<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا 10 ارب ڈالر چاول برآمدات کا ہدف، برآمد کنندگان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے چاول کے برآمد کنندگان پر زور دیا ہے کہ وہ چاول کی برآمدات کا 10 ارب ڈالر کا  ہدف مقرر کریں، اس موقع پر انہوں نے اپنی وزارت اور پورٹ حکام کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعلامیے کے مطابق  جنید انور چوہدری نے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ریئر ایڈمرل شاہد احمد کے ہمراہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان  کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد برآمدات میں اضافے اور بندرگاہوں پر سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران  چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ملک فیصل جہانگیر نے وفد کو چاول کے شعبے کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اس وقت 4 ارب ڈالر کی صنعت ہے جسے 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے تقریباً 3 کروڑ ایکڑ اراضی کو زیرِ کاشت لانے کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر جنید انور چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات نے پاکستانی بندرگاہوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ حکومت نے تجارت کو راغب کرنے کے لیے ریونیو پیدا کرنے کے بجائے سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بندرگاہوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات میں رول آن/رول آف  سروسز کا آغاز، بلک کارگو شپمنٹس کی اجازت اور بندرگاہوں پر پڑے پرانے کنسائنمنٹس کو ٹھکانے لگانے کے قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بندرگاہوں پر رش کم کرنے کے لیے نیلام شدہ کنٹینرز کے ڈیمریج چارجز معاف کر دیے گئے  جبکہ فیڈر ویسل  سروسز کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انور چوہدری نے انکشاف کیا کہ عید کی چھٹیوں کے دوران بھی بندرگاہوں پر آپریشنز بلا تعطل جاری رہے جس کے دوران 16 بحری جہازوں کو ہینڈل کیا گیا جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایل سی ایل  کارگو ہینڈلنگ کی اجازت دے دی گئی ہے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو مزید آسان بنانے کے لیے ٹی آئی آر قوانین میں ترامیم بھی کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کراچی پورٹ پر بنکرنگ  سروسز کے آغاز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بندرگاہ نے گہرے سمندر میں بڑے بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی شروع کر دی جس سے تجارت میں تقریباً 300 ارب روپے کا ممکنہ فائدہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر کے مطابق تین ماہ کے اندر جاری منصوبوں کی تکمیل کے بعد جہازوں کے واپس مڑنے کا وقت 7 دن سے کم ہو کر صرف 2 دن رہ جائے گا جس سے تاجر برادری کو 30 سے 40 ارب روپے کا معاشی فائدہ پہنچنے کا تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر چیئرمین کے پی ٹی نے انکشاف کیا کہ تجارت میں آسانی اور کاروباری برادری پر اخراجات کا بوجھ کم کرنے کے لیے پورٹ چارجز میں 60 فیصد کمی کر دی گئی اور ڈیمریج فیسیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے چاول کے برآمد کنندگان پر زور دیا ہے کہ وہ چاول کی برآمدات کا 10 ارب ڈالر کا  ہدف مقرر کریں، اس موقع پر انہوں نے اپنی وزارت اور پورٹ حکام کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</strong></p>
<p>سرکاری اعلامیے کے مطابق  جنید انور چوہدری نے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ریئر ایڈمرل شاہد احمد کے ہمراہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان  کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد برآمدات میں اضافے اور بندرگاہوں پر سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔</p>
<p>دورے کے دوران  چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ملک فیصل جہانگیر نے وفد کو چاول کے شعبے کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اس وقت 4 ارب ڈالر کی صنعت ہے جسے 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے تقریباً 3 کروڑ ایکڑ اراضی کو زیرِ کاشت لانے کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر جنید انور چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات نے پاکستانی بندرگاہوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ حکومت نے تجارت کو راغب کرنے کے لیے ریونیو پیدا کرنے کے بجائے سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p>حالیہ اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بندرگاہوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔</p>
<p>ان اقدامات میں رول آن/رول آف  سروسز کا آغاز، بلک کارگو شپمنٹس کی اجازت اور بندرگاہوں پر پڑے پرانے کنسائنمنٹس کو ٹھکانے لگانے کے قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بندرگاہوں پر رش کم کرنے کے لیے نیلام شدہ کنٹینرز کے ڈیمریج چارجز معاف کر دیے گئے  جبکہ فیڈر ویسل  سروسز کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔</p>
<p>جنید انور چوہدری نے انکشاف کیا کہ عید کی چھٹیوں کے دوران بھی بندرگاہوں پر آپریشنز بلا تعطل جاری رہے جس کے دوران 16 بحری جہازوں کو ہینڈل کیا گیا جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایل سی ایل  کارگو ہینڈلنگ کی اجازت دے دی گئی ہے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو مزید آسان بنانے کے لیے ٹی آئی آر قوانین میں ترامیم بھی کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کراچی پورٹ پر بنکرنگ  سروسز کے آغاز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بندرگاہ نے گہرے سمندر میں بڑے بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی شروع کر دی جس سے تجارت میں تقریباً 300 ارب روپے کا ممکنہ فائدہ متوقع ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر کے مطابق تین ماہ کے اندر جاری منصوبوں کی تکمیل کے بعد جہازوں کے واپس مڑنے کا وقت 7 دن سے کم ہو کر صرف 2 دن رہ جائے گا جس سے تاجر برادری کو 30 سے 40 ارب روپے کا معاشی فائدہ پہنچنے کا تخمینہ ہے۔</p>
<p>اس موقع پر چیئرمین کے پی ٹی نے انکشاف کیا کہ تجارت میں آسانی اور کاروباری برادری پر اخراجات کا بوجھ کم کرنے کے لیے پورٹ چارجز میں 60 فیصد کمی کر دی گئی اور ڈیمریج فیسیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285048</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 14:25:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/14141009faa2467.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/14141009faa2467.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
