<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کی قیمت میں کمی اور امریکا ایران امن معاہدے کی امیدیں، عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بڑھ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285120/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ ڈالر کی قدر میں کمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر بڑھتی ہوئی امیدوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ اس جنگ نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور مہنگائی بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821.44 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔ اسی طرح جون کی ترسیل کے لیے امریکی سونے کی فیوچرز قیمت 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,844.40 ڈالر پر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں فروخت ہونے والی اشیاء بشمول سونا، دیگر کرنسی رکھنے والوں کے لیے سستی ہوگئی ہیں، اس کے ساتھ بینچ مارک 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں بھی 0.1 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوآئی این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق بڑھتی امیدیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر قیمت 4,900 ڈالر کی سطح سے اوپر نکلتی ہے تو اگلی درمیانی مزاحمتی زون یعنی 5,000 ڈالر کی نفسیاتی حد تک مزید اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کے حوالے سے پرامیدی کا اظہار کیا ہے تاہم ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی ہے کہ اگر تہران نے مزاحمت برقرار رکھی تو اس پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھا دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں فروری کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ اب ختم ہونے کے قریب ہے، حالانکہ ان کی جانب سے اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور آبنائے ہرمزسے بحری آمد و رفت اب بھی معمول سے کافی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اسپاٹ گولڈ کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ یہ خدشات تھے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں جو عالمی سطح پر شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنے پر مجبور کر دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سونے کو افراطِ زر (مہنگائی) کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری  سمجھا جاتا ہے لیکن بلند شرح سود اس بغیر منافع والی دھات کی طلب کو کم کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں تاجر اب اس سال شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کا صرف 29 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، اس سال کے لیے دو مرتبہ کٹوتی کی توقعات ظاہر کی جا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر قیمتی دھاتوں میں، اسپاٹ سلور (چاندی) 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ &lt;strong&gt;80.41 ڈالر&lt;/strong&gt; فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ &lt;strong&gt;2,135.58 ڈالر&lt;/strong&gt; اور پیلیڈیم 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ &lt;strong&gt;1,587.39 ڈالر&lt;/strong&gt; پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ ڈالر کی قدر میں کمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر بڑھتی ہوئی امیدوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ اس جنگ نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور مہنگائی بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا تھا۔</strong></p>
<p>عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821.44 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔ اسی طرح جون کی ترسیل کے لیے امریکی سونے کی فیوچرز قیمت 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,844.40 ڈالر پر رہی۔</p>
<p>امریکی ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں فروخت ہونے والی اشیاء بشمول سونا، دیگر کرنسی رکھنے والوں کے لیے سستی ہوگئی ہیں، اس کے ساتھ بینچ مارک 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں بھی 0.1 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>اوآئی این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق بڑھتی امیدیں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر قیمت 4,900 ڈالر کی سطح سے اوپر نکلتی ہے تو اگلی درمیانی مزاحمتی زون یعنی 5,000 ڈالر کی نفسیاتی حد تک مزید اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کے حوالے سے پرامیدی کا اظہار کیا ہے تاہم ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی ہے کہ اگر تہران نے مزاحمت برقرار رکھی تو اس پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھا دیا جائے گا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں فروری کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ اب ختم ہونے کے قریب ہے، حالانکہ ان کی جانب سے اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور آبنائے ہرمزسے بحری آمد و رفت اب بھی معمول سے کافی کم ہے۔</p>
<p>فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اسپاٹ گولڈ کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ یہ خدشات تھے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں جو عالمی سطح پر شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنے پر مجبور کر دے گی۔</p>
<p>اگرچہ سونے کو افراطِ زر (مہنگائی) کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری  سمجھا جاتا ہے لیکن بلند شرح سود اس بغیر منافع والی دھات کی طلب کو کم کر دیتی ہے۔</p>
<p>امریکہ میں تاجر اب اس سال شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کا صرف 29 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، اس سال کے لیے دو مرتبہ کٹوتی کی توقعات ظاہر کی جا رہی تھیں۔</p>
<p>دیگر قیمتی دھاتوں میں، اسپاٹ سلور (چاندی) 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ <strong>80.41 ڈالر</strong> فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ <strong>2,135.58 ڈالر</strong> اور پیلیڈیم 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ <strong>1,587.39 ڈالر</strong> پر پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285120</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 15:32:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/161041223a50b53.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/161041223a50b53.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
