<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:52:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:52:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل اور لبنان نے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285146/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو دونوں ممالک کے درمیان ”پائیدار امن“ کے حصول کے لیے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے “انتہائی مثبت” گفتگو کی ہے، جنہوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کے لیے 10 روزہ جنگ بندی منگل شام 5 بجے (ای ایس ٹی) سے شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق منگل کو واشنگٹن میں دونوں ممالک کے درمیان 34 برس میں پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین رازن کین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر دیرپا امن کے لیے کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وہ دنیا میں اب تک نو جنگوں کے خاتمے میں کردار ادا کر چکے ہیں اور یہ ان کی دسویں کامیابی ہوگی، “چلیے، اسے مکمل کرتے ہیں!”&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/16205709b11fe8c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/16205709b11fe8c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنانی صدر جوزف عون نے جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پہلی ٹیلیفونک گفتگو میں اپنے ملک کے لیے جنگ بندی میں مدد کی اپیل کی، جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ لبنان میں امن ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا، ”لبنان میں امن (ایران سے متعلق) امن مذاکرات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں بدھ کی رات ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ”کچھ مہلت“ ( بریدنگ روم) پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر جوزف عون کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کی دوپہر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے الگ الگ گفتگو کی اور لبنان میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے رہنماؤں کے درمیان تقریباً 34 برس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، اور ”یہ کل ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے درمیان غیر معمولی ملاقات ہوئی، تاہم نیتن یاہو اور عون کے درمیان ممکنہ رابطہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہوگا، جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے حالتِ جنگ میں رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عون نے جنگ کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم لبنان کا مؤقف ہے کہ مذاکرات سے پہلے جنگ بندی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو اس سے قبل جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے ”قدرتی نقطۂ آغاز“ ہوگی، جبکہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا ایک ”بنیادی قدم“ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو دونوں ممالک کے درمیان ”پائیدار امن“ کے حصول کے لیے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے “انتہائی مثبت” گفتگو کی ہے، جنہوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کے لیے 10 روزہ جنگ بندی منگل شام 5 بجے (ای ایس ٹی) سے شروع کی جائے گی۔</p>
<p>ٹرمپ کے مطابق منگل کو واشنگٹن میں دونوں ممالک کے درمیان 34 برس میں پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین رازن کین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر دیرپا امن کے لیے کام کریں۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وہ دنیا میں اب تک نو جنگوں کے خاتمے میں کردار ادا کر چکے ہیں اور یہ ان کی دسویں کامیابی ہوگی، “چلیے، اسے مکمل کرتے ہیں!”</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/16205709b11fe8c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/16205709b11fe8c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنانی صدر جوزف عون نے جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پہلی ٹیلیفونک گفتگو میں اپنے ملک کے لیے جنگ بندی میں مدد کی اپیل کی، جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ لبنان میں امن ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا، ”لبنان میں امن (ایران سے متعلق) امن مذاکرات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔“</p>
<p>واشنگٹن میں بدھ کی رات ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ”کچھ مہلت“ ( بریدنگ روم) پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>صدر جوزف عون کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کی دوپہر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے الگ الگ گفتگو کی اور لبنان میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے رہنماؤں کے درمیان تقریباً 34 برس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، اور ”یہ کل ہوگا۔“</p>
<p>منگل کے روز واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے درمیان غیر معمولی ملاقات ہوئی، تاہم نیتن یاہو اور عون کے درمیان ممکنہ رابطہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہوگا، جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے حالتِ جنگ میں رہے ہیں۔</p>
<p>عون نے جنگ کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم لبنان کا مؤقف ہے کہ مذاکرات سے پہلے جنگ بندی ہونی چاہیے۔</p>
<p>جمعرات کو اس سے قبل جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے ”قدرتی نقطۂ آغاز“ ہوگی، جبکہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا ایک ”بنیادی قدم“ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285146</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 22:08:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/162107380e2f4c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/162107380e2f4c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
