<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں بجلی کی بندش میں دگنا اضافہ، پن بجلی کی پیداوار میں کمی نے سپلائی کے منصوبوں کو متاثر کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285188/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کی پیداوار میں کمی کے باعث رواں ہفتے پاکستان میں بجلی کا شارٹ فال دگنا ہو گیا ہے، جس سے ایران جنگ کی وجہ سے ایل این جی کی فراہمی میں تعطل اور لوڈ شیڈنگ کو کم کرنے کے حکومتی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ملک بھر میں بارشوں کے باعث آبپاشی کی طلب میں کمی کی وجہ سے صوبوں نے ڈیموں سے پانی نہیں مانگا، جس کے نتیجے میں پن بجلی کی پیداوار گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 48 فیصد کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کا شارٹ فال، جو اس ہفتے بڑھ کر3,400 میگاواٹ ہو گیا ہے، پاکستان کی کل طلب کے چھٹے حصے سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے رواں ہفتے شمالی پاکستان کے بعض حصوں میں چھ سے سات گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوئی اور ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام بھی متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جو ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہا ہے کو توقع تھی کہ اس تنازع کے باعث ایل این جی کی درآمد بند ہونے کا اثر 2022 میں روس یوکرین جنگ کے بعد ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے مقابلے میں کم ہوگا لیکن اس اندازے میں پن بجلی کی پیداوار میں ممکنہ کمی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے کہا کہ  ہم ایل این جی کی انتہائی مہنگی اسپاٹ قیمتیں برداشت نہیں کر سکتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ہائیڈرو پاور ہمیں سہارا دے گی لیکن اس کی پیداوار میں کمی آ گئی اور اسی وجہ سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کرنی پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ توانائی کو امید ہے کہ پن بجلی کی فراہمی میں بہتری آئے گی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی بہتری آئے گی اور نہ ہی کوئی حتمی وقت دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شمالی علاقوں تک محدود ہے اور یہ سولر (شمسی توانائی) کے اوقات کے علاوہ ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا فوری طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ملک لوڈ شیڈنگ کو کم سے کم رکھنے کے لیے فرنس آئل اور پن بجلی کی پیداوار کی بحالی پر ہی انحصار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے رائٹرز کو بتایا کہ  ایل این جی کارگو کو آف لوڈ کرنے اور ٹرمینل کے دیگر اخراجات اسپاٹ پرائس میں مزید 4 سے 5 ڈالر کا اضافہ کر دیتے ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ فرنس آئل تھوڑا سستا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بطور قوم خود کو اس تکلیف کو برداشت کرنے کے لیے تیار کیا ہے، تاکہ قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری ایل این جی کی فراہمی معطل ہونے کے بعد پاکستان کو 2,500 میگاواٹ تک شارٹ فال کا سامنا تھا، جسے فرنس آئل پلانٹس کو پوری صلاحیت پر چلا کر جزوی طور پر پورا کیا گیا تھا۔ لیکن اویس لغاری کے مطابق جیسے ہی پن بجلی کی پیداوار تقریباً آدھی رہ گئی اور 500 میگاواٹ کے مقامی گیس پلانٹس تکنیکی مسائل کی وجہ سے بند ہوئے تو یہ شارٹ فال بڑھ کر 3,400 میگاواٹ تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس خام تیل کے کافی ذخائر موجود ہیں جنہیں صاف کر کے قلیل مدت کے لیے ایندھن (فیول آئل) حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ جیسے ہی صوبوں نے مون سون کی فصلوں کی بوائی کے لیے پانی لینا شروع کیا پن بجلی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کی پیداوار میں کمی کے باعث رواں ہفتے پاکستان میں بجلی کا شارٹ فال دگنا ہو گیا ہے، جس سے ایران جنگ کی وجہ سے ایل این جی کی فراہمی میں تعطل اور لوڈ شیڈنگ کو کم کرنے کے حکومتی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>اویس لغاری نے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ملک بھر میں بارشوں کے باعث آبپاشی کی طلب میں کمی کی وجہ سے صوبوں نے ڈیموں سے پانی نہیں مانگا، جس کے نتیجے میں پن بجلی کی پیداوار گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 48 فیصد کم رہی۔</p>
<p>بجلی کا شارٹ فال، جو اس ہفتے بڑھ کر3,400 میگاواٹ ہو گیا ہے، پاکستان کی کل طلب کے چھٹے حصے سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے رواں ہفتے شمالی پاکستان کے بعض حصوں میں چھ سے سات گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوئی اور ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام بھی متاثر ہوا۔</p>
<p>پاکستان، جو ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہا ہے کو توقع تھی کہ اس تنازع کے باعث ایل این جی کی درآمد بند ہونے کا اثر 2022 میں روس یوکرین جنگ کے بعد ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے مقابلے میں کم ہوگا لیکن اس اندازے میں پن بجلی کی پیداوار میں ممکنہ کمی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>اویس لغاری نے کہا کہ  ہم ایل این جی کی انتہائی مہنگی اسپاٹ قیمتیں برداشت نہیں کر سکتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ہائیڈرو پاور ہمیں سہارا دے گی لیکن اس کی پیداوار میں کمی آ گئی اور اسی وجہ سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p>وزیرِ توانائی کو امید ہے کہ پن بجلی کی فراہمی میں بہتری آئے گی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی بہتری آئے گی اور نہ ہی کوئی حتمی وقت دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شمالی علاقوں تک محدود ہے اور یہ سولر (شمسی توانائی) کے اوقات کے علاوہ ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا فوری طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ملک لوڈ شیڈنگ کو کم سے کم رکھنے کے لیے فرنس آئل اور پن بجلی کی پیداوار کی بحالی پر ہی انحصار کرے گا۔</p>
<p>اویس لغاری نے رائٹرز کو بتایا کہ  ایل این جی کارگو کو آف لوڈ کرنے اور ٹرمینل کے دیگر اخراجات اسپاٹ پرائس میں مزید 4 سے 5 ڈالر کا اضافہ کر دیتے ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ فرنس آئل تھوڑا سستا پڑے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بطور قوم خود کو اس تکلیف کو برداشت کرنے کے لیے تیار کیا ہے، تاکہ قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ نہ ہو۔</p>
<p>قطری ایل این جی کی فراہمی معطل ہونے کے بعد پاکستان کو 2,500 میگاواٹ تک شارٹ فال کا سامنا تھا، جسے فرنس آئل پلانٹس کو پوری صلاحیت پر چلا کر جزوی طور پر پورا کیا گیا تھا۔ لیکن اویس لغاری کے مطابق جیسے ہی پن بجلی کی پیداوار تقریباً آدھی رہ گئی اور 500 میگاواٹ کے مقامی گیس پلانٹس تکنیکی مسائل کی وجہ سے بند ہوئے تو یہ شارٹ فال بڑھ کر 3,400 میگاواٹ تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اویس لغاری نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس خام تیل کے کافی ذخائر موجود ہیں جنہیں صاف کر کے قلیل مدت کے لیے ایندھن (فیول آئل) حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ جیسے ہی صوبوں نے مون سون کی فصلوں کی بوائی کے لیے پانی لینا شروع کیا پن بجلی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285188</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 18:55:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/17184738aafd8e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/17184738aafd8e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
