<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی تا مارچ: گاڑیوں کی فروخت میں 45 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ 2025-26) کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں ابھرتی ہوئی الیکٹرک وہیکل (ای وی) انڈسٹری کے لیے حکومتی تعاون کے باوجود انجن  والی گاڑیاں تاحال الیکٹرک گاڑیوں پر غالب ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تمام دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ فارم ٹریکٹرز کی فروخت میں گزشتہ کئی مہینوں کی طرح حسبِ معمول کمی کا سلسلہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال جولائی تا مارچ کاروں کی فروخت (ایل سی وی، وینز اور جیپس کے علاوہ) 45 فیصد اضافے کے ساتھ 109,655 یونٹس تک پہنچ گئی جب کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 75,397 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیپوں اور پک اپس کی فروخت 35 فیصد اضافے کے ساتھ 34,374 یونٹس تک پہنچ گئی۔ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں بالترتیب 82 فیصد (5,143 یونٹس) اور 33 فیصد (720 یونٹس) اضافہ ہوا۔ اسی طرح موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت بھی 31 فیصد اضافے کے ساتھ 1,429,501 یونٹس رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فصلوں کی پیداوار میں ہونے والے نقصانات کی وجہ سے فارم ٹریکٹرز کی فروخت 13 فیصد کمی کے ساتھ 20,292 یونٹس رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل ماہر شفیق احمد شیخ نے کہا کہ میرے خیال میں الیکٹرک گاڑیوں کے ابھرنے کے باوجود پاکستان میں پیداوار اور فروخت پر اب بھی انجن والی گاڑیوں کا غلبہ برقرار ہے۔ آئی سی ای انڈسٹری میں زبردست واپسی دیکھی گئی ہے جہاں مسافر کاروں کی فروخت میں 45 فیصد اور پیداوار میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔ اس تیزی کی بڑی وجہ موجودہ حکومت کی جانب سے بہتر مستحکم معاشی ماحول اور شرح سود میں نمایاں کمی ہے جس نے بینک فنانسنگ اور کارپوریٹ آٹو لیزنگ کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریکوری کی قیادت ٹرکوں اور بسوں کے شعبے نے کی، جس کی پیداوار اور فروخت میں بالترتیب 88 فیصد اور 82 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا جو لاجسٹکس کی بڑھتی طلب اور اقتصادی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ جیپوں کی فروخت میں 35 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ ایس یو ویز اور فنکشنل پک اپس کی بڑھتی ہوئی ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفیق احمد شیخ  نے مزید کہا کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے زمرے میں 31 فیصد کا مستقل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر مارکیٹ اب بھی روایتی ذاتی سواریوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ فارم ٹریکٹرز واحد شعبہ ہے جس میں (منفی 13 فیصد) کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ زرعی معیشت کی گراوٹ اور تین ممالک کے درمیان حالیہ جنگ کے باعث فصلوں کی کم قیمتیں ہیں، کیونکہ برآمدات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام اور طلب میں اضافے کے حوالے سے شفیق احمد شیخ کا خیال تھا کہ یہ رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ انجن والی گاڑیاں اب بھی اولین ترجیح ہیں، کیونکہ الیکٹرک گاڑیاں عام طور پر زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی ای گاڑیاں فیول بھروائیں اور روانہ ہو جائیں کی سہولت فراہم کرتی ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں چارجنگ نیٹ ورک بہت محدود ہے، ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور صرف بڑے شہروں تک ہی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ری سیل ویلیو (دوبارہ فروخت کی قیمت) ایک اور اہم عنصر ہے۔ پاکستان میں گاڑی کو ایک ایسا مالیاتی اثاثہ تصور کیا جاتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر فوری نقد میں بدلا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ پہلے سے مستحکم ہے۔ اس کے برعکس، الیکٹرک گاڑیوں کی ری سیل ویلیو اب بھی غیر یقینی ہے، جہاں 2025-2026 کے ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بیٹری کی کارکردگی میں کمی اور ’رینج اینگزائٹی‘ (بیٹری ختم ہونے کا خوف) کے بارے میں خریداروں کے شکوک و شبہات کی وجہ سے کچھ ماڈلز 18 ماہ کے اندر اپنی قیمت کا 15 سے 25 فیصد کھو دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سروس کی سہولت بھی ایک بڑا کردار ادا کرتی ہے جبکہ سڑک کنارے بیٹھا کوئی بھی مقامی مکینک  انجن کی مرمت کر سکتا ہے، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مخصوص ورکشاپس، تربیت یافتہ مکینکس اور درآمد شدہ پرزوں کی ضرورت ہوتی ہے، ان کے پرزوں کی قیمتیں فی الحال بہت زیادہ ہیں اور وہ مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب بھی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ 2025-26) کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں ابھرتی ہوئی الیکٹرک وہیکل (ای وی) انڈسٹری کے لیے حکومتی تعاون کے باوجود انجن  والی گاڑیاں تاحال الیکٹرک گاڑیوں پر غالب ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تمام دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ فارم ٹریکٹرز کی فروخت میں گزشتہ کئی مہینوں کی طرح حسبِ معمول کمی کا سلسلہ جاری رہا۔</p>
<p>رواں مالی سال جولائی تا مارچ کاروں کی فروخت (ایل سی وی، وینز اور جیپس کے علاوہ) 45 فیصد اضافے کے ساتھ 109,655 یونٹس تک پہنچ گئی جب کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 75,397 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔</p>
<p>جیپوں اور پک اپس کی فروخت 35 فیصد اضافے کے ساتھ 34,374 یونٹس تک پہنچ گئی۔ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں بالترتیب 82 فیصد (5,143 یونٹس) اور 33 فیصد (720 یونٹس) اضافہ ہوا۔ اسی طرح موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت بھی 31 فیصد اضافے کے ساتھ 1,429,501 یونٹس رہی۔</p>
<p>مزید برآں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فصلوں کی پیداوار میں ہونے والے نقصانات کی وجہ سے فارم ٹریکٹرز کی فروخت 13 فیصد کمی کے ساتھ 20,292 یونٹس رہ گئی۔</p>
<p>آٹو موبائل ماہر شفیق احمد شیخ نے کہا کہ میرے خیال میں الیکٹرک گاڑیوں کے ابھرنے کے باوجود پاکستان میں پیداوار اور فروخت پر اب بھی انجن والی گاڑیوں کا غلبہ برقرار ہے۔ آئی سی ای انڈسٹری میں زبردست واپسی دیکھی گئی ہے جہاں مسافر کاروں کی فروخت میں 45 فیصد اور پیداوار میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔ اس تیزی کی بڑی وجہ موجودہ حکومت کی جانب سے بہتر مستحکم معاشی ماحول اور شرح سود میں نمایاں کمی ہے جس نے بینک فنانسنگ اور کارپوریٹ آٹو لیزنگ کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریکوری کی قیادت ٹرکوں اور بسوں کے شعبے نے کی، جس کی پیداوار اور فروخت میں بالترتیب 88 فیصد اور 82 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا جو لاجسٹکس کی بڑھتی طلب اور اقتصادی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ جیپوں کی فروخت میں 35 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ ایس یو ویز اور فنکشنل پک اپس کی بڑھتی ہوئی ترجیح ہے۔</p>
<p>شفیق احمد شیخ  نے مزید کہا کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے زمرے میں 31 فیصد کا مستقل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر مارکیٹ اب بھی روایتی ذاتی سواریوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔</p>
<p>جبکہ فارم ٹریکٹرز واحد شعبہ ہے جس میں (منفی 13 فیصد) کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ زرعی معیشت کی گراوٹ اور تین ممالک کے درمیان حالیہ جنگ کے باعث فصلوں کی کم قیمتیں ہیں، کیونکہ برآمدات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو رہی ہیں۔</p>
<p>استحکام اور طلب میں اضافے کے حوالے سے شفیق احمد شیخ کا خیال تھا کہ یہ رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ انجن والی گاڑیاں اب بھی اولین ترجیح ہیں، کیونکہ الیکٹرک گاڑیاں عام طور پر زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی ای گاڑیاں فیول بھروائیں اور روانہ ہو جائیں کی سہولت فراہم کرتی ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں چارجنگ نیٹ ورک بہت محدود ہے، ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور صرف بڑے شہروں تک ہی محدود ہے۔</p>
<p>ری سیل ویلیو (دوبارہ فروخت کی قیمت) ایک اور اہم عنصر ہے۔ پاکستان میں گاڑی کو ایک ایسا مالیاتی اثاثہ تصور کیا جاتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر فوری نقد میں بدلا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ پہلے سے مستحکم ہے۔ اس کے برعکس، الیکٹرک گاڑیوں کی ری سیل ویلیو اب بھی غیر یقینی ہے، جہاں 2025-2026 کے ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بیٹری کی کارکردگی میں کمی اور ’رینج اینگزائٹی‘ (بیٹری ختم ہونے کا خوف) کے بارے میں خریداروں کے شکوک و شبہات کی وجہ سے کچھ ماڈلز 18 ماہ کے اندر اپنی قیمت کا 15 سے 25 فیصد کھو دیتے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سروس کی سہولت بھی ایک بڑا کردار ادا کرتی ہے جبکہ سڑک کنارے بیٹھا کوئی بھی مقامی مکینک  انجن کی مرمت کر سکتا ہے، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مخصوص ورکشاپس، تربیت یافتہ مکینکس اور درآمد شدہ پرزوں کی ضرورت ہوتی ہے، ان کے پرزوں کی قیمتیں فی الحال بہت زیادہ ہیں اور وہ مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب بھی نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285052</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 16:21:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1416181097f2460.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1416181097f2460.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
