<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیف ٹیکسٹائل ملز کا 10 میگاواٹ کا سولر پاور سسٹم فعال، بجلی کے اخراجات میں بڑی کمی متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285098/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی معروف یارن مینوفیکچرنگ کمپنی سیف ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ  نے توانائی کے اخراجات میں کمی اور منافع بخش بنانے کے لیے 10 میگاواٹ کے سولر پاور سسٹم کی تنصیب مکمل کر لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری ایک نوٹس میں کمپنی نے اس اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ نوٹس کے مطابق سیف ٹیکسٹائل ملز نے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں واقع گدون امازئی انڈسٹریل اسٹیٹ میں اپنی ملز پر 10 میگاواٹ کا سولر پاور پراجیکٹ کامیابی سے نصب اور فعال کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام توانائی کی بچت، اخراجات کو کم کرنے اور پائیدار آپریشنز کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سولر پاور کی تنصیب سے کمپنی کا نیشنل گرڈ پر انحصار کم ہوگا اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے تحفظ ملے گا، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت کم ہوگی اور وقت کے ساتھ آپریٹنگ مارجنز میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سیف ٹیکسٹائل نے گزشتہ سال 10 میگاواٹ کے اس سسٹم کی فراہمی اور تنصیب کے لیے اسکائی الیکٹرک (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق وہ آپریشنل کارکردگی اور شیئر ہولڈرز کے لیے طویل مدتی قدر میں اضافے کے لیے اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ یہ منصوبہ کاربن فوٹ پرنٹ میں کمی کے ذریعے ماحول دوست اور پائیدار طریقوں کے حوالے سے کمپنی کے عزم کا عکاس بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیف ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو 24 دسمبر 1989 کو پاکستان میں قائم کی گئی تھی۔ کمپنی کا بنیادی کام یارن (دھاگہ) کی تیاری اور فروخت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں حالیہ عرصے میں متبادل توانائی خاص طور پر شمسی توانائی کی طرف منتقلی کے رجحان میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جو رہائشی اور تجارتی دونوں شعبوں میں یکساں مقبول ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی معروف یارن مینوفیکچرنگ کمپنی سیف ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ  نے توانائی کے اخراجات میں کمی اور منافع بخش بنانے کے لیے 10 میگاواٹ کے سولر پاور سسٹم کی تنصیب مکمل کر لی ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری ایک نوٹس میں کمپنی نے اس اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ نوٹس کے مطابق سیف ٹیکسٹائل ملز نے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں واقع گدون امازئی انڈسٹریل اسٹیٹ میں اپنی ملز پر 10 میگاواٹ کا سولر پاور پراجیکٹ کامیابی سے نصب اور فعال کر دیا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام توانائی کی بچت، اخراجات کو کم کرنے اور پائیدار آپریشنز کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سولر پاور کی تنصیب سے کمپنی کا نیشنل گرڈ پر انحصار کم ہوگا اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے تحفظ ملے گا، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت کم ہوگی اور وقت کے ساتھ آپریٹنگ مارجنز میں بہتری آئے گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ سیف ٹیکسٹائل نے گزشتہ سال 10 میگاواٹ کے اس سسٹم کی فراہمی اور تنصیب کے لیے اسکائی الیکٹرک (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق وہ آپریشنل کارکردگی اور شیئر ہولڈرز کے لیے طویل مدتی قدر میں اضافے کے لیے اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ یہ منصوبہ کاربن فوٹ پرنٹ میں کمی کے ذریعے ماحول دوست اور پائیدار طریقوں کے حوالے سے کمپنی کے عزم کا عکاس بھی ہے۔</p>
<p>سیف ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو 24 دسمبر 1989 کو پاکستان میں قائم کی گئی تھی۔ کمپنی کا بنیادی کام یارن (دھاگہ) کی تیاری اور فروخت ہے۔</p>
<p>پاکستان میں حالیہ عرصے میں متبادل توانائی خاص طور پر شمسی توانائی کی طرف منتقلی کے رجحان میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جو رہائشی اور تجارتی دونوں شعبوں میں یکساں مقبول ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285098</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 16:44:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1516443286fe5a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="1333" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1516443286fe5a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
