<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:12:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:12:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی قرضوں کا حجم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285051/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں فروری 2026 تک پاکستان کے سرکاری قرضے اور دیگر واجبات کے مجموعی حجم کے تخمینے جاری کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون کا مقصد جون 2020 کے بعد وفاقی حکومت کے قرضوں کی سطح اور ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ قرضوں میں اضافے کے اسباب کا مقداری جائزہ پیش کیا گیا ہے، جبکہ منتخب جنوبی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ حکومتی قرضوں کی سطح کا تقابلی تجزیہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضروری ہے کہ سب سے پہلے حکومتی قرضے کے دائرہ کار کو واضح کیا جائے۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لِمٹیشن ایکٹ 2005 کے مطابق حکومتی قرضے میں اندرونی قرضہ، بیرونی قرضہ، بشمول آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے واجبات، شامل ہوتے ہیں، جبکہ بینکاری نظام میں حکومت کے جمع شدہ اثاثے اس میں شامل نہیں کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تعریف کی بنیاد پر مالی سال 2024-25 کے اختتام پر حکومتی قرضے کا حجم 73,268 ارب روپے تھا، جو بڑھ کر فروری 2026 تک 75,137 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ اس طرح قرضوں میں 2.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی طور پر 1,869 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی قرضے کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق فی کس قرض کا بوجھ بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ مالی سال 2020-21 کے اختتام پر یہ سطح اس کے لگ بھگ نصف تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/1402275658afa12.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/1402275658afa12.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اہم اشاریوں میں ایک کلیدی پہلو یہ ہے کہ حکومتی قرضہ جی ڈی پی کے کتنے فیصد کے برابر ہے۔ مالی سال 2024-25 کے اختتام پر اس کا تخمینہ جی ڈی پی کے 64.3 فیصد کے برابر لگایا گیا ہے۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لِمٹیشن ایکٹ کے تحت حکومتی قرضے کی حد جی ڈی پی کے 60 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ تاہم اشارے ملتے ہیں کہ فروری 2026 تک حکومتی قرضوں کا حجم اس حد کے قریب آ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرضوں کا رجحان مالی سال 2020-21 کے بعد سے غیر مستقل رہا ہے، جیسا کہ جدول نمبر 1 میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ابتدا میں 2020-21 سے 2022-23 کے دوران اس شرح میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ جی ڈی پی کے 63.9 فیصد سے بڑھ کر 69.1 فیصد تک جا پہنچی، جو کہ مذکورہ قانون کے تحت مقررہ حد کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی قرضوں میں غالب حصہ اندرونی قرضے کا ہے، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 64.8 فیصد رہا، جیسا کہ جدول نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2020-21 میں یہ شرح 61.9 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندرونی قرضے کے اندر سب سے بڑا حصہ مستقل قرضے کا ہے، جو زیادہ تر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کی صورت میں ہوتا ہے اور جون 2025 میں اس کا تناسب 79.5 فیصد رہا۔ اس کے مقابلے میں غیر فنڈڈ قرضہ 5.3 فیصد اور قلیل مدتی قرضہ 15.2 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی قرضوں میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں: پہلی، وفاقی حکومت کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض لینا، اور دوسری، روپے کی قدر میں کمی کے باعث بیرونی قرضوں کی مالیت میں روپے کے حساب سے اضافہ۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/140227564a14bc2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/140227564a14bc2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جدول نمبر 2 حکومتی قرضوں میں اضافے کی وجوہات میں نمایاں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ مالی سال 2022-23 میں 13,418 ارب روپے کا سب سے بڑا مجموعی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کا نصف سے زائد حصہ روپے کی قدر میں 40 فیصد سے زیادہ کمی کے باعث ہوا۔ اس کے بعد قرضوں میں اضافے کا بڑا سبب بجٹ خسارے کی مالی اعانت کے لیے قرض لینا رہا، اور امکان ہے کہ مالی سال 2025-26 میں بھی یہی بنیادی وجہ ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب ممالک میں جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرضوں کا تقابلی جائزہ جدول نمبر 3 میں پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے میں سب سے نمایاں بات چین اور بھارت میں حکومتی قرضوں کی غیر معمولی بلند سطح ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک نے معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے توسیعی مالیاتی پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ پاکستان میں یہ شرح 71.3 فیصد ہے، جو اسٹیٹ بینک کے تخمینے سے زیادہ ہے کیونکہ اس میں بینکاری نظام میں حکومت کے جمع شدہ اثاثے منہا نہیں کیے گئے۔ سب سے کم حکومتی قرضہ انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں ہے، جہاں یہ شرح تقریباً 40 فیصد کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/140227562399b46.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/140227562399b46.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2020-21 سے 2022-23 کے دوران جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرضوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم 2023-24 اور 2024-25 میں اس شرح میں کچھ کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ جی ڈی پی کے مقابلے میں بجٹ خسارے میں کمی اور روپے کی قدر میں استحکام ہے۔ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں بھی یہ کمی کا رجحان برقرار رہا ہے، جبکہ مارچ سے جون 2026 کے دوران صورتحال کے نتائج کا انتظار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس امر کی ضرورت ہے کہ مالی سال 2025-26 اور آئندہ برسوں میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4 فیصد سے تجاوز نہ کرے۔ اسی طرح اگر ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹس) کو مؤثر انداز میں منظم کیا جائے اور کسی بڑے منفی دباؤ سے بچایا جائے تو روپے کی قدر نسبتاً مستحکم رہ سکتی ہے، جس سے حکومتی قرضوں کو جی ڈی پی کے 60 فیصد کی مقررہ حد کے اندر رکھنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں فروری 2026 تک پاکستان کے سرکاری قرضے اور دیگر واجبات کے مجموعی حجم کے تخمینے جاری کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>اس مضمون کا مقصد جون 2020 کے بعد وفاقی حکومت کے قرضوں کی سطح اور ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ قرضوں میں اضافے کے اسباب کا مقداری جائزہ پیش کیا گیا ہے، جبکہ منتخب جنوبی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ حکومتی قرضوں کی سطح کا تقابلی تجزیہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>ضروری ہے کہ سب سے پہلے حکومتی قرضے کے دائرہ کار کو واضح کیا جائے۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لِمٹیشن ایکٹ 2005 کے مطابق حکومتی قرضے میں اندرونی قرضہ، بیرونی قرضہ، بشمول آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے واجبات، شامل ہوتے ہیں، جبکہ بینکاری نظام میں حکومت کے جمع شدہ اثاثے اس میں شامل نہیں کیے جاتے۔</p>
<p>اس تعریف کی بنیاد پر مالی سال 2024-25 کے اختتام پر حکومتی قرضے کا حجم 73,268 ارب روپے تھا، جو بڑھ کر فروری 2026 تک 75,137 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ اس طرح قرضوں میں 2.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی طور پر 1,869 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>حکومتی قرضے کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق فی کس قرض کا بوجھ بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ مالی سال 2020-21 کے اختتام پر یہ سطح اس کے لگ بھگ نصف تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/1402275658afa12.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/1402275658afa12.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اہم اشاریوں میں ایک کلیدی پہلو یہ ہے کہ حکومتی قرضہ جی ڈی پی کے کتنے فیصد کے برابر ہے۔ مالی سال 2024-25 کے اختتام پر اس کا تخمینہ جی ڈی پی کے 64.3 فیصد کے برابر لگایا گیا ہے۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لِمٹیشن ایکٹ کے تحت حکومتی قرضے کی حد جی ڈی پی کے 60 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ تاہم اشارے ملتے ہیں کہ فروری 2026 تک حکومتی قرضوں کا حجم اس حد کے قریب آ گیا ہے۔</p>
<p>جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرضوں کا رجحان مالی سال 2020-21 کے بعد سے غیر مستقل رہا ہے، جیسا کہ جدول نمبر 1 میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ابتدا میں 2020-21 سے 2022-23 کے دوران اس شرح میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ جی ڈی پی کے 63.9 فیصد سے بڑھ کر 69.1 فیصد تک جا پہنچی، جو کہ مذکورہ قانون کے تحت مقررہ حد کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>حکومتی قرضوں میں غالب حصہ اندرونی قرضے کا ہے، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 64.8 فیصد رہا، جیسا کہ جدول نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2020-21 میں یہ شرح 61.9 فیصد تھی۔</p>
<p>اندرونی قرضے کے اندر سب سے بڑا حصہ مستقل قرضے کا ہے، جو زیادہ تر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کی صورت میں ہوتا ہے اور جون 2025 میں اس کا تناسب 79.5 فیصد رہا۔ اس کے مقابلے میں غیر فنڈڈ قرضہ 5.3 فیصد اور قلیل مدتی قرضہ 15.2 فیصد رہا۔</p>
<p>حکومتی قرضوں میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں: پہلی، وفاقی حکومت کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض لینا، اور دوسری، روپے کی قدر میں کمی کے باعث بیرونی قرضوں کی مالیت میں روپے کے حساب سے اضافہ۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/140227564a14bc2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/140227564a14bc2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جدول نمبر 2 حکومتی قرضوں میں اضافے کی وجوہات میں نمایاں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ مالی سال 2022-23 میں 13,418 ارب روپے کا سب سے بڑا مجموعی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کا نصف سے زائد حصہ روپے کی قدر میں 40 فیصد سے زیادہ کمی کے باعث ہوا۔ اس کے بعد قرضوں میں اضافے کا بڑا سبب بجٹ خسارے کی مالی اعانت کے لیے قرض لینا رہا، اور امکان ہے کہ مالی سال 2025-26 میں بھی یہی بنیادی وجہ ہو گی۔</p>
<p>منتخب ممالک میں جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرضوں کا تقابلی جائزہ جدول نمبر 3 میں پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس جائزے میں سب سے نمایاں بات چین اور بھارت میں حکومتی قرضوں کی غیر معمولی بلند سطح ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک نے معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے توسیعی مالیاتی پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ پاکستان میں یہ شرح 71.3 فیصد ہے، جو اسٹیٹ بینک کے تخمینے سے زیادہ ہے کیونکہ اس میں بینکاری نظام میں حکومت کے جمع شدہ اثاثے منہا نہیں کیے گئے۔ سب سے کم حکومتی قرضہ انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں ہے، جہاں یہ شرح تقریباً 40 فیصد کے قریب ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/140227562399b46.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/04/140227562399b46.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2020-21 سے 2022-23 کے دوران جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرضوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم 2023-24 اور 2024-25 میں اس شرح میں کچھ کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ جی ڈی پی کے مقابلے میں بجٹ خسارے میں کمی اور روپے کی قدر میں استحکام ہے۔ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں بھی یہ کمی کا رجحان برقرار رہا ہے، جبکہ مارچ سے جون 2026 کے دوران صورتحال کے نتائج کا انتظار ہے۔</p>
<p>اس امر کی ضرورت ہے کہ مالی سال 2025-26 اور آئندہ برسوں میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4 فیصد سے تجاوز نہ کرے۔ اسی طرح اگر ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹس) کو مؤثر انداز میں منظم کیا جائے اور کسی بڑے منفی دباؤ سے بچایا جائے تو روپے کی قدر نسبتاً مستحکم رہ سکتی ہے، جس سے حکومتی قرضوں کو جی ڈی پی کے 60 فیصد کی مقررہ حد کے اندر رکھنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285051</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 16:44:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/14162007ff415e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/14162007ff415e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
