<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر مستحکم پالیسی کی بھاری قیمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285124/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئندہ بجٹ پر مشاورت میں تیزی آنے کے ساتھ ہی وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی تجارتی اداروں اور کاروباری برادری کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں نے کئی ایسے گہرے خدشات کو دوبارہ نمایاں کردیا جو معاشی سرگرمیوں پر مسلسل اثر انداز ہورہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک ہولڈرز نے کاروبار کرنے کی مسلسل بلند لاگت، سرمائے کی کمی، انفرااسٹرکچر میں خامیوں، غیر متوازن ساختی اصلاحات اور شاید سب سے بڑھ کر پالیسیوں میں غیریقینی صورتحال کی نشاندہی کی ہے جو کہ بلا شبہ معیشت کیلئے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سرکاری بیانیہ تیزی سے اس بات پر زور دے رہا ہے کہ بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال معاشی انتظام کو پیچیدہ بنانے میں خلل ڈال رہی ہے اور اس طرح کے دباؤ بلاشبہ حقیقی بھی ہیں، تاہم اس خرابی کی جڑیں اب بھی مقامی حالات ہی میں پیوست ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈیوں کو حالیہ تنازعات کے ذریعے غیر مستحکم کیے جانے سے بہت پہلے ہی کاروباری ادارے ایک ایسی غیر یقینی پالیسی کے منظرنامے میں کام کررہے تھے جس کی بنیاد ٹیکس پالیسی میں اچانک تبدیلیاں، حقیقی آمدنی کے بجائے مفروضہ آمدنی پر ٹیکس لگانے کا نقصان دہ انحصار، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پیچیدہ ریگولیٹری ڈھانچہ اور توانائی کی قیمتوں کا مبہم نظام سمیت دیگر خامیاں تھیں, لہٰذا پالیسی ساز اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی عدم استحکام کو صرف بیرونی جھٹکوں کا شاخسانہ قرار دے کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر اس کی اصل وجہ گورننس کا فقدان ہے جو قلیل مدتی سوچ، اداروں کے درمیان کمزور ہم آہنگی اور ٹھوس معاشی فیصلے لینے کے بجائے بارہا سیاسی مفادات کو ترجیح دینے سے جنم لیتا ہے، اس کے ساتھ یہ ان پالیسیوں کی وضاحت اور تسلسل کو یقینی بنانے میں ناکامی کا نتیجہ بھی ہے جو معاشی اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس پالیسی اس غیر یقینی صورتحال کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ریونیو بڑھانے کے کئی سالوں کے دعوؤں کے باوجود نتائج اب بھی مایوس کن ہیں جس کی بڑی وجہ ضوابط اور قواعد کی ناقص تشکیل ہے، ان پر غیر مستقل عملدرآمد یا وسط میں ہی ان کی اہمیت کا کم ہو جانا ہے۔ ٹیکس نظام کی تعمیل اب حد سے زیادہ مہنگی ہوچکی ہے: ٹیکس شرح میں تیزی سے اضافے کے ساتھ کاروباری اداروں کو پیچیدہ طریقہ کار، بدلتے  قوانین اور ایک ساختی طور پر الجھے ہوئے نظام کا سامنا ہے۔ بلاواسطہ ٹیکسوں  پر ضرورت سے زیادہ انحصار، ود ہولڈنگ کا پیچیدہ نظام اور منافع سے قطع نظر ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس نے مل کر فارمل سیکٹر میں کام کرنے کی لاگت کو بڑھا دیا ہے۔ مزید برآں ٹیکس نیٹ اب بھی بڑی حد تک محدود ہے جہاں ایف بی آر  پہلے سے نیٹ میں موجود افراد کو ہی نچوڑنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ کم ٹیکس دینے والے یا ٹیکس سے مستثنیٰ طبقات اب بھی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہیں ان کے سیاسی اثرورسوخ اور پے در پے آنے والی حکومتوں کے اپنے مخصوص حلقوں (خواہ وہ ریٹیل، زراعت یا رئیل اسٹیٹ سے ہوں) کو تحفظ دینے کے رجحان نے بچا رکھا ہے، جہاں ساختی اصلاحات جیسے مشکل کام کے بجائے قلیل مدتی ریونیو فوائد کو ترجیح دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عدم توازن کے نتائج انتہائی دور رس رہے ہیں۔ مثال کے طور پر رئیل اسٹیٹ ٹیکس چوری اور غیر قانونی دولت کے لیے ایک پسندیدہ ترین جگہ بن چکا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا زیادہ تر حصہ سٹے بازی پر مبنی رہتا ہے جہاں جائیدادیں رہائشی یا تجارتی استعمال کے لیے تیار کرنے کے بجائے صرف خرید کر خالی چھوڑ دی جاتی ہیں جس سے معاشی فائدہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اس نتیجے کی جڑیں اس شعبے کو تاریخی طور پر دی جانے والی ٹیکس رعایتوں میں پیوست ہیں جس نے عدم شفافیت اور غیر پیداواری منافع خوری  کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اگرچہ حال ہی میں اس سمت کی درستی کے لیے کچھ کوششیں کی گئی ہیں لیکن وہ ان گہرے مراعاتی عوامل کو ختم کرنے کے لیے ناکافی ہیں جو سرمائے کو بڑے پیمانے پر غیر پیداواری رئیل اسٹیٹ ہولڈنگز کی طرف دھکیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سرمایہ کاری کی پالیسی بھی انہی ساختی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے۔ سرمایہ ان ماحول کی طرف راغب ہوتا ہے جہاں ٹیکسوں میں تسلسل، توانائی کی مستحکم قیمتیں اور واضح ریگولیٹری فریم ورک موجود ہو۔ پاکستان کا سست رفتار گورننس کا نظام، جو وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان ناقص ہم آہنگی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا شکار ہے، اس کے بجائے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد میں رکاوٹ بنا ہے۔ اس جمود کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، لیکن اس کے اثرات اب بھی محدود ہیں۔ اگرچہ اس نے کچھ طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کیا ہے اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنایا ہے لیکن اس کے طریقہ کار میں عدم شفافیت اور مخصوص منصوبوں تک محدود توجہ نے گہرے ساختی مسائل کو جوں کا توں چھوڑ دیا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک مانوس نمونے کی صورت میں سامنے آرہا ہے: یعنی نظامی تبدیلی کے بغیر صرف مخصوص منصوبوں تک محدود فوائد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں یقینی صورتحال فراہم کرنے اور گورننس کی ساختی ناکامیوں کا مقابلہ کرنے میں عام ہچکچاہٹ کے بجائے، فوری حل پر اس انحصار کے نتائج ہمیشہ توقعات سے کم رہے ہیں، خواہ وہ ٹیکس اصلاحات ہوں، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا حصول ہو یا بجلی کے شعبے کی درستی۔ اس کے برعکس اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ پالیسی کا تسلسل اور ساکھ ہے، یعنی واضح طور پر متعین کردہ قواعد، جن کا مستقل بنیادوں پر اطلاق ہو، جو اچانک تبدیلیوں سے پاک ہوں اور جنہیں وضع کرنے اور نافذ کرنے والوں کا سخت احتساب کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئندہ بجٹ پر مشاورت میں تیزی آنے کے ساتھ ہی وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی تجارتی اداروں اور کاروباری برادری کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں نے کئی ایسے گہرے خدشات کو دوبارہ نمایاں کردیا جو معاشی سرگرمیوں پر مسلسل اثر انداز ہورہے ہیں۔</strong></p>
<p>اسٹیک ہولڈرز نے کاروبار کرنے کی مسلسل بلند لاگت، سرمائے کی کمی، انفرااسٹرکچر میں خامیوں، غیر متوازن ساختی اصلاحات اور شاید سب سے بڑھ کر پالیسیوں میں غیریقینی صورتحال کی نشاندہی کی ہے جو کہ بلا شبہ معیشت کیلئے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔</p>
<p>اگرچہ سرکاری بیانیہ تیزی سے اس بات پر زور دے رہا ہے کہ بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال معاشی انتظام کو پیچیدہ بنانے میں خلل ڈال رہی ہے اور اس طرح کے دباؤ بلاشبہ حقیقی بھی ہیں، تاہم اس خرابی کی جڑیں اب بھی مقامی حالات ہی میں پیوست ہیں۔</p>
<p>عالمی منڈیوں کو حالیہ تنازعات کے ذریعے غیر مستحکم کیے جانے سے بہت پہلے ہی کاروباری ادارے ایک ایسی غیر یقینی پالیسی کے منظرنامے میں کام کررہے تھے جس کی بنیاد ٹیکس پالیسی میں اچانک تبدیلیاں، حقیقی آمدنی کے بجائے مفروضہ آمدنی پر ٹیکس لگانے کا نقصان دہ انحصار، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پیچیدہ ریگولیٹری ڈھانچہ اور توانائی کی قیمتوں کا مبہم نظام سمیت دیگر خامیاں تھیں, لہٰذا پالیسی ساز اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی عدم استحکام کو صرف بیرونی جھٹکوں کا شاخسانہ قرار دے کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔</p>
<p>بنیادی طور پر اس کی اصل وجہ گورننس کا فقدان ہے جو قلیل مدتی سوچ، اداروں کے درمیان کمزور ہم آہنگی اور ٹھوس معاشی فیصلے لینے کے بجائے بارہا سیاسی مفادات کو ترجیح دینے سے جنم لیتا ہے، اس کے ساتھ یہ ان پالیسیوں کی وضاحت اور تسلسل کو یقینی بنانے میں ناکامی کا نتیجہ بھی ہے جو معاشی اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>ٹیکس پالیسی اس غیر یقینی صورتحال کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ریونیو بڑھانے کے کئی سالوں کے دعوؤں کے باوجود نتائج اب بھی مایوس کن ہیں جس کی بڑی وجہ ضوابط اور قواعد کی ناقص تشکیل ہے، ان پر غیر مستقل عملدرآمد یا وسط میں ہی ان کی اہمیت کا کم ہو جانا ہے۔ ٹیکس نظام کی تعمیل اب حد سے زیادہ مہنگی ہوچکی ہے: ٹیکس شرح میں تیزی سے اضافے کے ساتھ کاروباری اداروں کو پیچیدہ طریقہ کار، بدلتے  قوانین اور ایک ساختی طور پر الجھے ہوئے نظام کا سامنا ہے۔ بلاواسطہ ٹیکسوں  پر ضرورت سے زیادہ انحصار، ود ہولڈنگ کا پیچیدہ نظام اور منافع سے قطع نظر ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس نے مل کر فارمل سیکٹر میں کام کرنے کی لاگت کو بڑھا دیا ہے۔ مزید برآں ٹیکس نیٹ اب بھی بڑی حد تک محدود ہے جہاں ایف بی آر  پہلے سے نیٹ میں موجود افراد کو ہی نچوڑنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ کم ٹیکس دینے والے یا ٹیکس سے مستثنیٰ طبقات اب بھی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہیں ان کے سیاسی اثرورسوخ اور پے در پے آنے والی حکومتوں کے اپنے مخصوص حلقوں (خواہ وہ ریٹیل، زراعت یا رئیل اسٹیٹ سے ہوں) کو تحفظ دینے کے رجحان نے بچا رکھا ہے، جہاں ساختی اصلاحات جیسے مشکل کام کے بجائے قلیل مدتی ریونیو فوائد کو ترجیح دی جاتی ہے۔</p>
<p>اس عدم توازن کے نتائج انتہائی دور رس رہے ہیں۔ مثال کے طور پر رئیل اسٹیٹ ٹیکس چوری اور غیر قانونی دولت کے لیے ایک پسندیدہ ترین جگہ بن چکا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا زیادہ تر حصہ سٹے بازی پر مبنی رہتا ہے جہاں جائیدادیں رہائشی یا تجارتی استعمال کے لیے تیار کرنے کے بجائے صرف خرید کر خالی چھوڑ دی جاتی ہیں جس سے معاشی فائدہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اس نتیجے کی جڑیں اس شعبے کو تاریخی طور پر دی جانے والی ٹیکس رعایتوں میں پیوست ہیں جس نے عدم شفافیت اور غیر پیداواری منافع خوری  کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اگرچہ حال ہی میں اس سمت کی درستی کے لیے کچھ کوششیں کی گئی ہیں لیکن وہ ان گہرے مراعاتی عوامل کو ختم کرنے کے لیے ناکافی ہیں جو سرمائے کو بڑے پیمانے پر غیر پیداواری رئیل اسٹیٹ ہولڈنگز کی طرف دھکیلتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح سرمایہ کاری کی پالیسی بھی انہی ساختی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے۔ سرمایہ ان ماحول کی طرف راغب ہوتا ہے جہاں ٹیکسوں میں تسلسل، توانائی کی مستحکم قیمتیں اور واضح ریگولیٹری فریم ورک موجود ہو۔ پاکستان کا سست رفتار گورننس کا نظام، جو وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان ناقص ہم آہنگی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا شکار ہے، اس کے بجائے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد میں رکاوٹ بنا ہے۔ اس جمود کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، لیکن اس کے اثرات اب بھی محدود ہیں۔ اگرچہ اس نے کچھ طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کیا ہے اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنایا ہے لیکن اس کے طریقہ کار میں عدم شفافیت اور مخصوص منصوبوں تک محدود توجہ نے گہرے ساختی مسائل کو جوں کا توں چھوڑ دیا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک مانوس نمونے کی صورت میں سامنے آرہا ہے: یعنی نظامی تبدیلی کے بغیر صرف مخصوص منصوبوں تک محدود فوائد۔</p>
<p>پالیسی میں یقینی صورتحال فراہم کرنے اور گورننس کی ساختی ناکامیوں کا مقابلہ کرنے میں عام ہچکچاہٹ کے بجائے، فوری حل پر اس انحصار کے نتائج ہمیشہ توقعات سے کم رہے ہیں، خواہ وہ ٹیکس اصلاحات ہوں، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا حصول ہو یا بجلی کے شعبے کی درستی۔ اس کے برعکس اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ پالیسی کا تسلسل اور ساکھ ہے، یعنی واضح طور پر متعین کردہ قواعد، جن کا مستقل بنیادوں پر اطلاق ہو، جو اچانک تبدیلیوں سے پاک ہوں اور جنہیں وضع کرنے اور نافذ کرنے والوں کا سخت احتساب کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285124</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 12:07:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/161113419e2b306.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/161113419e2b306.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
