<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے تاحال کوئی تاریخ طے نہیں، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285137/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفترِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع ہے، تاہم اس ملاقات کیلئے ابھی کسی حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بیان دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ابھی کسی تاریخ کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق لبنان میں جاری جنگ بندی کا تسلسل خطے میں پائیدار امن کی ضمانت کے لیے ناگزیر ہے۔ لبنان میں امن کا قیام ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان اس وقت دو ہفتوں کے جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصالحتی عمل کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان سفارتی کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ رات ایران پہنچے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت تین ممالک کے اہم دورے پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تعمیری اور مصالحانہ کردار کو عالمی سفارتی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے جو امن کے لیے ملک کے مخلصانہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا دورانیہ تقریباً 21 گھنٹے رہا۔ یہ تفصیلی تبادلہ خیال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زیرِ بحث موضوعات میں ایٹمی مسائل بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے نائب وزیراعظم کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تسلسل کے حوالے سے ان کی خوش آئند توقعات پوری ہو رہی ہیں، کیونکہ دونوں فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ موجودہ تنازعات کو صرف مذاکرات اور تعاون کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے جس کا حتمی مقصد خطے کو جنگ سے نکال کر استحکام کی طرف لے جانا ہے، اگرچہ دوسرے دور کے شیڈول کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق سفارتی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی قیادت میں جاری مصالحتی عمل میں کچھ پیشرفت کے باوجود ایٹمی پروگرام سمیت اہم معاملات پر تاحال اختلافات برقرار ہیں جبکہ دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی کی مدت کا نصف سے زائد وقت گزر چکا ہے۔ جمعرات کو ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستانی فیلڈ مارشل کے دورہ تہران سے بعض شعبوں میں دوریوں کو کم کرنے میں مدد ملی ہے تاہم ایٹمی شعبے سے متعلق بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے اشارہ دیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے نے جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امیدیں پھر سے تازہ کردی ہیں، تاہم ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کا مستقبل اور اس کے ایٹمی پروگرام پر عائد پابندیوں کی مدت اب بھی وہ بنیادی متنازع مسائل ہیں جن کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ ان پیچیدہ معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا بدستور ایک کڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفترِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع ہے، تاہم اس ملاقات کیلئے ابھی کسی حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بیان دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ابھی کسی تاریخ کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق لبنان میں جاری جنگ بندی کا تسلسل خطے میں پائیدار امن کی ضمانت کے لیے ناگزیر ہے۔ لبنان میں امن کا قیام ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان اس وقت دو ہفتوں کے جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ ہے۔</p>
<p>مصالحتی عمل کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان سفارتی کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ رات ایران پہنچے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت تین ممالک کے اہم دورے پر ہیں۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تعمیری اور مصالحانہ کردار کو عالمی سفارتی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے جو امن کے لیے ملک کے مخلصانہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا دورانیہ تقریباً 21 گھنٹے رہا۔ یہ تفصیلی تبادلہ خیال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں ہوا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زیرِ بحث موضوعات میں ایٹمی مسائل بھی شامل ہیں۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے نائب وزیراعظم کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تسلسل کے حوالے سے ان کی خوش آئند توقعات پوری ہو رہی ہیں، کیونکہ دونوں فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ موجودہ تنازعات کو صرف مذاکرات اور تعاون کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے جس کا حتمی مقصد خطے کو جنگ سے نکال کر استحکام کی طرف لے جانا ہے، اگرچہ دوسرے دور کے شیڈول کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق سفارتی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی قیادت میں جاری مصالحتی عمل میں کچھ پیشرفت کے باوجود ایٹمی پروگرام سمیت اہم معاملات پر تاحال اختلافات برقرار ہیں جبکہ دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی کی مدت کا نصف سے زائد وقت گزر چکا ہے۔ جمعرات کو ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستانی فیلڈ مارشل کے دورہ تہران سے بعض شعبوں میں دوریوں کو کم کرنے میں مدد ملی ہے تاہم ایٹمی شعبے سے متعلق بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔</p>
<p>قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے اشارہ دیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے نے جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امیدیں پھر سے تازہ کردی ہیں، تاہم ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کا مستقبل اور اس کے ایٹمی پروگرام پر عائد پابندیوں کی مدت اب بھی وہ بنیادی متنازع مسائل ہیں جن کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ ان پیچیدہ معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا بدستور ایک کڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285137</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 09:41:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسکرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/161516464975853.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/161516464975853.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
