<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اور ایران کے وفود امن مذاکرات کے لیے رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں، ذرائع کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285043/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پانچ باخبر ذرائع نے  بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیمیں رواں ہفتے کے آخر میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتی ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والے اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے وابستہ ایک ذریعے نے بتایا کہ اگرچہ حتمی تاریخ کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے کے اختتام تک واپس پہنچ سکتے ہیں۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہوا لیکن وفود نے جمعہ سے اتوار تک کا وقت کھلا رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے دارالحکومت میں گزشتہ اختتامِ ہفتے کو ہونے والی یہ ملاقات جنگ بندی کے اعلان کے چار دن بعد منعقد ہوئی تھی۔ یہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پہلا براہِ راست آمنا سامنا اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک کا سب سے سینئر سطح کا رابطہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کو مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنے وفود دوبارہ بھیجنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد دونوں فریقین کے ساتھ اگلے دور کے وقت کے حوالے سے رابطے میں ہے اور یہ ملاقات غالباً ہفتہ یا اتوار کو ہوگی۔ ایک سینئر پاکستانی سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی کہ  ہم نے ایران سے رابطہ کیا ہے اور ہمیں مثبت جواب ملا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہیں۔ تاہم  پاکستان کی وزارتِ خارجہ، فوج اور وزیراعظم آفس نے اس پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دورِ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی تھی۔ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی بندش، ایران کا جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں جیسے سنگین معاملات زیرِ بحث آئے۔ مذاکرات کے اختتام پر جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ  ہم یہاں سے ایک سادہ سی تجویز اور مفاہمت کا طریقہ کار چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پانچ باخبر ذرائع نے  بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیمیں رواں ہفتے کے آخر میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتی ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والے اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>مذاکرات سے وابستہ ایک ذریعے نے بتایا کہ اگرچہ حتمی تاریخ کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے کے اختتام تک واپس پہنچ سکتے ہیں۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہوا لیکن وفود نے جمعہ سے اتوار تک کا وقت کھلا رکھا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے دارالحکومت میں گزشتہ اختتامِ ہفتے کو ہونے والی یہ ملاقات جنگ بندی کے اعلان کے چار دن بعد منعقد ہوئی تھی۔ یہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پہلا براہِ راست آمنا سامنا اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک کا سب سے سینئر سطح کا رابطہ تھا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کو مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنے وفود دوبارہ بھیجنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد دونوں فریقین کے ساتھ اگلے دور کے وقت کے حوالے سے رابطے میں ہے اور یہ ملاقات غالباً ہفتہ یا اتوار کو ہوگی۔ ایک سینئر پاکستانی سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی کہ  ہم نے ایران سے رابطہ کیا ہے اور ہمیں مثبت جواب ملا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہیں۔ تاہم  پاکستان کی وزارتِ خارجہ، فوج اور وزیراعظم آفس نے اس پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>گزشتہ دورِ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی تھی۔ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی بندش، ایران کا جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں جیسے سنگین معاملات زیرِ بحث آئے۔ مذاکرات کے اختتام پر جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ  ہم یہاں سے ایک سادہ سی تجویز اور مفاہمت کا طریقہ کار چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285043</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 13:42:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/141335368ebf894.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/141335368ebf894.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
