<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:48:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:48:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا بجلی کے نرخ بڑھانے سے بچنے کے لیے تقریباً ڈھائی گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285056/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے سے صارفین کو تحفظ دینے کے لیے اوقاتِ کار کے دوران روزانہ تقریباً ڈھائی گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے ”پیک ریلیف اسٹریٹجی“ کا نام دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ توانائی کے مطابق یہ حکمت عملی بڑھتی ہوئی عالمی ایندھن قیمتوں کے اثرات سے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے تیار کی گئی ہے، اور اس کے تحت اب تک مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود نظام میں مسلسل اصلاحات اور میرٹ آرڈر پر سخت عملدرآمد کے نتیجے میں جولائی سے فروری کے دوران بجلی کی اوسط قیمت میں 71 پیسے فی یونٹ کمی ہوئی ہے۔ یہ کمی کم لاگت توانائی ذرائع کو ترجیح دینے اور انتظامی و ترسیلی نقصانات میں کمی کے ذریعے جدید گرڈ مینجمنٹ کی بدولت حاصل کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MoWP15/status/2043998431732023534'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MoWP15/status/2043998431732023534"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے موجودہ چیلنجز کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ قومی گرڈ کو شام 5 بجے سے رات ایک بجے تک کے اوقات میں طلب میں نمایاں اضافے کا سامنا ہوتا ہے، جس سے نظام پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک عنصر ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں موسمی کمی بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اوقات میں مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار سے پیدا ہونے والے ممکنہ بھاری ٹیرف اضافے سے بچنے کے لیے حکومت نے پیک اوقات میں تقریباً ڈھائی گھنٹے کی اسٹریٹجک بجلی معطلی کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے زور دیا کہ یہ اقدام روایتی لوڈشیڈنگ نہیں بلکہ ایک ہدفی مالیاتی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد فی یونٹ قیمت میں اندازاً 3 سے 6 روپے تک کے اضافے کو روکنا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف صورتحال کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مقامی گیس کو پاور پلانٹس کی طرف موڑنے کو یقینی بنایا جا سکے، جس کے نتیجے میں 80 فیصد صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کو پہلے ہی روکا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں ( ڈسکوز) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فیڈر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کے شیڈولز جاری کریں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم آہنگی کے ذریعے کمرشل مارکیٹوں کی بروقت بندش بھی طلب میں کمی اور بجلی کی لاگت گھٹانے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کے الیکٹرک اور حیسکو کے صارفین لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی روز بعد میں جاری ہونے والے ایک علیحدہ بیان میں پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحت کی کہ کے الیکٹرک  اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی حدود میں آنے والے صارفین کو سوا دو گھنٹے کی اس لوڈشیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ  ملک کے جنوبی حصے میں سستی بجلی کی پیداوار اور حیسکو و کے الیکٹرک کو اس کی فراہمی کی بدولت، ان دونوں کمپنیوں میں سوا دو گھنٹے کی  پیک آورز ریلیف اسٹریٹجی  کے تحت لوڈ مینجمنٹ نہیں کی جا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان تقسیم کار کمپنیوں کا فرنس آئل پر چلنے والے بجلی گھروں پر کوئی انحصار نہیں ہے، جبکہ جنوبی خطے میں فرنس آئل کے علاوہ دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی وافر مقدار میں موجود ہے۔ چونکہ یہ بجلی خصوصی طور پر ان دو کمپنیوں کو فراہم کی جا رہی ہے، اس لیے صارفین کو اس سلسلے میں کسی غیر ضروری زحمت میں نہیں ڈالا جا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے سے صارفین کو تحفظ دینے کے لیے اوقاتِ کار کے دوران روزانہ تقریباً ڈھائی گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے ”پیک ریلیف اسٹریٹجی“ کا نام دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ توانائی کے مطابق یہ حکمت عملی بڑھتی ہوئی عالمی ایندھن قیمتوں کے اثرات سے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے تیار کی گئی ہے، اور اس کے تحت اب تک مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود نظام میں مسلسل اصلاحات اور میرٹ آرڈر پر سخت عملدرآمد کے نتیجے میں جولائی سے فروری کے دوران بجلی کی اوسط قیمت میں 71 پیسے فی یونٹ کمی ہوئی ہے۔ یہ کمی کم لاگت توانائی ذرائع کو ترجیح دینے اور انتظامی و ترسیلی نقصانات میں کمی کے ذریعے جدید گرڈ مینجمنٹ کی بدولت حاصل کی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MoWP15/status/2043998431732023534'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MoWP15/status/2043998431732023534"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان نے موجودہ چیلنجز کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ قومی گرڈ کو شام 5 بجے سے رات ایک بجے تک کے اوقات میں طلب میں نمایاں اضافے کا سامنا ہوتا ہے، جس سے نظام پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک عنصر ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں موسمی کمی بھی ہے۔</p>
<p>ان اوقات میں مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار سے پیدا ہونے والے ممکنہ بھاری ٹیرف اضافے سے بچنے کے لیے حکومت نے پیک اوقات میں تقریباً ڈھائی گھنٹے کی اسٹریٹجک بجلی معطلی کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے زور دیا کہ یہ اقدام روایتی لوڈشیڈنگ نہیں بلکہ ایک ہدفی مالیاتی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد فی یونٹ قیمت میں اندازاً 3 سے 6 روپے تک کے اضافے کو روکنا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف صورتحال کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مقامی گیس کو پاور پلانٹس کی طرف موڑنے کو یقینی بنایا جا سکے، جس کے نتیجے میں 80 فیصد صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کو پہلے ہی روکا جا چکا ہے۔</p>
<p>بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں ( ڈسکوز) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فیڈر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کے شیڈولز جاری کریں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم آہنگی کے ذریعے کمرشل مارکیٹوں کی بروقت بندش بھی طلب میں کمی اور بجلی کی لاگت گھٹانے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔</p>
<p><strong>کے الیکٹرک اور حیسکو کے صارفین لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ</strong></p>
<p>اسی روز بعد میں جاری ہونے والے ایک علیحدہ بیان میں پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحت کی کہ کے الیکٹرک  اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی حدود میں آنے والے صارفین کو سوا دو گھنٹے کی اس لوڈشیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ  ملک کے جنوبی حصے میں سستی بجلی کی پیداوار اور حیسکو و کے الیکٹرک کو اس کی فراہمی کی بدولت، ان دونوں کمپنیوں میں سوا دو گھنٹے کی  پیک آورز ریلیف اسٹریٹجی  کے تحت لوڈ مینجمنٹ نہیں کی جا رہی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان تقسیم کار کمپنیوں کا فرنس آئل پر چلنے والے بجلی گھروں پر کوئی انحصار نہیں ہے، جبکہ جنوبی خطے میں فرنس آئل کے علاوہ دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی وافر مقدار میں موجود ہے۔ چونکہ یہ بجلی خصوصی طور پر ان دو کمپنیوں کو فراہم کی جا رہی ہے، اس لیے صارفین کو اس سلسلے میں کسی غیر ضروری زحمت میں نہیں ڈالا جا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285056</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 19:38:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/14175556e13bc57.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/14175556e13bc57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
