<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک ایران مذاکرات کی توقعات، ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285082/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر بدھ کو چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا جس نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد حاصل ہونے والے تقریباً تمام فوائد کھودیے ہیں۔ ڈالر میں اس کمی کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کے امید افزا آثار ہیں جس نے سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کی رغبت  پیدا کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران نے 28 فروری کو ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر رکھا ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے پانچویں حصے کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس اقدام سے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مذاکرات کی ناکامی کے بعد واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردی تھی، تاہم منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امیدیں بڑھ گئیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات آنے والے دنوں میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1793 ڈالر پر فروخت ہوا جو 2 مارچ کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی پاؤنڈ (اسٹرلنگ) 1.3574 ڈالر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 98.109 پر رہا، جو چھ ہفتوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی بڑی کامیابی (بریک تھرو) کے بغیر ختم ہو گئے تھے جس سے دو ہفتوں کی اس جنگ بندی کی پائیداری پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں تاہم ابھی ایک ہفتہ باقی ہے،سرمایہ کار ابھی تک ان امیدوں سے وابستہ ہیں کہ سفارت کاری اب بھی کوئی حل نکال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی کے مارکیٹ اینالسٹ، ٹونی سائیکامور کا کہنا ہے کہ اس توقع میں اضافہ ہورہا ہے کہ یہ تعطل جلد حل ہو جائے گا جس سے امریکی انتظامیہ کو یہ موقع ملے گا کہ وہ مڈ ٹرم انتخابات سے قبل معیشت کو متحرک کرنے سے پہلے اپنی جیت کا اعلان کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سیشن میں 4.6 فیصد کی بڑی گراوٹ کے بعد برینٹ کروڈ آئل کے مستقبل کے سودے  0.28 فیصد مزید گر کر 94.52 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل منگل کے روز 7.9 فیصد گرنے کے بعد مزید 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 90.64 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی ڈالر 0.7124 امریکی ڈالر پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تجارت میں جاپانی ین معمولی تبدیلی کے ساتھ 158.88 فی امریکی ڈالر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بٹ کوائن 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 74,612 ڈالر پر پہنچ گیا جو منگل کو چھوئی گئی دو ماہ کی بلند ترین سطح سے تھوڑا ہی نیچے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر بدھ کو چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا جس نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد حاصل ہونے والے تقریباً تمام فوائد کھودیے ہیں۔ ڈالر میں اس کمی کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کے امید افزا آثار ہیں جس نے سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کی رغبت  پیدا کی ہے۔</strong></p>
<p>تہران نے 28 فروری کو ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر رکھا ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے پانچویں حصے کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس اقدام سے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مذاکرات کی ناکامی کے بعد واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردی تھی، تاہم منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امیدیں بڑھ گئیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات آنے والے دنوں میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>یورو 1.1793 ڈالر پر فروخت ہوا جو 2 مارچ کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
<p>برطانوی پاؤنڈ (اسٹرلنگ) 1.3574 ڈالر پر رہا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 98.109 پر رہا، جو چھ ہفتوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
<p>اگرچہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی بڑی کامیابی (بریک تھرو) کے بغیر ختم ہو گئے تھے جس سے دو ہفتوں کی اس جنگ بندی کی پائیداری پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں تاہم ابھی ایک ہفتہ باقی ہے،سرمایہ کار ابھی تک ان امیدوں سے وابستہ ہیں کہ سفارت کاری اب بھی کوئی حل نکال سکتی ہے۔</p>
<p>آئی جی کے مارکیٹ اینالسٹ، ٹونی سائیکامور کا کہنا ہے کہ اس توقع میں اضافہ ہورہا ہے کہ یہ تعطل جلد حل ہو جائے گا جس سے امریکی انتظامیہ کو یہ موقع ملے گا کہ وہ مڈ ٹرم انتخابات سے قبل معیشت کو متحرک کرنے سے پہلے اپنی جیت کا اعلان کر سکے۔</p>
<p>گزشتہ سیشن میں 4.6 فیصد کی بڑی گراوٹ کے بعد برینٹ کروڈ آئل کے مستقبل کے سودے  0.28 فیصد مزید گر کر 94.52 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔</p>
<p>امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل منگل کے روز 7.9 فیصد گرنے کے بعد مزید 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 90.64 ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>آسٹریلوی ڈالر 0.7124 امریکی ڈالر پر مستحکم رہا۔</p>
<p>ابتدائی تجارت میں جاپانی ین معمولی تبدیلی کے ساتھ 158.88 فی امریکی ڈالر پر رہا۔</p>
<p>بٹ کوائن 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 74,612 ڈالر پر پہنچ گیا جو منگل کو چھوئی گئی دو ماہ کی بلند ترین سطح سے تھوڑا ہی نیچے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285082</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 12:41:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/151240598d41f01.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/151240598d41f01.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
