<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ تنازع: سپلائی شاک اور آئی ایم ایف پالیسی- حصہ اوّل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285184/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے جاری موسم بہار کے اجلاسوں کے سلسلے میں منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے 9 اپریل کے ابتدائی خطاب کو، جو رکن ممالک کے ساتھ ادارے کی پہلی بڑی باضابطہ بات چیت بھی تھا اور مشرقِ وسطیٰ تنازع کے آغاز کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آیا، نہ صرف ردعمل کے وقت کے حوالے سے نمایاں ”تاخیر“ کا عکاس قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ یہ خطاب خود عالمی معاشی منظرنامے کے لیے ”مایوس کن“ اور حتیٰ کہ ”خطرناک“ بھی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ یہ بات بھی تقریباً واضح ہوتی ہے کہ یہ صورتِ حال اس سے پہلے پیدا ہونے والے بڑے سپلائی شاک ( رسد میں اچانک خلل)،جو کووڈ-19 وبا اور یوکرین جنگ کے نتیجے میں سامنے آیا تھا، میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے پالیسی ردِعمل سے پیدا ہونے والے تحفظات سے کسی بھی سبق کے نہ سیکھنے کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ رجحان کئی دہائیوں پر محیط  نہ سیکھنے کے مسئلے کو مزید نمایاں کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیجنگ ڈائریکٹر کے ابتدائی خطاب میں دیے گئے بیانات اس مایوسی کے اسباب کے حوالے سے خاصے واضح ہیں، جہاں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے ممالک کو کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی اختیار کرنے میں مدد دینے کے بجائے، خصوصاً خالص تیل درآمد کرنے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے، جن میں سے متعدد پہلے ہی شدید قرض کے بحران کا شکار ہیں، جیسا کہ منیجنگ ڈائریکٹر نے خود اپنے خطاب میں نشاندہی کی،اس بات پر زور دیا گیا کہ امداد صرف اسی حد تک فراہم کی جائے جو ان کی مالی گنجائش (فِسکل اسپیس) اجازت دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات پر قیمتوں کو بگاڑنے والے ٹیکسوں میں کمی کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ توجہ بنیادی طور پر تیل پر دی جانے والی سبسڈی تک محدود رہی، اور یہ موقف اختیار کیا گیا کہ سبسڈی کم سے کم اور عارضی ہونی چاہیے، حالانکہ یہ بالکل واضح ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی حکومتی صلاحیتوں کی محدودیت کے باعث ہدف شدہ سبسڈی کے مؤثر اور قابلِ اعتماد نفاذ میں سنگین عملی کمزوریاں پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیجنگ ڈائریکٹر کے الفاظ کے مطابق ان پہلوؤں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ”ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ …چونکہ یہ ایک کلاسیکی منفی سپلائی شاک (رسد میں اچانک منفی خلل) ہے، اس لیے طلب میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے۔ …لہٰذا میں تمام ممالک سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ تنہا اقدامات، برآمدی پابندیاں، قیمتوں پر کنٹرول اور اسی نوعیت کی دیگر پالیسیوں سے گریز کریں جو عالمی حالات کو مزید بگاڑ سکتی ہیں۔ …اصل چیلنج یہ ہوگا کہ کب اور کس صورت میں بدلتے ہوئے حالات ہمیں عالمی معیشت کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں لے جاتے ہیں، اس کی بروقت نشاندہی کی جائے۔ فی الحال انتظار اور مشاہدے کی پالیسی میں قدر ہے، جبکہ مرکزی بینکوں کو قیمتوں کے استحکام کے عزم کو نمایاں رکھنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اگر ساکھ (کریڈیبلٹی) پر سوال اٹھے تو زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ مالیاتی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے درمیانی مدت کے مالیاتی فریم ورک کے مطابق کمزور طبقات کے لیے ہدفی اور عارضی مدد فراہم کریں۔ اس کے بعد اگر مہنگائی کی توقعات بے قابو ہونے لگیں اور مہنگائی کے ایک مہنگے سلسلے کو جنم دیں، تو مرکزی بینکوں کو شرح سود میں اضافے کے ذریعے سخت مداخلت کرنی چاہیے۔ مالی معاونت بھی ہدفی اور عارضی ہونی چاہیے۔ شرح سود میں اضافہ یقیناً معاشی نمو کو مزید سست کرے گا، یہی اس کا اثر ہے، اور قیمتوں کے استحکام کے لیے یہی درست قیمت ہے۔ آخر میں، اگر مالیاتی حالات میں شدید سختی پیدا ہو تو یہ سپلائی شاک کے ساتھ ایک اضافی منفی طلب شاک پیدا کرتی ہے، جس کے بعد مانیٹری پالیسی ایک بار پھر نازک توازن کے عمل میں داخل ہو جاتی ہے، جبکہ مالیاتی پالیسی، اگر اور صرف اگر مالی گنجائش موجود ہو، تو محتاط انداز میں طلب کی معاونت کی طرف جا سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے حکومتوں کو ادائیگیِ توازن ( بیلنس آف پیمنٹس) کی معاونت، بجٹ کے لیے ایس ڈی آر (خصوصی ڈرائنگ رائٹس) کی مدد، اور پروگرام ممالک کو ٹیکس کی بنیاد تیزی اور مضبوطی سے وسیع کرنے، نیز زیادہ آمدنی اور ترقی پسند ٹیکس نظام کی طرف منتقلی کی ترغیب دینے کے ذریعے، ترقی پذیر ممالک کو مجموعی طور پر کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی اختیار کرنے میں مدد دینے اور (جائز طور پر) مہنگائی سے نمٹنے کی کوشش کی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر اس تناظر میں کہ یہ عمل کمزور ہوتی ہوئی معاشی نمو اور مجموعی طور پر اسٹیگ فلیشن (کمزور معاشی ترقی کے ساتھ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ) کے خطرے میں اضافہ کر رہا ہے، تاہم اس کے برعکس مجموعی طلب کے انتظام ( ایگریگیٹ ڈیمانڈ مینجمنٹ) پر مبنی روایتی پالیسی نسخہ افسوسناک طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا منیجنگ ڈائریکٹر کے اس مشورے کے برعکس کہ ”تمام ممالک کو تنہا اقدامات سے گریز کرنا چاہیے“، ممالک کو ایسے طریقے اور حدود اختیار کرنے چاہییں جو انہیں کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی اپنانے اور ضروری حد تک قیمتوں پر کنٹرول لگانے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری درآمدات پر انتظامی پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی کے مناسب نفاذ کے باوجود جو معاشی نمو کم ہو جاتی ہے، وہی دراصل قیمتوں کے استحکام کے لیے ”درست قیمت“ ہے، نہ کہ وہ غیر ضروری قربانی جو حد سے زیادہ مانیٹری اور مالیاتی سختی (کفایت شعاری) کی پالیسیوں کے نتیجے میں نمو کو نقصان پہنچا کر لی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر منیجنگ ڈائریکٹر ایک زیادہ اصلاح پسند نقطۂ نظر اختیار کرتے ہوئے پروگرام ممالک پر پرائمری سرپلس سے متعلق اہداف پورے کرنے کے دباؤ میں نرمی پر بھی زور دے سکتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے چیف اکانومسٹ پیئراولیور گورینشاس بھی آئی ایم ایف کے اس مایوس کن ”کم سیکھنے“ والے رویے میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے تحت ادارہ زیادہ تر اپنی روایتی نیوکلاسیکل اور اس سے قریبی تعلق رکھنے والی نیولبرل اور مالیاتی سختی ( کفایت شعاری) پر مبنی پالیسی کے موقف کو دہراتا رہتا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے، حالانکہ اسی پالیسی کا معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں معیشت کی مزاحمتی صلاحیت ( ریزیلئنس) کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا یہ مؤقف درست ہے کہ دنیا مجموعی طور پر اتنی لچکدار ثابت ہوئی ہے کہ کساد بازاری سے بچ گئی ہے، تاہم یہ نتیجہ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو درست ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک صدموں، خصوصاً تیل سے متعلق جھٹکوں، کو برداشت کرنے کے حوالے سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کہیں کم تیار ہیں، اور خود ترقی یافتہ ممالک بھی اس حوالے سے ابھی کافی فاصلے پر ہیں۔ ایسے میں کسی بھی طویل عرصے تک جاری رہنے والا معاشی جھٹکا نہ صرف کساد بازاری کی طرف لے جا سکتا ہے بلکہ اسٹیگ فلیشن (کمزور معاشی نمو کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی) کی صورتحال بھی پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا اسٹیگ فلیشن کے حوالے سے ردِعمل اس کے پریس بریفنگ میں، بالخصوص چیف اکانومسٹ سمیت دیگر حکام کے بیانات میں، خاصا غیر تسلی بخش رہا، جہاں ایک سوال کے جواب میں کہ ”اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع مزید بڑھتا ہے تو کیا اس ممکنہ اسٹیگ فلیشن سے بچنے کے لیے ماضی سے کوئی سبق حاصل کیا جا سکتا ہے؟“ پیئراولیور گورینشاس بظاہر آئی ایم ایف کے روایتی بنیادی نقطۂ نظر ہی پر مرکوز رہے، یعنی زیادہ تر مہنگائی( انفلیشن) پر توجہ، جبکہ نمو (گروتھ) یا قوتِ خرید سے متعلق وہ پہلو، جو اسٹیگ فلیشن میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں، نسبتاً نظرانداز رہے، نہ صرف یہ کہ رسد کی جانب سے پیدا ہونے والی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی واضح پالیسی سپورٹ سامنے نہ آئی، بلکہ بوجھ زیادہ تر مرکزی بینکوں پر ڈال دیا گیا کہ وہ مجموعی طلب کو کم کر کے مہنگائی کو نیچے لائیں۔ ان کے جواب میں یہ موقف شامل تھا: ”لہٰذا میں نے اپنی بات میں کہا کہ یقیناً مرکزی بینک تیل کی قیمت پر کچھ نہیں کر سکتے، لیکن وہ یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ اجرتوں اور قیمتوں کے درمیان چکر ( ویج پرائس اسپائرل ) نہ بننے دیں اور مہنگائی کی توقعات کو غیر مستحکم ہونے سے روکیں، اور ان سے یہی توقع کی جاتی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے تاخیر کے پہلو کو دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کا تنازع 28 فروری کو شروع ہوا، جبکہ آئی ایم ایف کا پہلی باضابطہ ردِعمل مارچ کے پہلے ہفتے میں سامنے آیا، 3 مارچ کو جاری کئے گئے ایک بیان ”انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا مشرقِ وسطیٰ پر بیان“ کے ذریعے، جس میں یہ کہا گیا کہ موجودہ صورتحال پہلے ہی سے غیر یقینی عالمی معاشی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور ایک جامع جائزہ بعد میں اپریل کے عالمی معاشی آؤٹ لک میں پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں 30 مارچ کو شائع ہونے والے ایک مضمون ”مشرقِ وسطیٰ کی جنگ توانائی، تجارت اور مالیات پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے“ میں بھی اس تنازع کے اثرات کو عمومی نوعیت کی سطح پر ہی بیان کیا گیا، جبکہ پالیسی ردِعمل یا ممالک کے لیے عملی رہنمائی، اور یہ کہ آئی ایم ایف مالی معاونت فراہم کرے گا یا نہیں، اس بارے میں کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی عالمی مالیاتی پالیسی اور مالیاتی منڈیوں میں مرکزی حیثیت کے پیش نظر، اس کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ، خصوصاً آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش جیسے انتہائی حساس منظرنامے میں، نہ صرف معاشی پالیسی سازی کے لیے اہم ہوتا بلکہ تنازع کے براہِ راست فریقین پر ایک اضافی دباؤ کا باعث بھی بن سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ، اپنی باری میں، ہر فریق کے سیاسی حلقوں پر یہ دباؤ بڑھا سکتا تھا کہ وہ تنازع کے حل کی طرف پیش رفت کریں، اور اس کے ساتھ ساتھ زیادہ ڈیٹا پر مبنی منظرنامے، جیسے کہ اس وقت موسم بہار کے اجلاسوں میں پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اگر تنازع طویل ہو جائے، مختصر ہو یا جلد ختم ہو جائے تو اس کے کیا اثرات ہوں گے—زیادہ مربوط عوامی بحث اور سیاسی قیادت کے فیصلوں کو مزید واضح سمت دے سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنا ہرگز نہیں کہ اس معلومات کے بغیر اس تنازع کے معیشت اور انسانی زندگی پر ممکنہ سنگین اثرات کے بارے میں کوئی وضاحت موجود نہیں تھی، تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے اگر ممکنہ اثرات کی زیادہ مخصوص تفصیلات،مثلاً معاشی نمو، افراطِ زر اور بے روزگاری پر اثرات کے تخمینے،فراہم کیے جاتے تو اس سے نہ صرف پالیسی سازی میں زیادہ وضاحت پیدا ہوتی بلکہ سیاسی فیصلوں پر دباؤ بھی بڑھتا، اور میڈیا و عوامی سطح پر سوالات اٹھانے کی بنیاد بھی مضبوط ہوتی، خصوصاً ان فریقین کی قیادت سے جو اس تنازع میں براہِ راست شامل ہیں، بلکہ عمومی طور پر بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم معلومات کی فراہمی میں تاخیر اس وقت مزید گہری مایوسی میں بدل گئی جب آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ابتدائی خطاب اور بعد ازاں عالمی و علاقائی معیشت اور مالیاتی منڈیوں پر ادارے کی پیشکشوں میں زیادہ تر ممکنہ معاشی منظرناموں کا عمومی جائزہ ہی پیش کیا گیا، ساتھ ہی مالی گنجائش کی حدود پر زور دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ سپلائی شاک کے تناظر میں کم آمدنی والے طبقے کی کھپت کے تحفظ کے لیے صرف محدود اور ہدفی سبسڈیز دی جانی چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ممالک کو مالیاتی احتیاط اور نظم و ضبط کے حوالے سے یہ باتیں پہلے ہی بخوبی معلوم ہیں اور یہ یقیناً مفید بھی ہیں، لیکن اصل توقع آئی ایم ایف سے یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف پالیسی مشوروں تک محدود نہ رہے بلکہ خاص طور پر خالص تیل درآمد کرنے والے ابھرتے ہوئے معیشتوں اور کم آمدنی والے ممالک کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کرے—جو کہ حیران کن طور پر اس بار بھی سامنے نہیں آئی، خصوصاً ایسے وقت میں جب سپلائی شاک صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد جیسے شعبوں تک بھی پھیل چکا ہے، جس کے یہ معیشتیں اپنی توانائی اور زرعی بنیاد کی وجہ سے براہِ راست شدید اثرات برداشت کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(جاری ہے)&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے جاری موسم بہار کے اجلاسوں کے سلسلے میں منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے 9 اپریل کے ابتدائی خطاب کو، جو رکن ممالک کے ساتھ ادارے کی پہلی بڑی باضابطہ بات چیت بھی تھا اور مشرقِ وسطیٰ تنازع کے آغاز کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آیا، نہ صرف ردعمل کے وقت کے حوالے سے نمایاں ”تاخیر“ کا عکاس قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ یہ خطاب خود عالمی معاشی منظرنامے کے لیے ”مایوس کن“ اور حتیٰ کہ ”خطرناک“ بھی ہے۔</strong></p>
<p>اس کے علاوہ یہ بات بھی تقریباً واضح ہوتی ہے کہ یہ صورتِ حال اس سے پہلے پیدا ہونے والے بڑے سپلائی شاک ( رسد میں اچانک خلل)،جو کووڈ-19 وبا اور یوکرین جنگ کے نتیجے میں سامنے آیا تھا، میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے پالیسی ردِعمل سے پیدا ہونے والے تحفظات سے کسی بھی سبق کے نہ سیکھنے کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ رجحان کئی دہائیوں پر محیط  نہ سیکھنے کے مسئلے کو مزید نمایاں کرتا ہے۔</p>
<p>منیجنگ ڈائریکٹر کے ابتدائی خطاب میں دیے گئے بیانات اس مایوسی کے اسباب کے حوالے سے خاصے واضح ہیں، جہاں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے ممالک کو کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی اختیار کرنے میں مدد دینے کے بجائے، خصوصاً خالص تیل درآمد کرنے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے، جن میں سے متعدد پہلے ہی شدید قرض کے بحران کا شکار ہیں، جیسا کہ منیجنگ ڈائریکٹر نے خود اپنے خطاب میں نشاندہی کی،اس بات پر زور دیا گیا کہ امداد صرف اسی حد تک فراہم کی جائے جو ان کی مالی گنجائش (فِسکل اسپیس) اجازت دے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات پر قیمتوں کو بگاڑنے والے ٹیکسوں میں کمی کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ توجہ بنیادی طور پر تیل پر دی جانے والی سبسڈی تک محدود رہی، اور یہ موقف اختیار کیا گیا کہ سبسڈی کم سے کم اور عارضی ہونی چاہیے، حالانکہ یہ بالکل واضح ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی حکومتی صلاحیتوں کی محدودیت کے باعث ہدف شدہ سبسڈی کے مؤثر اور قابلِ اعتماد نفاذ میں سنگین عملی کمزوریاں پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔</p>
<p>منیجنگ ڈائریکٹر کے الفاظ کے مطابق ان پہلوؤں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ”ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ …چونکہ یہ ایک کلاسیکی منفی سپلائی شاک (رسد میں اچانک منفی خلل) ہے، اس لیے طلب میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے۔ …لہٰذا میں تمام ممالک سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ تنہا اقدامات، برآمدی پابندیاں، قیمتوں پر کنٹرول اور اسی نوعیت کی دیگر پالیسیوں سے گریز کریں جو عالمی حالات کو مزید بگاڑ سکتی ہیں۔ …اصل چیلنج یہ ہوگا کہ کب اور کس صورت میں بدلتے ہوئے حالات ہمیں عالمی معیشت کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں لے جاتے ہیں، اس کی بروقت نشاندہی کی جائے۔ فی الحال انتظار اور مشاہدے کی پالیسی میں قدر ہے، جبکہ مرکزی بینکوں کو قیمتوں کے استحکام کے عزم کو نمایاں رکھنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اگر ساکھ (کریڈیبلٹی) پر سوال اٹھے تو زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ مالیاتی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے درمیانی مدت کے مالیاتی فریم ورک کے مطابق کمزور طبقات کے لیے ہدفی اور عارضی مدد فراہم کریں۔ اس کے بعد اگر مہنگائی کی توقعات بے قابو ہونے لگیں اور مہنگائی کے ایک مہنگے سلسلے کو جنم دیں، تو مرکزی بینکوں کو شرح سود میں اضافے کے ذریعے سخت مداخلت کرنی چاہیے۔ مالی معاونت بھی ہدفی اور عارضی ہونی چاہیے۔ شرح سود میں اضافہ یقیناً معاشی نمو کو مزید سست کرے گا، یہی اس کا اثر ہے، اور قیمتوں کے استحکام کے لیے یہی درست قیمت ہے۔ آخر میں، اگر مالیاتی حالات میں شدید سختی پیدا ہو تو یہ سپلائی شاک کے ساتھ ایک اضافی منفی طلب شاک پیدا کرتی ہے، جس کے بعد مانیٹری پالیسی ایک بار پھر نازک توازن کے عمل میں داخل ہو جاتی ہے، جبکہ مالیاتی پالیسی، اگر اور صرف اگر مالی گنجائش موجود ہو، تو محتاط انداز میں طلب کی معاونت کی طرف جا سکتی ہے۔“</p>
<p>مہنگائی کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے حکومتوں کو ادائیگیِ توازن ( بیلنس آف پیمنٹس) کی معاونت، بجٹ کے لیے ایس ڈی آر (خصوصی ڈرائنگ رائٹس) کی مدد، اور پروگرام ممالک کو ٹیکس کی بنیاد تیزی اور مضبوطی سے وسیع کرنے، نیز زیادہ آمدنی اور ترقی پسند ٹیکس نظام کی طرف منتقلی کی ترغیب دینے کے ذریعے، ترقی پذیر ممالک کو مجموعی طور پر کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی اختیار کرنے میں مدد دینے اور (جائز طور پر) مہنگائی سے نمٹنے کی کوشش کی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر اس تناظر میں کہ یہ عمل کمزور ہوتی ہوئی معاشی نمو اور مجموعی طور پر اسٹیگ فلیشن (کمزور معاشی ترقی کے ساتھ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ) کے خطرے میں اضافہ کر رہا ہے، تاہم اس کے برعکس مجموعی طلب کے انتظام ( ایگریگیٹ ڈیمانڈ مینجمنٹ) پر مبنی روایتی پالیسی نسخہ افسوسناک طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>لہٰذا منیجنگ ڈائریکٹر کے اس مشورے کے برعکس کہ ”تمام ممالک کو تنہا اقدامات سے گریز کرنا چاہیے“، ممالک کو ایسے طریقے اور حدود اختیار کرنے چاہییں جو انہیں کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی اپنانے اور ضروری حد تک قیمتوں پر کنٹرول لگانے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری درآمدات پر انتظامی پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی کے مناسب نفاذ کے باوجود جو معاشی نمو کم ہو جاتی ہے، وہی دراصل قیمتوں کے استحکام کے لیے ”درست قیمت“ ہے، نہ کہ وہ غیر ضروری قربانی جو حد سے زیادہ مانیٹری اور مالیاتی سختی (کفایت شعاری) کی پالیسیوں کے نتیجے میں نمو کو نقصان پہنچا کر لی جاتی ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر منیجنگ ڈائریکٹر ایک زیادہ اصلاح پسند نقطۂ نظر اختیار کرتے ہوئے پروگرام ممالک پر پرائمری سرپلس سے متعلق اہداف پورے کرنے کے دباؤ میں نرمی پر بھی زور دے سکتی تھیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے چیف اکانومسٹ پیئراولیور گورینشاس بھی آئی ایم ایف کے اس مایوس کن ”کم سیکھنے“ والے رویے میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے تحت ادارہ زیادہ تر اپنی روایتی نیوکلاسیکل اور اس سے قریبی تعلق رکھنے والی نیولبرل اور مالیاتی سختی ( کفایت شعاری) پر مبنی پالیسی کے موقف کو دہراتا رہتا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے کاؤنٹر سائیکلیکل پالیسی پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے، حالانکہ اسی پالیسی کا معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں معیشت کی مزاحمتی صلاحیت ( ریزیلئنس) کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ہوتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا یہ مؤقف درست ہے کہ دنیا مجموعی طور پر اتنی لچکدار ثابت ہوئی ہے کہ کساد بازاری سے بچ گئی ہے، تاہم یہ نتیجہ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو درست ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک صدموں، خصوصاً تیل سے متعلق جھٹکوں، کو برداشت کرنے کے حوالے سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کہیں کم تیار ہیں، اور خود ترقی یافتہ ممالک بھی اس حوالے سے ابھی کافی فاصلے پر ہیں۔ ایسے میں کسی بھی طویل عرصے تک جاری رہنے والا معاشی جھٹکا نہ صرف کساد بازاری کی طرف لے جا سکتا ہے بلکہ اسٹیگ فلیشن (کمزور معاشی نمو کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی) کی صورتحال بھی پیدا کر سکتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>آئی ایم ایف کا اسٹیگ فلیشن کے حوالے سے ردِعمل اس کے پریس بریفنگ میں، بالخصوص چیف اکانومسٹ سمیت دیگر حکام کے بیانات میں، خاصا غیر تسلی بخش رہا، جہاں ایک سوال کے جواب میں کہ ”اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع مزید بڑھتا ہے تو کیا اس ممکنہ اسٹیگ فلیشن سے بچنے کے لیے ماضی سے کوئی سبق حاصل کیا جا سکتا ہے؟“ پیئراولیور گورینشاس بظاہر آئی ایم ایف کے روایتی بنیادی نقطۂ نظر ہی پر مرکوز رہے، یعنی زیادہ تر مہنگائی( انفلیشن) پر توجہ، جبکہ نمو (گروتھ) یا قوتِ خرید سے متعلق وہ پہلو، جو اسٹیگ فلیشن میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں، نسبتاً نظرانداز رہے، نہ صرف یہ کہ رسد کی جانب سے پیدا ہونے والی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی واضح پالیسی سپورٹ سامنے نہ آئی، بلکہ بوجھ زیادہ تر مرکزی بینکوں پر ڈال دیا گیا کہ وہ مجموعی طلب کو کم کر کے مہنگائی کو نیچے لائیں۔ ان کے جواب میں یہ موقف شامل تھا: ”لہٰذا میں نے اپنی بات میں کہا کہ یقیناً مرکزی بینک تیل کی قیمت پر کچھ نہیں کر سکتے، لیکن وہ یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ اجرتوں اور قیمتوں کے درمیان چکر ( ویج پرائس اسپائرل ) نہ بننے دیں اور مہنگائی کی توقعات کو غیر مستحکم ہونے سے روکیں، اور ان سے یہی توقع کی جاتی ہے۔”</p>
<p>سب سے پہلے تاخیر کے پہلو کو دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کا تنازع 28 فروری کو شروع ہوا، جبکہ آئی ایم ایف کا پہلی باضابطہ ردِعمل مارچ کے پہلے ہفتے میں سامنے آیا، 3 مارچ کو جاری کئے گئے ایک بیان ”انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا مشرقِ وسطیٰ پر بیان“ کے ذریعے، جس میں یہ کہا گیا کہ موجودہ صورتحال پہلے ہی سے غیر یقینی عالمی معاشی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور ایک جامع جائزہ بعد میں اپریل کے عالمی معاشی آؤٹ لک میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>بعد ازاں 30 مارچ کو شائع ہونے والے ایک مضمون ”مشرقِ وسطیٰ کی جنگ توانائی، تجارت اور مالیات پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے“ میں بھی اس تنازع کے اثرات کو عمومی نوعیت کی سطح پر ہی بیان کیا گیا، جبکہ پالیسی ردِعمل یا ممالک کے لیے عملی رہنمائی، اور یہ کہ آئی ایم ایف مالی معاونت فراہم کرے گا یا نہیں، اس بارے میں کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی عالمی مالیاتی پالیسی اور مالیاتی منڈیوں میں مرکزی حیثیت کے پیش نظر، اس کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ، خصوصاً آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش جیسے انتہائی حساس منظرنامے میں، نہ صرف معاشی پالیسی سازی کے لیے اہم ہوتا بلکہ تنازع کے براہِ راست فریقین پر ایک اضافی دباؤ کا باعث بھی بن سکتا تھا۔</p>
<p>یہ، اپنی باری میں، ہر فریق کے سیاسی حلقوں پر یہ دباؤ بڑھا سکتا تھا کہ وہ تنازع کے حل کی طرف پیش رفت کریں، اور اس کے ساتھ ساتھ زیادہ ڈیٹا پر مبنی منظرنامے، جیسے کہ اس وقت موسم بہار کے اجلاسوں میں پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اگر تنازع طویل ہو جائے، مختصر ہو یا جلد ختم ہو جائے تو اس کے کیا اثرات ہوں گے—زیادہ مربوط عوامی بحث اور سیاسی قیادت کے فیصلوں کو مزید واضح سمت دے سکتے تھے۔</p>
<p>یہ کہنا ہرگز نہیں کہ اس معلومات کے بغیر اس تنازع کے معیشت اور انسانی زندگی پر ممکنہ سنگین اثرات کے بارے میں کوئی وضاحت موجود نہیں تھی، تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے اگر ممکنہ اثرات کی زیادہ مخصوص تفصیلات،مثلاً معاشی نمو، افراطِ زر اور بے روزگاری پر اثرات کے تخمینے،فراہم کیے جاتے تو اس سے نہ صرف پالیسی سازی میں زیادہ وضاحت پیدا ہوتی بلکہ سیاسی فیصلوں پر دباؤ بھی بڑھتا، اور میڈیا و عوامی سطح پر سوالات اٹھانے کی بنیاد بھی مضبوط ہوتی، خصوصاً ان فریقین کی قیادت سے جو اس تنازع میں براہِ راست شامل ہیں، بلکہ عمومی طور پر بھی۔</p>
<p>تاہم معلومات کی فراہمی میں تاخیر اس وقت مزید گہری مایوسی میں بدل گئی جب آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ابتدائی خطاب اور بعد ازاں عالمی و علاقائی معیشت اور مالیاتی منڈیوں پر ادارے کی پیشکشوں میں زیادہ تر ممکنہ معاشی منظرناموں کا عمومی جائزہ ہی پیش کیا گیا، ساتھ ہی مالی گنجائش کی حدود پر زور دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ سپلائی شاک کے تناظر میں کم آمدنی والے طبقے کی کھپت کے تحفظ کے لیے صرف محدود اور ہدفی سبسڈیز دی جانی چاہییں۔</p>
<p>اگرچہ ممالک کو مالیاتی احتیاط اور نظم و ضبط کے حوالے سے یہ باتیں پہلے ہی بخوبی معلوم ہیں اور یہ یقیناً مفید بھی ہیں، لیکن اصل توقع آئی ایم ایف سے یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف پالیسی مشوروں تک محدود نہ رہے بلکہ خاص طور پر خالص تیل درآمد کرنے والے ابھرتے ہوئے معیشتوں اور کم آمدنی والے ممالک کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کرے—جو کہ حیران کن طور پر اس بار بھی سامنے نہیں آئی، خصوصاً ایسے وقت میں جب سپلائی شاک صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد جیسے شعبوں تک بھی پھیل چکا ہے، جس کے یہ معیشتیں اپنی توانائی اور زرعی بنیاد کی وجہ سے براہِ راست شدید اثرات برداشت کرتی ہیں۔</p>
<p>(جاری ہے)</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285184</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 17:09:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1716223091cf438.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1716223091cf438.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
