<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285140/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 278.95 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 278.96 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی ڈالر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مارچ کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا کیوں  کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر اُمید نے عالمی منڈی میں خطرے سے بچنے کے رجحان کو کم کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ خاتمے کے قریب ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور ممکنہ طور پر دوبارہ پاکستان میں ہو سکتا ہے، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1808 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3569 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا، دونوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور یہ فروری کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب رہے۔ ڈالر انڈیکس 98.027 پر مستحکم رہا، تاہم یہ مسلسل آٹھ سیشنز سے کمی کے رجحان میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ اب جنگ کے رسک پریمیم کو کم کر رہی ہے اور سرمایہ کار زیادہ خطرناک اثاثوں کی طرف واپس جا رہے ہیں، جس سے ڈالر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر میں بھی بہتری دیکھی گئی، جبکہ جاپانی ین معمولی مضبوط ہوا۔ آف شور چینی کرنسی بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے بہتر رہی، عالمی معاشی اعداد و شمار کے اجرا سے قبل مارکیٹ محتاط رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں جمعرات  کوخام تیل کی قیمتوں میں خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی اور ابتدائی مندی کے بعد قیمتیں مستحکم رہیں۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات ہیں، جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ جیسے اہم پیداواری خطے سے تیل کی رسد متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی وقت کے مطابق صبح 06:11 بجے برینٹ کروڈ کے سودے 26 سینٹس کی کمی کے ساتھ 94.67 ڈالر فی بیرل پر دیکھے گئے۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  کی قیمت 14 سینٹس کے اضافے سے 91.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بدھ کو بھی کاروبار کے اختتام پر دونوں بینچ مارکس میں معمولی تبدیلی دیکھی گئی تھی، تاہم پورے دن کے دوران قیمتوں میں کافی اتار چڑھاؤ رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 278.95 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 278.96 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>ادھر امریکی ڈالر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مارچ کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا کیوں  کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر اُمید نے عالمی منڈی میں خطرے سے بچنے کے رجحان کو کم کردیا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ خاتمے کے قریب ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور ممکنہ طور پر دوبارہ پاکستان میں ہو سکتا ہے، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p>یورو 1.1808 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3569 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا، دونوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور یہ فروری کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب رہے۔ ڈالر انڈیکس 98.027 پر مستحکم رہا، تاہم یہ مسلسل آٹھ سیشنز سے کمی کے رجحان میں ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ اب جنگ کے رسک پریمیم کو کم کر رہی ہے اور سرمایہ کار زیادہ خطرناک اثاثوں کی طرف واپس جا رہے ہیں، جس سے ڈالر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر میں بھی بہتری دیکھی گئی، جبکہ جاپانی ین معمولی مضبوط ہوا۔ آف شور چینی کرنسی بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے بہتر رہی، عالمی معاشی اعداد و شمار کے اجرا سے قبل مارکیٹ محتاط رہی۔</p>
<p>مزید برآں جمعرات  کوخام تیل کی قیمتوں میں خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی اور ابتدائی مندی کے بعد قیمتیں مستحکم رہیں۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات ہیں، جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ جیسے اہم پیداواری خطے سے تیل کی رسد متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>عالمی وقت کے مطابق صبح 06:11 بجے برینٹ کروڈ کے سودے 26 سینٹس کی کمی کے ساتھ 94.67 ڈالر فی بیرل پر دیکھے گئے۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  کی قیمت 14 سینٹس کے اضافے سے 91.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔</p>
<p>گزشتہ روز بدھ کو بھی کاروبار کے اختتام پر دونوں بینچ مارکس میں معمولی تبدیلی دیکھی گئی تھی، تاہم پورے دن کے دوران قیمتوں میں کافی اتار چڑھاؤ رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285140</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 16:59:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/16161156f867cab.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/16161156f867cab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
