<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:40:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:40:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں تیزی، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285105/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی جاری ثالثی کوششوں کے حصے کے طور پر بدھ  کوتہران پہنچ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اعلیٰ حکام اور ان کے ہمراہ وفد کا استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم سفارتی پل کے طور پر خود کو پیش کیا ہے اور اس سلسلے میں اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی ہے۔ جنگ بندی کرانے، اپنے دارالحکومت کو غیر جانبدار مقام کے طور پر پیش کرنے اور دونوں فریقین سمیت علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیک چینل رابطے برقرار رکھ کر پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حل طلب تنازعات کے باوجود مذاکرات کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔۔۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی جاری ثالثی کوششوں کے حصے کے طور پر بدھ  کوتہران پہنچ گئے۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اعلیٰ حکام اور ان کے ہمراہ وفد کا استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔</p>
<p>اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم سفارتی پل کے طور پر خود کو پیش کیا ہے اور اس سلسلے میں اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی ہے۔ جنگ بندی کرانے، اپنے دارالحکومت کو غیر جانبدار مقام کے طور پر پیش کرنے اور دونوں فریقین سمیت علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیک چینل رابطے برقرار رکھ کر پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حل طلب تنازعات کے باوجود مذاکرات کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285105</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 19:50:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/151945343fdf533.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/151945343fdf533.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
