میں یہ واپسی توانائی کی قیمتوں میں کمی اور بتدریج میکرو اکنامک استحکام کے درمیان ہوئی ہے، ان عوامل نے عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے خطرات کے تاثر کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ اس اقدام سے عالمی قرضہ مارکیٹوں میں پاکستان کی ساکھ مزید مستحکم ہوگی اور مستقبل میں زیادہ سازگار شرائط پر فنڈز جمع کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285191</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 11:50:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/18121329fcdbc39.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/18121329fcdbc39.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
