<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:39:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:39:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے موسمِ بہار کے اجلاس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285094/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے موسمِ بہار کے اجلاسوں (13 اپریل تا 18 اپریل 2026) کے آغاز کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے اجلاس سے ایک ہفتہ قبل یہ بیان جاری کیا: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایک بار پھر لچکدار عالمی معیشت کا امتحان لے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع نے دنیا بھر میں شدید مشکلات پیدا کی ہیں، ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ کس طرح اس صورتحال کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا جائے اور معیشتوں اور عوام پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جائے، تو آخر ہمیں کس چیز نے متاثر کیا ہے؟ سپلائی کا ایک ایسا بڑا جھٹکا جو عالمی اور غیر متوازن  ہے: یہ بڑا اس لیے ہے کیونکہ دنیا میں تیل کی یومیہ ترسیل میں تقریباً 13 فیصد اور ایل این جی  کی ترسیل میں تقریباً 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عالمی ہے کیونکہ ہم سب اب توانائی کے لیے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں سپلائی چینز متاثر ہوچکی ہیں اور یہ غیر متوازن اس لیے ہے کیونکہ اس کا اثر تنازع سے قربت، اس بات پر کہ آپ توانائی برآمد کرنے والے ملک ہیں یا درآمد کرنے والے اور آپ کی پالیسی سازی کی گنجائش پر منحصر ہے۔ اگرچہ پاکستان کے جاری ای ایف ایف پروگرام کا تیسرا جائزہ 28 مارچ کو کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، تاہم تنازع شروع ہونے کے بارہ دن بعد جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع نے مستقبل کے منظر نامے پر غیر یقینی کے بادل منڈلا دیے ہیں، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سخت عالمی مالیاتی حالات سے مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے، جو معاشی ترقی اور کرنٹ اکاؤنٹ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان طے پانے والی شرائط کی تفصیلات جو اب تک انتہائی سخت اور پیشگی رہی ہیں، بورڈ کی منظوری کے بعد ویب سائٹ پر متعلقہ دستاویزات اپ لوڈ ہونے پر جاری کی جائیں گی۔ تاہم فی الوقت بورڈ کی منظوری کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پریس ریلیز میں انہی پرانی شرائط کا اعادہ کیا گیا ہے اور ان پر عملدرآمد کی مدت میں کسی قسم کی لچک کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ ان شرائط میں ایک محتاط مالیاتی موقف برقرار رکھنا، مالیاتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانا، غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو مضبوط بنانا، اعداد و شمار پر مبنی سخت مانیٹری پالیسی کا تسلسل، توانائی شعبے کو خود کفیل بنانا، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو مزید گہرا کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسٹاف لیول معاہدے نے بلا شبہ مارکیٹ میں اس تاثر کو تقویت دی کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر ہے، یہ ایک ایسا تاثر ہے جس کی عکاسی حال ہی میں فچ کی رپورٹ میں بھی ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بی نیگیٹو پر برقرار رکھا گیا جسے انتہائی قیاس آرائی پر مبنی کریڈٹ پروفائل قرار دیا جاتا ہے جس کی وجوہات میں بیرونی ادائیگیوں کا شدید خطرہ، فنانسنگ کے بڑے چیلنجز اور زرمبادلہ کے کم ذخائر شامل ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ شاید یہ تاثر اس وقت تک تبدیل نہ ہوسکے جب تک پاکستان اس ماہ کے آخر تک متحدہ عرب امارات کے 3.450 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے اپنے ارادے کو پورا نہیں کر لیتا، یہ واپسی ممکنہ طور پر ان تاحال غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر منحصر ہے جن کے مطابق حکومت سعودی عرب اور قطر سے 5 ارب ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے چیف اکانومسٹ نے 11 مارچ کو ورلڈ اکنامک آؤٹ لک اپریل 2026 پر ایک پریس بریفنگ دی جس میں ویب سائٹ پر نمایاں کیا گیا یہ بیان بھی شامل ہے: دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کے رجحانات اب عام ہو گئے ہیں، بالخصوص ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر معیشتوں میں۔ ایک عام اضافے کے دوران، دفاعی اخراجات ڈھائی سال کے عرصے میں جی ڈی پی کے تقریباً 2.7 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جس کا تقریباً دو تہائی حصہ خسارے کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 2.6 فیصد تک بگڑ جاتا ہے، عوامی قرضوں میں تین سالوں کے اندر تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوتا ہے اور بیرونی توازن کی صورتحال ابتر ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے اور دنیا کا کوئی بھی ملک اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، لہٰذا دفاعی اخراجات میں اضافہ مکمل طور پر جائز ہے، تاہم یہ امید کی جاتی ہے کہ حکومت جہاں آپریشنل اخراجات جاری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی، وہیں پنشن اصلاحات سمیت تمام نان آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی کی جائے گی، کیونکہ ٹیکس دہندگان سویلین اور فوجی اہلکاروں کی پنشن کا پورا بوجھ اٹھاتے ہیں جو کہ بجٹ میں ایک ٹریلین روپے سے کچھ زیادہ رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت انگیز طور پر ورلڈ بینک کی ویب سائٹ صرف معاشی معاملات پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور اس نے اس سوال کو نمایاں کیا ہے کہ کیا پانی روزگار اور ترقی کی اگلی لہر کو تقویت دے سکتا ہے۔ پاکستان بدستور پانی کی قلت کا شکار ملک  ہے، یہ ایسی صورتحال ہے جو مزید سنگین ہو سکتی ہے اگر بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ رواں سال واٹر ریسورسز ڈویژن کے لیے محض 133,424 ملین روپے مختص کیے گئے جو گزشتہ سال کے 184,598 ملین روپے سے بھی کم ہیں جبکہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے اس سے دگنی رقم رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصراً یہ کہ آنے والے بجٹ میں اخراجات کو معقول بنانے کے لیے چند اہم اصلاحات کی ضرورت ہے: ٹیکس  شعبے میں تبدیلی (غیر براہ راست ٹیکسوں پر بھاری انحصار ختم کر کے اسے ’ادائیگی کی سکت‘ کے مطابق ٹیکس کے نظام کی طرف لانا)، توانائی کے شعبے میں اصلاحات (قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید ادھار لینے کے بجائے متبادل حل تلاش کرنا، خاص طور پر جب مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی مانیٹری پالیسی کمیٹی کو پالیسی ریٹ میں اضافے پر مجبور کر سکتی ہے)، اور جاری اخراجات میں بڑی کٹوتی کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے موسمِ بہار کے اجلاسوں (13 اپریل تا 18 اپریل 2026) کے آغاز کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے اجلاس سے ایک ہفتہ قبل یہ بیان جاری کیا: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایک بار پھر لچکدار عالمی معیشت کا امتحان لے رہی ہے۔</strong></p>
<p>اس تنازع نے دنیا بھر میں شدید مشکلات پیدا کی ہیں، ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ کس طرح اس صورتحال کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا جائے اور معیشتوں اور عوام پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جائے، تو آخر ہمیں کس چیز نے متاثر کیا ہے؟ سپلائی کا ایک ایسا بڑا جھٹکا جو عالمی اور غیر متوازن  ہے: یہ بڑا اس لیے ہے کیونکہ دنیا میں تیل کی یومیہ ترسیل میں تقریباً 13 فیصد اور ایل این جی  کی ترسیل میں تقریباً 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>یہ عالمی ہے کیونکہ ہم سب اب توانائی کے لیے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں سپلائی چینز متاثر ہوچکی ہیں اور یہ غیر متوازن اس لیے ہے کیونکہ اس کا اثر تنازع سے قربت، اس بات پر کہ آپ توانائی برآمد کرنے والے ملک ہیں یا درآمد کرنے والے اور آپ کی پالیسی سازی کی گنجائش پر منحصر ہے۔ اگرچہ پاکستان کے جاری ای ایف ایف پروگرام کا تیسرا جائزہ 28 مارچ کو کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، تاہم تنازع شروع ہونے کے بارہ دن بعد جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع نے مستقبل کے منظر نامے پر غیر یقینی کے بادل منڈلا دیے ہیں، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سخت عالمی مالیاتی حالات سے مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے، جو معاشی ترقی اور کرنٹ اکاؤنٹ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان طے پانے والی شرائط کی تفصیلات جو اب تک انتہائی سخت اور پیشگی رہی ہیں، بورڈ کی منظوری کے بعد ویب سائٹ پر متعلقہ دستاویزات اپ لوڈ ہونے پر جاری کی جائیں گی۔ تاہم فی الوقت بورڈ کی منظوری کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔</p>
<p>تاہم پریس ریلیز میں انہی پرانی شرائط کا اعادہ کیا گیا ہے اور ان پر عملدرآمد کی مدت میں کسی قسم کی لچک کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ ان شرائط میں ایک محتاط مالیاتی موقف برقرار رکھنا، مالیاتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانا، غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو مضبوط بنانا، اعداد و شمار پر مبنی سخت مانیٹری پالیسی کا تسلسل، توانائی شعبے کو خود کفیل بنانا، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو مزید گہرا کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا شامل ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسٹاف لیول معاہدے نے بلا شبہ مارکیٹ میں اس تاثر کو تقویت دی کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر ہے، یہ ایک ایسا تاثر ہے جس کی عکاسی حال ہی میں فچ کی رپورٹ میں بھی ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بی نیگیٹو پر برقرار رکھا گیا جسے انتہائی قیاس آرائی پر مبنی کریڈٹ پروفائل قرار دیا جاتا ہے جس کی وجوہات میں بیرونی ادائیگیوں کا شدید خطرہ، فنانسنگ کے بڑے چیلنجز اور زرمبادلہ کے کم ذخائر شامل ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ شاید یہ تاثر اس وقت تک تبدیل نہ ہوسکے جب تک پاکستان اس ماہ کے آخر تک متحدہ عرب امارات کے 3.450 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے اپنے ارادے کو پورا نہیں کر لیتا، یہ واپسی ممکنہ طور پر ان تاحال غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر منحصر ہے جن کے مطابق حکومت سعودی عرب اور قطر سے 5 ارب ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے چیف اکانومسٹ نے 11 مارچ کو ورلڈ اکنامک آؤٹ لک اپریل 2026 پر ایک پریس بریفنگ دی جس میں ویب سائٹ پر نمایاں کیا گیا یہ بیان بھی شامل ہے: دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کے رجحانات اب عام ہو گئے ہیں، بالخصوص ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر معیشتوں میں۔ ایک عام اضافے کے دوران، دفاعی اخراجات ڈھائی سال کے عرصے میں جی ڈی پی کے تقریباً 2.7 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جس کا تقریباً دو تہائی حصہ خسارے کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 2.6 فیصد تک بگڑ جاتا ہے، عوامی قرضوں میں تین سالوں کے اندر تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوتا ہے اور بیرونی توازن کی صورتحال ابتر ہوجاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے اور دنیا کا کوئی بھی ملک اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، لہٰذا دفاعی اخراجات میں اضافہ مکمل طور پر جائز ہے، تاہم یہ امید کی جاتی ہے کہ حکومت جہاں آپریشنل اخراجات جاری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی، وہیں پنشن اصلاحات سمیت تمام نان آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی کی جائے گی، کیونکہ ٹیکس دہندگان سویلین اور فوجی اہلکاروں کی پنشن کا پورا بوجھ اٹھاتے ہیں جو کہ بجٹ میں ایک ٹریلین روپے سے کچھ زیادہ رکھا گیا ہے۔</p>
<p>حیرت انگیز طور پر ورلڈ بینک کی ویب سائٹ صرف معاشی معاملات پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور اس نے اس سوال کو نمایاں کیا ہے کہ کیا پانی روزگار اور ترقی کی اگلی لہر کو تقویت دے سکتا ہے۔ پاکستان بدستور پانی کی قلت کا شکار ملک  ہے، یہ ایسی صورتحال ہے جو مزید سنگین ہو سکتی ہے اگر بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ رواں سال واٹر ریسورسز ڈویژن کے لیے محض 133,424 ملین روپے مختص کیے گئے جو گزشتہ سال کے 184,598 ملین روپے سے بھی کم ہیں جبکہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے اس سے دگنی رقم رکھی گئی ہے۔</p>
<p>مختصراً یہ کہ آنے والے بجٹ میں اخراجات کو معقول بنانے کے لیے چند اہم اصلاحات کی ضرورت ہے: ٹیکس  شعبے میں تبدیلی (غیر براہ راست ٹیکسوں پر بھاری انحصار ختم کر کے اسے ’ادائیگی کی سکت‘ کے مطابق ٹیکس کے نظام کی طرف لانا)، توانائی کے شعبے میں اصلاحات (قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید ادھار لینے کے بجائے متبادل حل تلاش کرنا، خاص طور پر جب مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی مانیٹری پالیسی کمیٹی کو پالیسی ریٹ میں اضافے پر مجبور کر سکتی ہے)، اور جاری اخراجات میں بڑی کٹوتی کرنا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285094</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 14:52:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/15130110b52eff5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/15130110b52eff5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
