<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران مذاکرات استحکام کے لیے ناگزیر، پاکستان نے اثرات دیگر علاقوں تک پھیلنے کے خطرات سے خبردار کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285092/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں طویل مدتی اضافہ، خاص طور پر توانائی کی فراہمی کے راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ، مہنگائی، ایندھن کی دستیابی اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے درآمدی توانائی پر گہرے انحصار اور محدود ذخائرکا حوالہ بھی دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این بی سی  کو دیے گئے انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سمیت دیگر پیش رفتوں کی باریک بینی سے نگرانی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ سفارت کاری ایک عمل ہے، کوئی ایک واقعہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ لہذا ہماری قیادت اب بھی اس (سفارتی عمل) پر کاربند ہے اور گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایک انتہائی مخلصانہ کوشش کی گئی، جسے امریکی اور ایرانی دونوں قیادتوں نے تسلیم کیا۔ اس وقت بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مذاکرات کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان دہائیوں میں سب سے اہم رابطہ قرار دیا گیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگرچہ پیش رفت بتدریج ہو رہی ہے لیکن مسلسل رابطہ خود ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ رابطوں میں سہولت کاری کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  ہمیں پرامید رہنا چاہیے کیونکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ بطور ملک ہم اس جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہیں لیکن ہم جنگ جیسی صورتحال میں ضرور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ محمد اورنگزیب نے طویل عدم استحکام کے معاشی اثرات پر بڑھتی ہوئی تشویش کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  پہلے درجے کے اثرات جو ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں وہ ایندھن کی دستیابی، قیمتوں کے تعین اور ان کی منتقلی کی صورت میں ہوتے ہیں لیکن اگر اس تنازع کی مدت اور شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات پوری دنیا کے لیے اور خاص طور پر ہمارے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ سے درآمد شدہ ایندھن بشمول خام تیل، گیس، ڈیزل، ہوا بازی کے ایندھن اور ایل پی جی  پر منحصر ہے جس کی وجہ سے علاقائی استحکام ملکی معاشی انتظام کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  ہمارے ذخائر اتنے کافی ہیں کہ ہمیں اس ماہ کے آخر اور اگلے ماہ تک لے جائیں لیکن بطور ملک جو تجارتی ذخائر پر انحصار کرتا ہے اور ہمارے پاس اسٹریٹجک ذخائر نہیں ہیں، وہاں (ایندھن کی) دستیابی اور قیمت دونوں ہی اصل مسئلہ بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں طویل مدتی اضافہ، خاص طور پر توانائی کی فراہمی کے راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ، مہنگائی، ایندھن کی دستیابی اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے درآمدی توانائی پر گہرے انحصار اور محدود ذخائرکا حوالہ بھی دیا۔</strong></p>
<p>سی این بی سی  کو دیے گئے انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سمیت دیگر پیش رفتوں کی باریک بینی سے نگرانی کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ سفارت کاری ایک عمل ہے، کوئی ایک واقعہ نہیں۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ لہذا ہماری قیادت اب بھی اس (سفارتی عمل) پر کاربند ہے اور گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایک انتہائی مخلصانہ کوشش کی گئی، جسے امریکی اور ایرانی دونوں قیادتوں نے تسلیم کیا۔ اس وقت بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>ان مذاکرات کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان دہائیوں میں سب سے اہم رابطہ قرار دیا گیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگرچہ پیش رفت بتدریج ہو رہی ہے لیکن مسلسل رابطہ خود ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ رابطوں میں سہولت کاری کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  ہمیں پرامید رہنا چاہیے کیونکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ بطور ملک ہم اس جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہیں لیکن ہم جنگ جیسی صورتحال میں ضرور ہیں۔</p>
<p>اسی کے ساتھ محمد اورنگزیب نے طویل عدم استحکام کے معاشی اثرات پر بڑھتی ہوئی تشویش کو بھی اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  پہلے درجے کے اثرات جو ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں وہ ایندھن کی دستیابی، قیمتوں کے تعین اور ان کی منتقلی کی صورت میں ہوتے ہیں لیکن اگر اس تنازع کی مدت اور شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات پوری دنیا کے لیے اور خاص طور پر ہمارے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہوں گے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ سے درآمد شدہ ایندھن بشمول خام تیل، گیس، ڈیزل، ہوا بازی کے ایندھن اور ایل پی جی  پر منحصر ہے جس کی وجہ سے علاقائی استحکام ملکی معاشی انتظام کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  ہمارے ذخائر اتنے کافی ہیں کہ ہمیں اس ماہ کے آخر اور اگلے ماہ تک لے جائیں لیکن بطور ملک جو تجارتی ذخائر پر انحصار کرتا ہے اور ہمارے پاس اسٹریٹجک ذخائر نہیں ہیں، وہاں (ایندھن کی) دستیابی اور قیمت دونوں ہی اصل مسئلہ بن جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285092</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 14:16:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/151400352df0a48.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/151400352df0a48.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
