<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی سفارتکاری میں تیزی، امریکہ ایران کے درمیان جوہری معاملے پر بڑے بریک تھرو کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285131/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی حکام ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی توقع کر رہے ہیں، الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے، جبکہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے اس تنازع کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے جس میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز یہ امید اس وقت مزید بڑھی جب پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح وفد ایران پہنچا، جس کی قیادت چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔ ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق اس وفد کا مقصد واشنگٹن کا ایک اسٹریٹجک پیغام ایرانی قیادت تک پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، جنہوں نے پاکستان کی مہمان نوازی اور مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے مرحلے کے باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا بھی ہے، جبکہ پاکستان ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ سے وابستہ صحافی اسامہ بن جاوید، جو ایران-امریکہ مذاکرات کی کوریج کر رہے ہیں، نے کہا کہ پاکستانی حکام جوہری معاملے پر بڑے بریک تھرو کی توقع ظاہر کر رہے ہیں، اور فریقین کے درمیان اسٹریٹجک رابطے مسلسل جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع کا مرکزی نکتہ ایران کی یورینیم افزودگی کی معطلی کی مدت اور اس کے پاس موجود 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دونوں فریق پانچ سال سے 20 سال تک افزودگی روکنے کے معاملے پر تعطل کا شکار ہیں، تاہم اس کے درمیان ایک ممکنہ حل موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ بھی زیر بحث ہے کہ ایران اپنے 440 کلوگرام افزودہ مواد کے ساتھ کیا کرے گا، جس کے لیے مختلف آپشنز موجود ہیں، جیسے اسے کسی تیسرے ملک کو منتقل کرنا یا اس کی سطح کم کر کے قدرتی یورینیم یا 3 فیصد افزودگی تک لانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کیلئے امید ظاہر کی ہے، تاہم تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی دھمکی بھی دی گئی ہے اگر وہ مزاحمت جاری رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ  ملکر شروع کی گئی جنگ تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ اس دوران بحری راستوں کی بندش اور آبنائے ہرمز سے ٹریفک میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی حکام ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی توقع کر رہے ہیں، الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے، جبکہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے اس تنازع کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے جس میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں۔</strong></p>
<p>بدھ کے روز یہ امید اس وقت مزید بڑھی جب پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح وفد ایران پہنچا، جس کی قیادت چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔ ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق اس وفد کا مقصد واشنگٹن کا ایک اسٹریٹجک پیغام ایرانی قیادت تک پہنچانا ہے۔</p>
<p>آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، جنہوں نے پاکستان کی مہمان نوازی اور مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے مرحلے کے باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا بھی ہے، جبکہ پاکستان ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>الجزیرہ سے وابستہ صحافی اسامہ بن جاوید، جو ایران-امریکہ مذاکرات کی کوریج کر رہے ہیں، نے کہا کہ پاکستانی حکام جوہری معاملے پر بڑے بریک تھرو کی توقع ظاہر کر رہے ہیں، اور فریقین کے درمیان اسٹریٹجک رابطے مسلسل جاری ہیں۔</p>
<p>تنازع کا مرکزی نکتہ ایران کی یورینیم افزودگی کی معطلی کی مدت اور اس کے پاس موجود 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دونوں فریق پانچ سال سے 20 سال تک افزودگی روکنے کے معاملے پر تعطل کا شکار ہیں، تاہم اس کے درمیان ایک ممکنہ حل موجود ہے۔</p>
<p>مزید یہ بھی زیر بحث ہے کہ ایران اپنے 440 کلوگرام افزودہ مواد کے ساتھ کیا کرے گا، جس کے لیے مختلف آپشنز موجود ہیں، جیسے اسے کسی تیسرے ملک کو منتقل کرنا یا اس کی سطح کم کر کے قدرتی یورینیم یا 3 فیصد افزودگی تک لانا۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کیلئے امید ظاہر کی ہے، تاہم تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی دھمکی بھی دی گئی ہے اگر وہ مزاحمت جاری رکھتا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ  ملکر شروع کی گئی جنگ تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ اس دوران بحری راستوں کی بندش اور آبنائے ہرمز سے ٹریفک میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285131</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 13:47:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/161513463995e8c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/161513463995e8c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/16151353f626fc7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/16151353f626fc7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
