<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی ذہانت سے لیس افرادی قوت کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285172/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کا گوگل کے ساتھ ’اے آئی سیکھو 2026‘ اقدام کے لیے تعاون پالیسی سازی کے عزائم اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے انقلاب کے درمیان ہم آہنگی کے ایک نادر موقع کی نشاندہی کرتا ہے۔ حال ہی میں وزارتِ آئی ٹی اور صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے شروع کیے گئے اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید ٹولز، کلاؤڈ کریڈٹس اور منظم سیکھنے کے ذرائع تک مفت رسائی فراہم کی جا رہی ہے جس سے وہ مالی رکاوٹیں ختم ہورہی ہیں جو اکثر کم آمدنی والے نوجوانوں کو اعلیٰ درجے کی تکنیکی تربیت سے دور رکھتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء کے لیے اس پروگرام کا آغاز ایک آن لائن مرحلے سے ہوتا ہے جس کی توجہ ’جنریٹو اے آئی‘ میں مہارت حاصل کرنے اور ’گوگل اے آئی اسٹوڈیو‘ کے ذریعے پروٹو ٹائپنگ پر مرکوز ہے۔ اس کے بعد بڑے شہروں میں بالمشافہ ہیکاتھونز منعقد ہوں گی جہاں وہ حقیقی دنیا کے مسائل کے حل تیار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی سیکھو کا یہ ڈیزائن، جس میں آن لائن مہارتوں کی تعمیر کو حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے مسابقتی عمل کے ساتھ جوڑا گیا ہے، اس بڑھتے ہوئے احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کام کی تخلیق، تقسیم اور اس کی قدر کے انداز کو بدل رہی ہے۔ یہ اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے کہ اس تبدیلی کے ساتھ قدم ملانے کے لیے انسانی سرمائے (انسانی وسائل) میں فوری سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عجلت یا ضرورت کی اہمیت کو کم کر کے نہیں بیان کیا جا سکتا۔ فنانس اور مارکیٹنگ سے لے کر سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ تک، مختلف صنعتوں میں وہ ابتدائی سطح کے کام جو روایتی طور پر نئے گریجویٹس کو سونپے جاتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیزی سے خودکار  کیے جارہے ہیں۔ اس کا مفہوم بالکل واضح ہے: مستحکم ملازمت کے حصول کے لیے چار سالہ کالج ڈگری کا روایتی وعدہ اب کمزور پڑرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی جگہ اب مہارتوں کا ایک نیا نظام ابھر رہا ہے جس کی بنیاد اے آئی (AI) کی روانی، ڈیٹا پر مبنی سوچ اور ذہین نظاموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت پر ہے۔ اسی لیے ’اے آئی سیکھو 2026‘ جیسے اقدامات مکمل طور پر خوش آئند اور تیزی سے ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ جدید تکنیکی صلاحیتوں کی طرف شعوری طور پر رخ موڑے بغیر، پاکستان کو ایک ایسی نسل تیار کرنے کے خطرے کا سامنا ہے جو ایک ایسی جاب مارکیٹ کے لیے تعلیم یافتہ تو ہوگی جو اب وجود ہی نہیں رکھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں جس مسئلے کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات ایک ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جو ساختی طور پر محدود ہے۔ پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم اب بھی تیزی سے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے پیچھے ہے، جہاں اکثر عملی اور بین الشعبہ جاتی سیکھنے کے بجائے نظریاتی تدریس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس خلیج میں تحقیق اور اختراع  میں دائمی سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے مزید اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے جامعات اور تربیتی ادارے ایسے گریجویٹس پیدا کرنے کے لیے نااہل ہو چکے ہیں جو جدید تکنیکی شعبوں میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ ملک کا سب سے باصلاحیت ٹیک ٹیلنٹ (تکنیکی مہارت رکھنے والے افراد) مسلسل مقامی مارکیٹ سے باہر جا رہا ہے جنہیں بیرونِ ملک زیادہ تنخواہیں، کیریئر کی واضح راہیں، زیادہ مستحکم معاشی ماحول اور جدید ترین ٹیکنالوجی و تحقیقی نظام تک رسائی اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ نتیجتاً، ایک طرف جہاں اے آئی سے لیس مہارتوں کی طلب بڑھ رہی ہے، وہیں ہمارا نظام ان مہارتوں کی تعمیر اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے ضروری ٹیلنٹ کو خود سے وابستہ رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دباؤ میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی کمی اور پالیسیوں پر عملدرآمد کے فقدان کی وجہ سے مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اعلیٰ معیار کی براڈ بینڈ انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی غیر متوازن ہے جبکہ ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ وسائل اور اے آئی کے لیے مخصوص ڈیٹا سینٹرز کی عدم موجودگی آئی ٹی خدمات کو ایک محدود حد سے آگے بڑھانے کی صلاحیت کو مقید کردیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹری کنٹرول اور ڈیجیٹل پابندیوں پر حد سے زیادہ زور اختراع اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ اگرچہ حال ہی میں ہونے والی 5G اسپیکٹرم کی نیلامی رابطے کی رکاوٹوں میں کچھ ریلیف فراہم کرتی ہے، لیکن جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے لیے مجموعی سرمایہ کاری کا ماحول اب بھی غیر واضح ہے۔ گزشتہ جولائی میں منظور شدہ نیشنل اے آئی پالیسی پر عملدرآمد کی رفتار بھی سست رہی ہے اور اس کے بلند بانگ اہداف ابھی تک ٹھوس نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور بنیادی ڈھانچے کے اس ساختی خلا کو پُر کرنا افرادی قوت کی کسی بھی بامعنی تبدیلی کے لیے ضروری ہوگا۔ جدید ڈیجیٹل معیشت کی تیاری کے لیے محض سرٹیفیکیشن پر مبنی سیکھنے کے عمل سے آگے نکلنا ہوگا، اور اے آئی  کی خواندگی، ڈیٹا پر مبنی سوچ اور کمپیوٹر کے ذریعے مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو صرف کمپیوٹر سائنس تک محدود رکھنے کے بجائے تمام تعلیمی شعبوں میں شامل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات اور تربیتی اداروں کو لائیو پراجیکٹس، انٹرن شپس اور نصاب کی تیزی سے اپ ڈیٹ کے ذریعے صنعت (انڈسٹری) کے ساتھ قریبی ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مہارتیں تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ پروان چڑھیں نہ کہ ان سے پیچھے رہ جائیں۔ اسی طرح مسلسل سیکھنے کے عمل کے لیے راستے بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ایسی مارکیٹ میں جہاں ٹولز سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں بدل جاتے ہیں، وہاں نئی مہارتیں سیکھنا ایک معمول بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے بڑے پیمانے پر آن لائن پلیٹ فارمز، آجروں کے زیرِ انتظام تربیت، اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان ایسی شراکت داری کی ضرورت ہے جو ڈیجیٹل مہارتوں کو ایک وقتی تعلیمی قابلیت کے بجائے ایک مسلسل سرمایہ کاری کے طور پر دیکھے۔ اس تبدیلی کے بغیر تعلیم اور روزگار کے حصول کی صلاحیت کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوتی جائے گی اور اس بات کا خطرہ بڑھ جائے گا کہ ایک نوجوان اور بڑھتی ہوئی افرادی قوت تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے سامنے غیر متعلقہ ہوکر رہ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کا گوگل کے ساتھ ’اے آئی سیکھو 2026‘ اقدام کے لیے تعاون پالیسی سازی کے عزائم اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے انقلاب کے درمیان ہم آہنگی کے ایک نادر موقع کی نشاندہی کرتا ہے۔ حال ہی میں وزارتِ آئی ٹی اور صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے شروع کیے گئے اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید ٹولز، کلاؤڈ کریڈٹس اور منظم سیکھنے کے ذرائع تک مفت رسائی فراہم کی جا رہی ہے جس سے وہ مالی رکاوٹیں ختم ہورہی ہیں جو اکثر کم آمدنی والے نوجوانوں کو اعلیٰ درجے کی تکنیکی تربیت سے دور رکھتی ہیں۔</strong></p>
<p>شرکاء کے لیے اس پروگرام کا آغاز ایک آن لائن مرحلے سے ہوتا ہے جس کی توجہ ’جنریٹو اے آئی‘ میں مہارت حاصل کرنے اور ’گوگل اے آئی اسٹوڈیو‘ کے ذریعے پروٹو ٹائپنگ پر مرکوز ہے۔ اس کے بعد بڑے شہروں میں بالمشافہ ہیکاتھونز منعقد ہوں گی جہاں وہ حقیقی دنیا کے مسائل کے حل تیار کریں گے۔</p>
<p>اے آئی سیکھو کا یہ ڈیزائن، جس میں آن لائن مہارتوں کی تعمیر کو حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے مسابقتی عمل کے ساتھ جوڑا گیا ہے، اس بڑھتے ہوئے احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کام کی تخلیق، تقسیم اور اس کی قدر کے انداز کو بدل رہی ہے۔ یہ اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے کہ اس تبدیلی کے ساتھ قدم ملانے کے لیے انسانی سرمائے (انسانی وسائل) میں فوری سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔</p>
<p>اس عجلت یا ضرورت کی اہمیت کو کم کر کے نہیں بیان کیا جا سکتا۔ فنانس اور مارکیٹنگ سے لے کر سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ تک، مختلف صنعتوں میں وہ ابتدائی سطح کے کام جو روایتی طور پر نئے گریجویٹس کو سونپے جاتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیزی سے خودکار  کیے جارہے ہیں۔ اس کا مفہوم بالکل واضح ہے: مستحکم ملازمت کے حصول کے لیے چار سالہ کالج ڈگری کا روایتی وعدہ اب کمزور پڑرہا ہے۔</p>
<p>اس کی جگہ اب مہارتوں کا ایک نیا نظام ابھر رہا ہے جس کی بنیاد اے آئی (AI) کی روانی، ڈیٹا پر مبنی سوچ اور ذہین نظاموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت پر ہے۔ اسی لیے ’اے آئی سیکھو 2026‘ جیسے اقدامات مکمل طور پر خوش آئند اور تیزی سے ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ جدید تکنیکی صلاحیتوں کی طرف شعوری طور پر رخ موڑے بغیر، پاکستان کو ایک ایسی نسل تیار کرنے کے خطرے کا سامنا ہے جو ایک ایسی جاب مارکیٹ کے لیے تعلیم یافتہ تو ہوگی جو اب وجود ہی نہیں رکھتی۔</p>
<p>ہمیں جس مسئلے کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات ایک ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جو ساختی طور پر محدود ہے۔ پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم اب بھی تیزی سے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے پیچھے ہے، جہاں اکثر عملی اور بین الشعبہ جاتی سیکھنے کے بجائے نظریاتی تدریس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس خلیج میں تحقیق اور اختراع  میں دائمی سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے مزید اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے جامعات اور تربیتی ادارے ایسے گریجویٹس پیدا کرنے کے لیے نااہل ہو چکے ہیں جو جدید تکنیکی شعبوں میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔</p>
<p>اسی کے ساتھ ملک کا سب سے باصلاحیت ٹیک ٹیلنٹ (تکنیکی مہارت رکھنے والے افراد) مسلسل مقامی مارکیٹ سے باہر جا رہا ہے جنہیں بیرونِ ملک زیادہ تنخواہیں، کیریئر کی واضح راہیں، زیادہ مستحکم معاشی ماحول اور جدید ترین ٹیکنالوجی و تحقیقی نظام تک رسائی اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ نتیجتاً، ایک طرف جہاں اے آئی سے لیس مہارتوں کی طلب بڑھ رہی ہے، وہیں ہمارا نظام ان مہارتوں کی تعمیر اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے ضروری ٹیلنٹ کو خود سے وابستہ رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔</p>
<p>ان دباؤ میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی کمی اور پالیسیوں پر عملدرآمد کے فقدان کی وجہ سے مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اعلیٰ معیار کی براڈ بینڈ انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی غیر متوازن ہے جبکہ ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ وسائل اور اے آئی کے لیے مخصوص ڈیٹا سینٹرز کی عدم موجودگی آئی ٹی خدمات کو ایک محدود حد سے آگے بڑھانے کی صلاحیت کو مقید کردیتی ہے۔</p>
<p>ریگولیٹری کنٹرول اور ڈیجیٹل پابندیوں پر حد سے زیادہ زور اختراع اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ اگرچہ حال ہی میں ہونے والی 5G اسپیکٹرم کی نیلامی رابطے کی رکاوٹوں میں کچھ ریلیف فراہم کرتی ہے، لیکن جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے لیے مجموعی سرمایہ کاری کا ماحول اب بھی غیر واضح ہے۔ گزشتہ جولائی میں منظور شدہ نیشنل اے آئی پالیسی پر عملدرآمد کی رفتار بھی سست رہی ہے اور اس کے بلند بانگ اہداف ابھی تک ٹھوس نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکے ہیں۔</p>
<p>تعلیم ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور بنیادی ڈھانچے کے اس ساختی خلا کو پُر کرنا افرادی قوت کی کسی بھی بامعنی تبدیلی کے لیے ضروری ہوگا۔ جدید ڈیجیٹل معیشت کی تیاری کے لیے محض سرٹیفیکیشن پر مبنی سیکھنے کے عمل سے آگے نکلنا ہوگا، اور اے آئی  کی خواندگی، ڈیٹا پر مبنی سوچ اور کمپیوٹر کے ذریعے مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو صرف کمپیوٹر سائنس تک محدود رکھنے کے بجائے تمام تعلیمی شعبوں میں شامل کرنا ہوگا۔</p>
<p>جامعات اور تربیتی اداروں کو لائیو پراجیکٹس، انٹرن شپس اور نصاب کی تیزی سے اپ ڈیٹ کے ذریعے صنعت (انڈسٹری) کے ساتھ قریبی ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مہارتیں تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ پروان چڑھیں نہ کہ ان سے پیچھے رہ جائیں۔ اسی طرح مسلسل سیکھنے کے عمل کے لیے راستے بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ایسی مارکیٹ میں جہاں ٹولز سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں بدل جاتے ہیں، وہاں نئی مہارتیں سیکھنا ایک معمول بننا چاہیے۔</p>
<p>اس کے لیے بڑے پیمانے پر آن لائن پلیٹ فارمز، آجروں کے زیرِ انتظام تربیت، اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان ایسی شراکت داری کی ضرورت ہے جو ڈیجیٹل مہارتوں کو ایک وقتی تعلیمی قابلیت کے بجائے ایک مسلسل سرمایہ کاری کے طور پر دیکھے۔ اس تبدیلی کے بغیر تعلیم اور روزگار کے حصول کی صلاحیت کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوتی جائے گی اور اس بات کا خطرہ بڑھ جائے گا کہ ایک نوجوان اور بڑھتی ہوئی افرادی قوت تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے سامنے غیر متعلقہ ہوکر رہ جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285172</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 12:42:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/17123354325800f.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/17123354325800f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
