<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک کی بجلی پیداوار میں بڑی کمی، لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 5 گھنٹے تک جا پہنچا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285110/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اس وقت تقریباً 4,500 میگاواٹ بجلی کی بڑھتی ہوئی کمی کا سامنا کر رہا ہے، جس کی بڑی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی علاقوں میں شام کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کا دورانیہ بڑھا کر پانچ گھنٹے تک کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق بدھ کے روز طلب اور رسد کے درمیان فرق اس وقت بڑھ گیا جب بجلی کی مجموعی طلب تقریباً 18,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ اس دوران پن بجلی کی پیداوار میں ایک ہی رات میں تقریباً 1,991 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے نظام پر دباؤ بڑھ گیا اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کو مختلف علاقوں کی طلب کے مطابق لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھانا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ بڑے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں کمی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی اس وقت صوبائی ضروریات کے مطابق پانی کی تقسیم کر رہی ہے، جو حالیہ بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کے موسم کے باعث معمول سے کم ہے، جس کے نتیجے میں ڈیموں سے پانی کا اخراج کم ہوا اور بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو رات کے اوقات میں طے شدہ منصوبے سے زیادہ لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہا ہے، تاہم پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی مستحکم ہے اور کوئی بڑی کمی رپورٹ نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں، جبکہ وزیر اعظم آفس نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے طلب و رسد کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور فوری اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں مقامی گیس کی فراہمی بڑھانا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ صورتحال عارضی ہے اور آئندہ دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے سے پن بجلی کی پیداوار بہتر ہو جائے گی، جبکہ ری گیسیفائیڈ ایل این جی کی دستیابی میں بہتری سے تھرمل بجلی کی پیداوار کو بھی سہارا ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک متعلقہ پیش رفت میں پاور ڈویژن نے واضح کیا تھا کہ حکومت نے حیسکو اور کے الیکٹرک میں ڈھائی گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم حالیہ کمی کے بعد یہ واضح نہیں کہ یہ سہولت برقرار رہے گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اس وقت تقریباً 4,500 میگاواٹ بجلی کی بڑھتی ہوئی کمی کا سامنا کر رہا ہے، جس کی بڑی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی علاقوں میں شام کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کا دورانیہ بڑھا کر پانچ گھنٹے تک کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق بدھ کے روز طلب اور رسد کے درمیان فرق اس وقت بڑھ گیا جب بجلی کی مجموعی طلب تقریباً 18,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ اس دوران پن بجلی کی پیداوار میں ایک ہی رات میں تقریباً 1,991 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے نظام پر دباؤ بڑھ گیا اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کو مختلف علاقوں کی طلب کے مطابق لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھانا پڑا۔</p>
<p>حکام کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ بڑے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں کمی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی اس وقت صوبائی ضروریات کے مطابق پانی کی تقسیم کر رہی ہے، جو حالیہ بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کے موسم کے باعث معمول سے کم ہے، جس کے نتیجے میں ڈیموں سے پانی کا اخراج کم ہوا اور بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو رات کے اوقات میں طے شدہ منصوبے سے زیادہ لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہا ہے، تاہم پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی مستحکم ہے اور کوئی بڑی کمی رپورٹ نہیں ہوئی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں، جبکہ وزیر اعظم آفس نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے طلب و رسد کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور فوری اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں مقامی گیس کی فراہمی بڑھانا بھی شامل ہے۔</p>
<p>حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ صورتحال عارضی ہے اور آئندہ دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے سے پن بجلی کی پیداوار بہتر ہو جائے گی، جبکہ ری گیسیفائیڈ ایل این جی کی دستیابی میں بہتری سے تھرمل بجلی کی پیداوار کو بھی سہارا ملے گا۔</p>
<p>ایک متعلقہ پیش رفت میں پاور ڈویژن نے واضح کیا تھا کہ حکومت نے حیسکو اور کے الیکٹرک میں ڈھائی گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم حالیہ کمی کے بعد یہ واضح نہیں کہ یہ سہولت برقرار رہے گی یا نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285110</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 09:15:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/16091113b78177b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/16091113b78177b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
