<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درآمدی کارگو: اپٹما کا اسکریننگ چارجز میں کمی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285118/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے برآمدی صنعتوں کے لیے استعمال ہونے والے درآمدی کنٹینرز پر اسکریننگ چارجز میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی کمزور برآمدی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے، خاص طور پر بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور سپلائی سائیڈ مسائل کے تناظر میں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں کسٹمز ہاؤس (اپریزمنٹ ویسٹ) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو لکھے گئے خط میں اپٹما کے سیکریٹری جنرل رضا باقر نے پاکستان کسٹمز کی 4 اپریل 2026 کی اس نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا جس میں برآمدی کنٹینرز پر اسکریننگ چارجز میں کمی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کو بروقت اور مثبت قرار دیتے ہوئے خوش آئند اقدام کہا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بندرگاہوں پر رش—جو زیادہ تر برآمد کنندگان کے کنٹرول سے باہر ہے—سپلائی چین میں خلل ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اپٹما نے زور دیا کہ یہی ریلیف ان درآمدی کھیپوں پر بھی دیا جانا چاہیے جو برآمدی یونٹس کے لیے خام مال کی صورت میں آتی ہیں اور عارضی طور پر پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ان درآمدات پر اسکریننگ چارجز میں کمی سے پیداواری لاگت کم ہوگی اور برآمد کنندگان پر مالی دباؤ میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ متعدد مشکلات کا شکار ہے، جن میں بلند توانائی ٹیرف، مہنگی فنانسنگ، کرنسی میں اتار چڑھاؤ اور ریفنڈز کی تاخیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور بڑی منڈیوں میں کمزور طلب نے بھی منافع کے مارجن کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بندرگاہی چارجز میں کمی فوری اور عملی ریلیف فراہم کر سکتی ہے، اور لاگت میں معمولی کمی بھی پاکستان کو بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت جیسے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مسابقتی بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بندرگاہوں پر تاخیر اور اضافی اخراجات نہ صرف ترسیل کے وقت کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اس تناظر میں اپٹما کی تجویز کو تجارتی سہولت کاری کی وسیع اصلاحات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے برآمدی صنعتوں کے لیے استعمال ہونے والے درآمدی کنٹینرز پر اسکریننگ چارجز میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی کمزور برآمدی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے، خاص طور پر بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور سپلائی سائیڈ مسائل کے تناظر میں۔</strong></p>
<p>کراچی میں کسٹمز ہاؤس (اپریزمنٹ ویسٹ) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو لکھے گئے خط میں اپٹما کے سیکریٹری جنرل رضا باقر نے پاکستان کسٹمز کی 4 اپریل 2026 کی اس نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا جس میں برآمدی کنٹینرز پر اسکریننگ چارجز میں کمی کی گئی تھی۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کو بروقت اور مثبت قرار دیتے ہوئے خوش آئند اقدام کہا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بندرگاہوں پر رش—جو زیادہ تر برآمد کنندگان کے کنٹرول سے باہر ہے—سپلائی چین میں خلل ڈال رہا ہے۔</p>
<p>تاہم اپٹما نے زور دیا کہ یہی ریلیف ان درآمدی کھیپوں پر بھی دیا جانا چاہیے جو برآمدی یونٹس کے لیے خام مال کی صورت میں آتی ہیں اور عارضی طور پر پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ان درآمدات پر اسکریننگ چارجز میں کمی سے پیداواری لاگت کم ہوگی اور برآمد کنندگان پر مالی دباؤ میں کمی آئے گی۔</p>
<p>یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ متعدد مشکلات کا شکار ہے، جن میں بلند توانائی ٹیرف، مہنگی فنانسنگ، کرنسی میں اتار چڑھاؤ اور ریفنڈز کی تاخیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور بڑی منڈیوں میں کمزور طلب نے بھی منافع کے مارجن کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بندرگاہی چارجز میں کمی فوری اور عملی ریلیف فراہم کر سکتی ہے، اور لاگت میں معمولی کمی بھی پاکستان کو بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت جیسے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مسابقتی بنا سکتی ہے۔</p>
<p>برآمد کنندگان نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بندرگاہوں پر تاخیر اور اضافی اخراجات نہ صرف ترسیل کے وقت کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اس تناظر میں اپٹما کی تجویز کو تجارتی سہولت کاری کی وسیع اصلاحات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285118</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 10:25:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/16102226e10837e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/16102226e10837e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
