<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 15:11:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 15:11:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایل این جی کی سپلائی بحال نہ ہونے تک لوڈشیڈنگ جاری رہے گی، وزیر توانائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285153/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایل این جی  کی فراہمی بحال ہونے تک ملک میں پیک اوقات کے دوران لوڈشیڈنگ جاری رہے گی، کیونکہ قطر کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے باعث اس وقت گیس دستیاب نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی نے واضح کیا کہ یہ صورتحال کے الیکٹرک اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے علاقوں پر لاگو نہیں ہوتی، جہاں بجلی کی پیداوار وافر ہے اور صرف اکنامک لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ تاہم سسٹم کی تکنیکی رکاوٹوں کے باعث جنوبی علاقوں سے شمال تک بجلی منتقل نہیں کی جا سکتی، کیونکہ بیس لوڈ 14,000 میگاواٹ سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جاری لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی وجوہات میں ایندھن کی کمی، ہائیڈرو پاور کی کم پیداوار اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت بجلی کا شارٹ فال تقریباً 4,500 میگاواٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے بتایا کہ ایل این جی کی عدم دستیابی سے 3,200 میگاواٹ جبکہ ہائیڈرو پاور میں کمی سے مزید 1,600 میگاواٹ کی کمی ہوئی، جس سے بجلی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگلا اور تربیلا ڈیمز سے پانی کے کم اخراج کے باعث ہائیڈرو پاور متاثر ہوئی، جبکہ حالیہ بارشوں سے زرعی پانی کی طلب میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی کے مطابق اپریل میں بجلی کی طلب 9,000 سے 20,000 میگاواٹ کے درمیان رہی، اور جب طلب 16,500 میگاواٹ سے بڑھتی ہے تو لوڈشیڈنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہائیڈرو پاور میں بہتری کے ساتھ لوڈشیڈنگ بتدریج ختم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت مہنگے فرنس آئل سے 1,400 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہی ہے تاکہ شارٹ فال کم کیا جا سکے، تاہم اس سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں فی یونٹ 1.30 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی نے کہا کہ اگر اکنامک لوڈ مینجمنٹ ختم کر دی جائے تو گردشی قرضے میں تقریباً 400 ارب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دکانیں جلد بند کرنے جیسے اقدامات سے 1,200 میگاواٹ تک بجلی کی بچت ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ موجودہ بحران عارضی ہے اور عالمی حالات میں بہتری، ایل این جی کی بحالی اور ہائیڈرو پاور میں اضافے سے جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایل این جی  کی فراہمی بحال ہونے تک ملک میں پیک اوقات کے دوران لوڈشیڈنگ جاری رہے گی، کیونکہ قطر کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے باعث اس وقت گیس دستیاب نہیں۔</strong></p>
<p>پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی نے واضح کیا کہ یہ صورتحال کے الیکٹرک اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے علاقوں پر لاگو نہیں ہوتی، جہاں بجلی کی پیداوار وافر ہے اور صرف اکنامک لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ تاہم سسٹم کی تکنیکی رکاوٹوں کے باعث جنوبی علاقوں سے شمال تک بجلی منتقل نہیں کی جا سکتی، کیونکہ بیس لوڈ 14,000 میگاواٹ سے کم ہے۔</p>
<p>انہوں نے جاری لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی وجوہات میں ایندھن کی کمی، ہائیڈرو پاور کی کم پیداوار اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت بجلی کا شارٹ فال تقریباً 4,500 میگاواٹ ہے۔</p>
<p>اویس لغاری نے بتایا کہ ایل این جی کی عدم دستیابی سے 3,200 میگاواٹ جبکہ ہائیڈرو پاور میں کمی سے مزید 1,600 میگاواٹ کی کمی ہوئی، جس سے بجلی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگلا اور تربیلا ڈیمز سے پانی کے کم اخراج کے باعث ہائیڈرو پاور متاثر ہوئی، جبکہ حالیہ بارشوں سے زرعی پانی کی طلب میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>وزیر توانائی کے مطابق اپریل میں بجلی کی طلب 9,000 سے 20,000 میگاواٹ کے درمیان رہی، اور جب طلب 16,500 میگاواٹ سے بڑھتی ہے تو لوڈشیڈنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہائیڈرو پاور میں بہتری کے ساتھ لوڈشیڈنگ بتدریج ختم ہو جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت مہنگے فرنس آئل سے 1,400 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہی ہے تاکہ شارٹ فال کم کیا جا سکے، تاہم اس سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں فی یونٹ 1.30 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>وزیر توانائی نے کہا کہ اگر اکنامک لوڈ مینجمنٹ ختم کر دی جائے تو گردشی قرضے میں تقریباً 400 ارب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دکانیں جلد بند کرنے جیسے اقدامات سے 1,200 میگاواٹ تک بجلی کی بچت ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ موجودہ بحران عارضی ہے اور عالمی حالات میں بہتری، ایل این جی کی بحالی اور ہائیڈرو پاور میں اضافے سے جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285153</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 09:12:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/17090940972bda7.webp" type="image/webp" medium="image" height="278" width="497">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/17090940972bda7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
