<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب پاکستان کو مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس دیگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے اضافی 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس دینے کا وعدہ کیا ہے، جس کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کا موجودہ 5 ارب ڈالر کا ڈپازٹ اب سالانہ رول اوور کی سابقہ شرط کے تحت نہیں رہے گا بلکہ اسے طویل مدت کے لیے توسیع دی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے یہ اعلان واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاس 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بدھ کو جاری سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے پاکستان کے لیے سعودی مالی معاونت اور حکومت کی بیرونی فنانسنگ حکمتِ عملی سے متعلق اہم تفصیلات بھی شیئر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ مالی تعاون پاکستان کی بیرونی فنانسنگ ضروریات کے لیے نہایت اہم وقت پر سامنے آیا ہے اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے اور بیرونی کھاتہ مضبوط ہوگا۔ وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مارکیٹ کی ضروریات اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں مالی سال کے اختتام تک تقریباً 18 ارب ڈالر کے ذخائر کا ہدف شامل ہے، جو لگ بھگ 3.3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے ادا کر دیا، جسے انہوں نے نان ایونٹ قرار دیا، اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام آئندہ بیرونی ادائیگیوں اور میچورٹیز بروقت مکمل کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے زور دیا کہ پاکستان کی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی واضح ہے اور اسے ذمہ داری اور نظم و ضبط کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن میں اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے ہمراہ سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے تفصیلی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں سعودی وزیر خزانہ سے ملاقات ہوئی تھی، تاہم حکومت نے باضابطہ تصدیق سے پہلے میڈیا قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا کیونکہ ایسے معاملات میں وضاحت اور باہمی اتفاق ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے سعودی قیادت، خصوصاً ولی عہد محمد بن سلمان، سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان اور نائب وزیر خزانہ کا پاکستان کے لیے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اس مالی پیکج کو حتمی شکل دینے میں ان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی اور معاشی قیادت کے کردار کو بھی تسلیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت اعتماد اور مثبت تاثر انتہائی اہم ہیں اور پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور دیگر شراکت داروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ عالمی برادری پاکستان کے حالیہ سفارتی کردار کو سراہ رہی ہے، جس کے ذریعے ایسے فریقین کے درمیان بات چیت ممکن ہوئی جو دہائیوں سے براہِ راست مذاکرات نہیں کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ سعودی عرب کی بروقت مالی معاونت اور عالمی سطح پر بڑھتے اعتماد سے پاکستان کو معیشت اور بیرونی کھاتے کے حوالے سے اہم تقویت ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی کو مزید وسعت دے رہا ہے، جس میں گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور پہلی مرتبہ پانڈا بانڈ کے اجرا کی منصوبہ بندی شامل ہے تاکہ فنڈنگ کے ذرائع متنوع بنائے جا سکیں اور مارکیٹ تک رسائی مضبوط ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر میکرو اکنامک استحکام، بیرونی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی، اصلاحات کے تسلسل اور دوطرفہ و کثیرالجہتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے اضافی 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس دینے کا وعدہ کیا ہے، جس کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کا موجودہ 5 ارب ڈالر کا ڈپازٹ اب سالانہ رول اوور کی سابقہ شرط کے تحت نہیں رہے گا بلکہ اسے طویل مدت کے لیے توسیع دی جائے گی۔</strong></p>
<p>محمد اورنگزیب نے یہ اعلان واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاس 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بدھ کو جاری سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے پاکستان کے لیے سعودی مالی معاونت اور حکومت کی بیرونی فنانسنگ حکمتِ عملی سے متعلق اہم تفصیلات بھی شیئر کیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ مالی تعاون پاکستان کی بیرونی فنانسنگ ضروریات کے لیے نہایت اہم وقت پر سامنے آیا ہے اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے اور بیرونی کھاتہ مضبوط ہوگا۔ وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مارکیٹ کی ضروریات اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں مالی سال کے اختتام تک تقریباً 18 ارب ڈالر کے ذخائر کا ہدف شامل ہے، جو لگ بھگ 3.3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے ادا کر دیا، جسے انہوں نے نان ایونٹ قرار دیا، اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام آئندہ بیرونی ادائیگیوں اور میچورٹیز بروقت مکمل کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے زور دیا کہ پاکستان کی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی واضح ہے اور اسے ذمہ داری اور نظم و ضبط کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن میں اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے ہمراہ سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے تفصیلی ملاقات کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں سعودی وزیر خزانہ سے ملاقات ہوئی تھی، تاہم حکومت نے باضابطہ تصدیق سے پہلے میڈیا قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا کیونکہ ایسے معاملات میں وضاحت اور باہمی اتفاق ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے سعودی قیادت، خصوصاً ولی عہد محمد بن سلمان، سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان اور نائب وزیر خزانہ کا پاکستان کے لیے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اس مالی پیکج کو حتمی شکل دینے میں ان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی اور معاشی قیادت کے کردار کو بھی تسلیم کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت اعتماد اور مثبت تاثر انتہائی اہم ہیں اور پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور دیگر شراکت داروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ عالمی برادری پاکستان کے حالیہ سفارتی کردار کو سراہ رہی ہے، جس کے ذریعے ایسے فریقین کے درمیان بات چیت ممکن ہوئی جو دہائیوں سے براہِ راست مذاکرات نہیں کر رہے تھے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ سعودی عرب کی بروقت مالی معاونت اور عالمی سطح پر بڑھتے اعتماد سے پاکستان کو معیشت اور بیرونی کھاتے کے حوالے سے اہم تقویت ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی کو مزید وسعت دے رہا ہے، جس میں گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور پہلی مرتبہ پانڈا بانڈ کے اجرا کی منصوبہ بندی شامل ہے تاکہ فنڈنگ کے ذرائع متنوع بنائے جا سکیں اور مارکیٹ تک رسائی مضبوط ہو۔</p>
<p>انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر میکرو اکنامک استحکام، بیرونی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی، اصلاحات کے تسلسل اور دوطرفہ و کثیرالجہتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285064</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 09:01:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/g4wv4MK_kDM/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/g4wv4MK_kDM/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=g4wv4MK_kDM"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
