<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، فنانشل ٹائمز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285087/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر چین سے تیار کردہ ایک خفیہ جاسوس سیٹلائٹ حاصل کیا ہے، جس سے اسے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی نئی صلاحیت حاصل ہوئی ہے، خاص طور پر حالیہ جنگ کے دوران۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سیٹلائٹ ٹی ای ای-01بی، جسے چینی کمپنی ارتھ آئی کمپنی نے تیار اور خلا میں بھیجا تھا، 2024 کے آخر میں ایران کی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیک ہونے والی ایرانی فوجی دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کو خطے میں امریکی اہم فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ نے سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس، اردن کے موفّق السلتی ایئر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب علاقوں اور عراق کے اربیل ایئرپورٹ کی نگرانی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے پہلے اور بعد میں لی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران نے بیجنگ کی ایک کمپنی کے گراؤنڈ اسٹیشنز تک بھی رسائی حاصل کی۔ تاہم اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور متعلقہ فریقین نے فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر چین سے تیار کردہ ایک خفیہ جاسوس سیٹلائٹ حاصل کیا ہے، جس سے اسے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی نئی صلاحیت حاصل ہوئی ہے، خاص طور پر حالیہ جنگ کے دوران۔</strong></p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سیٹلائٹ ٹی ای ای-01بی، جسے چینی کمپنی ارتھ آئی کمپنی نے تیار اور خلا میں بھیجا تھا، 2024 کے آخر میں ایران کی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا۔</p>
<p>لیک ہونے والی ایرانی فوجی دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کو خطے میں امریکی اہم فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ نے سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس، اردن کے موفّق السلتی ایئر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب علاقوں اور عراق کے اربیل ایئرپورٹ کی نگرانی کی۔</p>
<p>یہ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے پہلے اور بعد میں لی گئیں۔</p>
<p>فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران نے بیجنگ کی ایک کمپنی کے گراؤنڈ اسٹیشنز تک بھی رسائی حاصل کی۔ تاہم اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور متعلقہ فریقین نے فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285087</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 13:02:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1513002263b1d3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1513002263b1d3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
