<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:07:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:07:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب کی مالی معاونت پر ایف پی سی سی آئی کا خیر مقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285129/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کی نئی ڈپازٹ سہولت اور 5 ارب ڈالر کے موجودہ ڈپازٹ کی تین سال (2028 تک) توسیع کا خیرمقدم کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا یہ بروقت اور فراخدلانہ اقدام پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ خزانہ کی جانب سے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاس کے موقع پر کیا گیا یہ اعلان پاکستان کی معاشی منصوبہ بندی میں غیر معمولی استحکام اور پیش بینی فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیاکہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ پر سالانہ رول اوور کی شرط ختم کرنا اور مزید 3ارب ڈالر کی فراہمی پاکستان کے لیے ایک مضبوط مالی سہارا ہے؛ جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو نمایاں طور پر مستحکم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ کے مطابق یہ مالی معاونت حکومت کو مالی سال 2026 کے اختتام تک تقریباً 18 ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ ذخائر کے اپنے ہدف کے حصول میں مدد دے گی جو کہ ملک کے لیے کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے لیے بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتے ہوئے ذخائر روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کریں گے ایک مستحکم ایکسچینج ریٹ درآمدی مہنگائی کو کم کرے گاجس سے کاروباری لاگت میں کمی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرایف پی سی سی آئی نے کہا کہ یہ اقدام کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوگا بیرونی مالی معاونت کے حصول اور 5 ارب ڈالر کی سہولت کی مدت میں توسیع سے بیلنس آف پیمنٹس کے فوری خطرات اور لیکویڈیٹی کے مسائل میں واضح کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ملکی صنعتوں کو فروغ ملے گا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اوراسٹیٹ بینک لیٹر آف کریڈٹ کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنا سکے گاجس سے خام مال، مشینری اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ سعودی عرب نے ایک بار پھر مشکل وقت میں پاکستان کا سچا دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے یہ مالی سپورٹ حکومت کو طویل المدتی اصلاحات، بہتر سرمایہ کاری ماحول اور درآمدی معیشت سے برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف منتقلی کا موقع فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد محمد بن سلمان کا خصوصی شکریہ ادا کیا جبکہ پاکستان کی سیاسی و معاشی قیادت کی کامیاب سفارتی اور مالی کوششوں کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کی نئی ڈپازٹ سہولت اور 5 ارب ڈالر کے موجودہ ڈپازٹ کی تین سال (2028 تک) توسیع کا خیرمقدم کرتی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا یہ بروقت اور فراخدلانہ اقدام پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ خزانہ کی جانب سے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاس کے موقع پر کیا گیا یہ اعلان پاکستان کی معاشی منصوبہ بندی میں غیر معمولی استحکام اور پیش بینی فراہم کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیاکہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ پر سالانہ رول اوور کی شرط ختم کرنا اور مزید 3ارب ڈالر کی فراہمی پاکستان کے لیے ایک مضبوط مالی سہارا ہے؛ جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو نمایاں طور پر مستحکم کرے گا۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ کے مطابق یہ مالی معاونت حکومت کو مالی سال 2026 کے اختتام تک تقریباً 18 ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ ذخائر کے اپنے ہدف کے حصول میں مدد دے گی جو کہ ملک کے لیے کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے لیے بھی ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتے ہوئے ذخائر روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کریں گے ایک مستحکم ایکسچینج ریٹ درآمدی مہنگائی کو کم کرے گاجس سے کاروباری لاگت میں کمی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔</p>
<p>صدرایف پی سی سی آئی نے کہا کہ یہ اقدام کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوگا بیرونی مالی معاونت کے حصول اور 5 ارب ڈالر کی سہولت کی مدت میں توسیع سے بیلنس آف پیمنٹس کے فوری خطرات اور لیکویڈیٹی کے مسائل میں واضح کمی آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ملکی صنعتوں کو فروغ ملے گا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اوراسٹیٹ بینک لیٹر آف کریڈٹ کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنا سکے گاجس سے خام مال، مشینری اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رہے گی۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ سعودی عرب نے ایک بار پھر مشکل وقت میں پاکستان کا سچا دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے یہ مالی سپورٹ حکومت کو طویل المدتی اصلاحات، بہتر سرمایہ کاری ماحول اور درآمدی معیشت سے برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف منتقلی کا موقع فراہم کرے گی۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد محمد بن سلمان کا خصوصی شکریہ ادا کیا جبکہ پاکستان کی سیاسی و معاشی قیادت کی کامیاب سفارتی اور مالی کوششوں کو بھی سراہا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285129</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 12:52:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/16125154ce4780b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/16125154ce4780b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
