<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:48:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:48:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی خطرے کے پیشِ نظر پاک فضائیہ نے ایرانی وفد کی وطن واپسی کے دوران حفاظتی حصار فراہم کیا، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285190/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذرائع کے مطابق پاکستان کی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے ساتھ غیر نتیجہ خیز امن مذاکرات سے واپس جانے والے ایرانی مذاکرات کاروں کو وطن واپسی کے دوران حفاظتی حصار فراہم کیا، جب ایرانی فریق نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل ان کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ایک بڑا سیکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا، جس کی تصدیق تین مختلف ذرائع نے رائٹرز کو کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس مشن کے دوران تقریباً دو درجن لڑاکا طیارے تعینات کیے، جبکہ فضائی نگرانی کے لیے ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (اے ڈبلیو اے سی ایس) بھی استعمال کیا گیا تاکہ اسلام آباد سے واپس جانے والے وفد کی فضائی حفاظت یقینی بنائی جا سکے، یہ بات دو پاکستانی ذرائع نے بتائی جو اس آپریشن سے واقف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ذریعے کے مطابق اگر ایرانی فریق آئندہ مذاکرات کے لیے اسی نوعیت کی سیکیورٹی کی درخواست کرے تو پاکستان دوبارہ بھی ایسا حفاظتی انتظام فراہم کرے گا، بصورتِ دیگر ایرانی وفد کو پاکستانی فضائی حدود میں ہی سیکیورٹی دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں مذاکرات سے وابستہ ایک تیسرے ذریعے نے بتایا کہ آئندہ ممکنہ دورِ مذاکرات کی تیاری پہلے ہی جاری ہے، جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ اسی ہفتے کے آخر میں ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”انہیں نشانہ بنایا جا سکتا تھا“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک علاقائی سفارت کار، جسے تہران نے اس معاملے پر بریفنگ دی تھی، نے بتایا کہ پاکستان نے یہ حفاظتی حصار اس وقت فراہم کیا جب ایرانی وفد نے سفر کے دوران کسی ممکنہ خطرے کے “فرضی امکان” کا ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وفد کے سفر کے دوران ممکنہ خطرے پر ہونے والی یہ بات چیت اور ایرانی حدود تک پاکستانی فضائی حصار کی موجودگی کی تفصیلات پہلے رپورٹ نہیں کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا، جبکہ جنیوا میں ایران کے مستقل مشن نے بھی اس حوالے سے مؤقف دینے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فضائیہ اور فوج نے بھی اس آپریشن سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا، جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بھی تبصرے کی درخواست پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا: ”جب مذاکرات ناکام ہوئے تو ایرانی فریق کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ معاملات ٹھیک نہیں گئے۔ ان کا گمان تھا کہ انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا: ”یہ ایک انتہائی بڑا آپریشن تھا اگر اسے پائلٹس کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔ آپ ایک ایسے وفد کی ذمہ داری لے رہے ہیں جو مذاکرات کے لیے آیا تھا، آپ انہیں فضائی تحفظ فراہم کر رہے ہیں، اور آپ کے پاس ایسے طاقتور لڑاکا طیارے ہیں جو کسی بھی خطرے کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے وابستہ ایک ذریعے نے، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ ترین سطح کی مصروفیت میں شامل تھا، فضائی حصار کی تصدیق کی تاہم آپریشن کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا: ”ہم نے انہیں تہران تک چھوڑا۔ ان کی سیکیورٹی ہماری ذمہ داری تھی، یہاں ان کے قیام سے بھی آگے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز ایران کے لیے کیے گئے اس مشن میں چین کے تیار کردہ جے-10 طیارے بھی شامل تھے، جو پاکستانی فضائیہ کے بیڑے کے جدید ترین جنگی طیارے ہیں، ایک اہلکار نے بتایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی حملوں کی فہرست&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وفد، جس کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے، جو سابق فوجی افسر اور سند یافتہ پائلٹ بھی ہیں، نے سیکیورٹی حصار کی درخواست کی تھی، جو معمول کے پروٹوکول سے کہیں زیادہ تھا، یہ بات دو سیکیورٹی ذرائع نے بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی سفارت کار کے مطابق ایرانی فریق نے اگرچہ باضابطہ درخواست نہیں دی، تاہم انہوں نے یہ امکان بھی رد نہیں کیا کہ اسرائیل طیارے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے بعد پاکستان نے خود اس حفاظتی حصار کی پیشکش پر اصرار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت کار نے بتایا کہ وفد کو تہران میں لینڈ نہیں کرایا گیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں اتارا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے عراقچی اور قالیباف کو اپنی حملوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا، تاہم پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے اس معاملے میں مداخلت کی تاکہ ان کے نام فہرست سے نکلوائے جائیں، کیونکہ اگر یہ رہنما موجود نہ رہتے تو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ پر مذاکرات کے لیے کوئی فریق باقی نہ رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ کہا تھا: ”میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے رہنما کو لائف انشورنس جاری نہیں کرتا،“ انہوں نے ایران کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا، ”میں یہاں یہ تفصیل نہیں بتاؤں گا کہ ہم کیا منصوبہ بنا رہے ہیں یا کیا کرنے جا رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے جنگ بندی پر رضامندی سے کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ”ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی، جو کبھی واپس نہیں آئے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی اور امریکی وفود، جن کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، کے پاکستان سے بغیر کسی نتیجے کے روانہ ہونے کے چند گھنٹے بعد ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ جنگ ”جلد ختم ہونی چاہیے“ اور اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں مزید مذاکرات ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ذرائع کے مطابق پاکستان کی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے ساتھ غیر نتیجہ خیز امن مذاکرات سے واپس جانے والے ایرانی مذاکرات کاروں کو وطن واپسی کے دوران حفاظتی حصار فراہم کیا، جب ایرانی فریق نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل ان کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ایک بڑا سیکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا، جس کی تصدیق تین مختلف ذرائع نے رائٹرز کو کی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان نے اس مشن کے دوران تقریباً دو درجن لڑاکا طیارے تعینات کیے، جبکہ فضائی نگرانی کے لیے ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (اے ڈبلیو اے سی ایس) بھی استعمال کیا گیا تاکہ اسلام آباد سے واپس جانے والے وفد کی فضائی حفاظت یقینی بنائی جا سکے، یہ بات دو پاکستانی ذرائع نے بتائی جو اس آپریشن سے واقف ہیں۔</p>
<p>ایک ذریعے کے مطابق اگر ایرانی فریق آئندہ مذاکرات کے لیے اسی نوعیت کی سیکیورٹی کی درخواست کرے تو پاکستان دوبارہ بھی ایسا حفاظتی انتظام فراہم کرے گا، بصورتِ دیگر ایرانی وفد کو پاکستانی فضائی حدود میں ہی سیکیورٹی دی جائے گی۔</p>
<p>مزید برآں مذاکرات سے وابستہ ایک تیسرے ذریعے نے بتایا کہ آئندہ ممکنہ دورِ مذاکرات کی تیاری پہلے ہی جاری ہے، جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ اسی ہفتے کے آخر میں ہو سکتا ہے۔</p>
<p><strong>”انہیں نشانہ بنایا جا سکتا تھا“</strong></p>
<p>تاہم ایک علاقائی سفارت کار، جسے تہران نے اس معاملے پر بریفنگ دی تھی، نے بتایا کہ پاکستان نے یہ حفاظتی حصار اس وقت فراہم کیا جب ایرانی وفد نے سفر کے دوران کسی ممکنہ خطرے کے “فرضی امکان” کا ذکر کیا۔</p>
<p>ایرانی وفد کے سفر کے دوران ممکنہ خطرے پر ہونے والی یہ بات چیت اور ایرانی حدود تک پاکستانی فضائی حصار کی موجودگی کی تفصیلات پہلے رپورٹ نہیں کی گئی تھیں۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا، جبکہ جنیوا میں ایران کے مستقل مشن نے بھی اس حوالے سے مؤقف دینے سے گریز کیا۔</p>
<p>پاکستانی فضائیہ اور فوج نے بھی اس آپریشن سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا، جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بھی تبصرے کی درخواست پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا: ”جب مذاکرات ناکام ہوئے تو ایرانی فریق کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ معاملات ٹھیک نہیں گئے۔ ان کا گمان تھا کہ انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا: ”یہ ایک انتہائی بڑا آپریشن تھا اگر اسے پائلٹس کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔ آپ ایک ایسے وفد کی ذمہ داری لے رہے ہیں جو مذاکرات کے لیے آیا تھا، آپ انہیں فضائی تحفظ فراہم کر رہے ہیں، اور آپ کے پاس ایسے طاقتور لڑاکا طیارے ہیں جو کسی بھی خطرے کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔“</p>
<p>مذاکرات سے وابستہ ایک ذریعے نے، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ ترین سطح کی مصروفیت میں شامل تھا، فضائی حصار کی تصدیق کی تاہم آپریشن کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا: ”ہم نے انہیں تہران تک چھوڑا۔ ان کی سیکیورٹی ہماری ذمہ داری تھی، یہاں ان کے قیام سے بھی آگے۔“</p>
<p>اتوار کے روز ایران کے لیے کیے گئے اس مشن میں چین کے تیار کردہ جے-10 طیارے بھی شامل تھے، جو پاکستانی فضائیہ کے بیڑے کے جدید ترین جنگی طیارے ہیں، ایک اہلکار نے بتایا ہے۔</p>
<p><strong>اسرائیلی حملوں کی فہرست</strong></p>
<p>ایرانی وفد، جس کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے، جو سابق فوجی افسر اور سند یافتہ پائلٹ بھی ہیں، نے سیکیورٹی حصار کی درخواست کی تھی، جو معمول کے پروٹوکول سے کہیں زیادہ تھا، یہ بات دو سیکیورٹی ذرائع نے بتائی۔</p>
<p>علاقائی سفارت کار کے مطابق ایرانی فریق نے اگرچہ باضابطہ درخواست نہیں دی، تاہم انہوں نے یہ امکان بھی رد نہیں کیا کہ اسرائیل طیارے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے بعد پاکستان نے خود اس حفاظتی حصار کی پیشکش پر اصرار کیا۔</p>
<p>سفارت کار نے بتایا کہ وفد کو تہران میں لینڈ نہیں کرایا گیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں اتارا گیا۔</p>
<p>اسرائیل نے عراقچی اور قالیباف کو اپنی حملوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا، تاہم پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے اس معاملے میں مداخلت کی تاکہ ان کے نام فہرست سے نکلوائے جائیں، کیونکہ اگر یہ رہنما موجود نہ رہتے تو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ پر مذاکرات کے لیے کوئی فریق باقی نہ رہتا۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ کہا تھا: ”میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے رہنما کو لائف انشورنس جاری نہیں کرتا،“ انہوں نے ایران کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا، ”میں یہاں یہ تفصیل نہیں بتاؤں گا کہ ہم کیا منصوبہ بنا رہے ہیں یا کیا کرنے جا رہے ہیں۔“</p>
<p>گزشتہ ہفتے جنگ بندی پر رضامندی سے کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ”ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی، جو کبھی واپس نہیں آئے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا۔“</p>
<p>ایرانی اور امریکی وفود، جن کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، کے پاکستان سے بغیر کسی نتیجے کے روانہ ہونے کے چند گھنٹے بعد ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ جنگ ”جلد ختم ہونی چاہیے“ اور اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں مزید مذاکرات ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285190</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 19:57:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/171943442e1232e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/171943442e1232e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
