<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا ایران سے جلد مذاکرات کے امکان کا عندیہ، امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث کشیدگی برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور ان کے نتیجے میں معاہدہ بھی طے پا سکتا ہے، جبکہ انہوں نے دنیا کو ”حیران کن دو دنوں“ کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی افواج کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی کے دوران ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے کئی جہاز واپس لوٹا دیے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ایک بار پھر امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مزید مذاکرات کے امکان کے ساتھ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اتوار کو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی، نے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کے صحافی جوناتھن کارل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میرا خیال ہے آپ آنے والے دو دنوں میں حیران کن پیش رفت دیکھیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں 21 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ ”یہ معاملہ کسی بھی سمت جا سکتا ہے، لیکن میرے خیال میں معاہدہ زیادہ بہتر ہے کیونکہ پھر وہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اب واقعی ایک مختلف نظام ہے۔ بہرحال ہم نے شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔“ یہ بیان کارل کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کے مطابق سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، ایران اور کئی خلیجی ممالک کے حکام نے بھی کہا ہے کہ ممکن ہے امریکہ اور ایران کے مذاکراتی وفود اسی ہفتے کے دوران دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے میں ناکامی ہوئی۔ یہ جنگ امریکہ-اسرائیل کی ایران پر کارروائیوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ہمسایہ ممالک پر حملے کیے اور لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری متوازی تنازع بھی دوبارہ بھڑک اٹھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مثبت بیانات کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی اور نئی ریکارڈ سطحیں سامنے آنے کا امکان بڑھ گیا۔ دوسری جانب خام تیل کی قیمتیں، جو منگل اور بدھ کی ابتدائی تجارت میں کمی کا شکار تھیں، امریکی فوج کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے بعد تقریباً 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی نے ایران سے سمندری راستے سے ہونے والی تمام تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید جہازوں کو بھی امریکی ناکہ بندی کے تحت واپس لوٹایا جا رہا ہے، جن میں امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والا، چینی ملکیت کا آئل ٹینکر “ریچ سٹاری” بھی شامل ہے جو بدھ کے روز خلیج فارس سے نکل کر واپس آبنائے ہرمز کی طرف جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے پیر سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کے بعد ایران سے منسلک آٹھ آئل ٹینکرز کو روکا ہے، جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق منگل کے روز ایک امریکی ڈسٹرائر نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ چابہار سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکرز کو بھی روک لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی ناکہ بندی سے بچنے کے لیے اپنی جنوبی ساحلی بندرگاہوں کے علاوہ متبادل بندرگاہوں کا استعمال کرے گا اور ملک کے مختلف علاقوں میں درآمدی صلاحیت کو بڑھایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد واپسی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے منگل کو نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مذاکرات کار غالباً دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں گے، اور اس میں بڑا کردار پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے مذاکرات کو آگے بڑھانے اور ”انتہائی اچھا کردار“ ادا کرنے کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں منگل کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک ”وسیع اور جامع معاہدہ“ چاہتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے جوہری پروگرام پر گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں بنیادی اختلاف سامنے آیا۔ امریکی فریق نے ایران کی تمام جوہری سرگرمیوں پر 20 سالہ معطلی کی تجویز دی، جبکہ تہران نے 3 سے 5 سال کے وقفے کی پیشکش کی۔ ان تجاویز سے واقف افراد کے مطابق یہ مذاکرات کا اہم نکتہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیول میں بات کرتے ہوئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ ایران کی یورینیم افزودگی پر کسی بھی پابندی کی مدت ایک سیاسی فیصلہ ہوگا، اور ممکن ہے کہ تہران اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر کوئی سمجھوتہ قبول کر لے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایران سے افزودہ جوہری مواد باہر منتقل کیا جائے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں جاری مذاکرات سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے بعد ہونے والی پسِ پردہ (بیک چینل) بات چیت میں فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے میں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد دونوں فریق ایک نئے مذاکراتی دور میں معاہدے کے قریب آ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امن کوششوں کے درمیان ایک پیچیدگی یہ بھی ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں اس کا ہدف حزب اللہ ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ بندی کے دائرے میں نہیں آتیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ اسی تنازع کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگ کے اثرات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ کے باعث ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے اور صرف ایرانی جہازوں کو آمد و رفت کی اجازت دی ہے۔ یہ آبنائے عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں خلیجی خطے سے برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، خصوصاً ایشیا اور یورپ کو ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث توانائی کے بڑے درآمد کنندگان متبادل ذرائع کی تلاش میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے منگل کے روز اس تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتے ہوئے عالمی اقتصادی شرحِ نمو کا تخمینہ کم کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بدترین صورتحال میں عالمی معیشت کساد بازاری کے دہانے تک جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی منڈی کو مزید دباؤ کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ دو امریکی حکام کے مطابق امریکہ اس ہفتے ختم ہونے والی ایرانی تیل کی سمندری برآمدات پر 30 روزہ پابندی میں توسیع کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اسی طرح روسی تیل سے متعلق ایک اسی نوعیت کی چھوٹ بھی خاموشی سے ختم ہونے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ میں اب تک مجموعی طور پر تقریباً 5 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 3 ہزار ایران اور 2 ہزار لبنان میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے صوبہ تہران کے گورنر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد طلبہ، خواتین، اساتذہ اور یونیورسٹی پروفیسروں کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں تقریباً 40 ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ اسکولوں، کلینکس اور ایمرجنسی سروسز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جیسا کہ بدھ کے روز سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور ان کے نتیجے میں معاہدہ بھی طے پا سکتا ہے، جبکہ انہوں نے دنیا کو ”حیران کن دو دنوں“ کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی افواج کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی کے دوران ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے کئی جہاز واپس لوٹا دیے گئے۔</strong></p>
<p>پاکستان میں ایک بار پھر امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مزید مذاکرات کے امکان کے ساتھ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اتوار کو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی، نے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کے صحافی جوناتھن کارل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میرا خیال ہے آپ آنے والے دو دنوں میں حیران کن پیش رفت دیکھیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں 21 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ ”یہ معاملہ کسی بھی سمت جا سکتا ہے، لیکن میرے خیال میں معاہدہ زیادہ بہتر ہے کیونکہ پھر وہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اب واقعی ایک مختلف نظام ہے۔ بہرحال ہم نے شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔“ یہ بیان کارل کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کے مطابق سامنے آیا۔</p>
<p>پاکستان، ایران اور کئی خلیجی ممالک کے حکام نے بھی کہا ہے کہ ممکن ہے امریکہ اور ایران کے مذاکراتی وفود اسی ہفتے کے دوران دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے میں ناکامی ہوئی۔ یہ جنگ امریکہ-اسرائیل کی ایران پر کارروائیوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ہمسایہ ممالک پر حملے کیے اور لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری متوازی تنازع بھی دوبارہ بھڑک اٹھا۔</p>
<p>ٹرمپ کے مثبت بیانات کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی اور نئی ریکارڈ سطحیں سامنے آنے کا امکان بڑھ گیا۔ دوسری جانب خام تیل کی قیمتیں، جو منگل اور بدھ کی ابتدائی تجارت میں کمی کا شکار تھیں، امریکی فوج کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے بعد تقریباً 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی نے ایران سے سمندری راستے سے ہونے والی تمام تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔</p>
<p>مزید جہازوں کو بھی امریکی ناکہ بندی کے تحت واپس لوٹایا جا رہا ہے، جن میں امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والا، چینی ملکیت کا آئل ٹینکر “ریچ سٹاری” بھی شامل ہے جو بدھ کے روز خلیج فارس سے نکل کر واپس آبنائے ہرمز کی طرف جا رہا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے پیر سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کے بعد ایران سے منسلک آٹھ آئل ٹینکرز کو روکا ہے، جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق منگل کے روز ایک امریکی ڈسٹرائر نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ چابہار سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکرز کو بھی روک لیا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی ناکہ بندی سے بچنے کے لیے اپنی جنوبی ساحلی بندرگاہوں کے علاوہ متبادل بندرگاہوں کا استعمال کرے گا اور ملک کے مختلف علاقوں میں درآمدی صلاحیت کو بڑھایا جائے گا۔</p>
<p><strong>اسلام آباد واپسی</strong></p>
<p>ٹرمپ نے منگل کو نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مذاکرات کار غالباً دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں گے، اور اس میں بڑا کردار پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے مذاکرات کو آگے بڑھانے اور ”انتہائی اچھا کردار“ ادا کرنے کا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں منگل کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک ”وسیع اور جامع معاہدہ“ چاہتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>ایران کے جوہری پروگرام پر گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں بنیادی اختلاف سامنے آیا۔ امریکی فریق نے ایران کی تمام جوہری سرگرمیوں پر 20 سالہ معطلی کی تجویز دی، جبکہ تہران نے 3 سے 5 سال کے وقفے کی پیشکش کی۔ ان تجاویز سے واقف افراد کے مطابق یہ مذاکرات کا اہم نکتہ رہا۔</p>
<p>سیول میں بات کرتے ہوئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ ایران کی یورینیم افزودگی پر کسی بھی پابندی کی مدت ایک سیاسی فیصلہ ہوگا، اور ممکن ہے کہ تہران اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر کوئی سمجھوتہ قبول کر لے۔</p>
<p>امریکہ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایران سے افزودہ جوہری مواد باہر منتقل کیا جائے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم کی جائیں۔</p>
<p>پاکستان میں جاری مذاکرات سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے بعد ہونے والی پسِ پردہ (بیک چینل) بات چیت میں فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے میں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد دونوں فریق ایک نئے مذاکراتی دور میں معاہدے کے قریب آ سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم امن کوششوں کے درمیان ایک پیچیدگی یہ بھی ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں اس کا ہدف حزب اللہ ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ بندی کے دائرے میں نہیں آتیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ اسی تنازع کا حصہ ہیں۔</p>
<p><strong>جنگ کے اثرات</strong></p>
<p>اس جنگ کے باعث ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے اور صرف ایرانی جہازوں کو آمد و رفت کی اجازت دی ہے۔ یہ آبنائے عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں خلیجی خطے سے برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، خصوصاً ایشیا اور یورپ کو ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث توانائی کے بڑے درآمد کنندگان متبادل ذرائع کی تلاش میں ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے منگل کے روز اس تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتے ہوئے عالمی اقتصادی شرحِ نمو کا تخمینہ کم کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بدترین صورتحال میں عالمی معیشت کساد بازاری کے دہانے تک جا سکتی ہے۔</p>
<p>تیل کی منڈی کو مزید دباؤ کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ دو امریکی حکام کے مطابق امریکہ اس ہفتے ختم ہونے والی ایرانی تیل کی سمندری برآمدات پر 30 روزہ پابندی میں توسیع کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اسی طرح روسی تیل سے متعلق ایک اسی نوعیت کی چھوٹ بھی خاموشی سے ختم ہونے دی گئی ہے۔</p>
<p>جنگ میں اب تک مجموعی طور پر تقریباً 5 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 3 ہزار ایران اور 2 ہزار لبنان میں شامل ہیں۔</p>
<p>ایران کے صوبہ تہران کے گورنر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد طلبہ، خواتین، اساتذہ اور یونیورسٹی پروفیسروں کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں تقریباً 40 ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ اسکولوں، کلینکس اور ایمرجنسی سروسز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جیسا کہ بدھ کے روز سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285102</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:46:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/151849133fbe7b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/151849133fbe7b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
