<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایندھن کا چیلنج، حالات مزید سنگین ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285038/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو پیر کی صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام ٹریفک کی ناکہ بندی شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے، تاہم دیگر مقامات سے آنے یا جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو ان لوگوں کو تیل بیچ کر پیسے نہ کمانے دیے جائیں جنہیں وہ پسند کرتا ہے جبکہ ان کو نہ بیچے جنہیں وہ پسند نہیں کرتا۔ اس ہدایت کا اصل ہدف یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے یا تو سب کچھ گزرے گا یا پھر کچھ بھی نہیں، تاہم ناقدین اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس ناکہ بندی کے لیے امریکی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کے قریب جانا پڑے گا، خواہ وہاں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے ہو یا فزیکل طور پر ناکہ بندی کو یقینی بنانے کے لیے۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہوسکتا ہے کیونکہ امریکی جہاز اس وقت ایرانی ہائپر بیلسٹک میزائلوں کی زد سے بچنے کے لیے ہدف کی حد سے کافی دور کھڑے ہیں۔ اس کے باوجود اگر آبنائے ہرمز کو 28 فروری سے پہلے کی سطح پر بحال کردیا جائے اور ایران کو کسی قسم کا ٹول ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے تو عالمی سطح پر اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ملک صدر ٹرمپ کے اس تصوراتی منصوبے میں امریکہ کی مدد کرے گا؟ کیونکہ جاپان جنوبی کوریا اور فرانس جیسے قریبی امریکی اتحادیوں سمیت کئی ممالک پہلے ہی ایرانیوں کے ساتھ اپنے تیل بردار جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے کامیاب مذاکرات کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم سوال جو اٹھایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکی بحریہ ان بحری جہازوں کے خلاف کیا کارروائی کرے گی جو مثال کے طور پر چین یا دیگر اتحادی ممالک کے لیے تیل لے جارہے ہوں گے؟ اور اس کے جواب میں وہ ممالک، اگر ضرورت پڑی تو، کیا جوابی اقدامات اختیار کرسکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطع نظر اس سے کہ ناکہ بندی کے کیا نتائج ہوں گے، یہ اقدام صدر ٹرمپ کے اس سابقہ فیصلے کو بھی خطرے میں ڈال دے گا جس میں انہوں نے ایران اور روس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ عالمی سپلائی بڑھا کر ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔ یہ دونوں ایسے حریف ہیں جنہوں نے دنیا کے ساتھ اپنی تجارت پر عائد امریکہ کی قیادت میں مغربی پابندیوں کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے، اگرچہ صدر ماضی میں اپنی دیگر بعض انتہائی سخت ہدایات سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اس معاملے میں بھی ایسا کریں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی جانب بڑھنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے ساتھ سخت اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔ چونکہ دونوں اہم فریق پہلے ہی ان بنیادی نکات کی خلاف ورزی کر چکے ہیں جو اسلام آباد مذاکرات کی بنیاد تھے، یعنی اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک اب بھی ایران کے کنٹرول میں ہے، اس لیے ماہرین کا اتفاق ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر عمل درآمد یقینی طور پر جنگ بندی کے خاتمے کا سبب بنے گا۔ اس کے نتیجے میں عمان کے علاوہ خلیج تعاون کونسل  کی دیگر ریاستوں کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دنیا کو تیل کی فراہمی میں اس قدر سنگین تعطل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 1973 میں پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے عرب ارکان نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کے امریکی فیصلے کے جواب میں امریکہ کو ایندھن کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی تھی، جسے بعد ازاں ہنری کسنجر کی کامیاب سفارت کاری کے ذریعے حل کیا گیا، تاہم اس پابندی نے فرانس کو اپنی ملکی طلب پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح 2011 میں جاپان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 15 میٹر بلند سونامی پیدا ہوا جس نے فوکوشیما کے تین ری ایکٹرز کی بجلی کی فراہمی اور کولنگ سسٹم کو ناکارہ بنا دیا، جس سے ایک بڑا ایٹمی حادثہ رونما ہوا۔ اس واقعے نے کئی مغربی یورپی ممالک کو جوہری توانائی سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف پیش قدمی کرنے پر مائل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور مستقل جنگ بندی کی جانب بڑھنے کے لیے امریکہ اور ایران کے ساتھ فعال طور پر رابطہ رکھا، یہ ایک ایسا کردار ہے جسے نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ امید یہی ہے کہ ہم قلیل مدت میں اس مشق کا حصہ بنے رہیں گے۔ تاہم، حکومت کو ایسی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے جو مستقبل میں تیل کی فراہمی میں اس طرح کے کسی بھی بڑے تعطل کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال  فراہم کر سکیں۔ اس کے لیے حکومت کو درمیانی سے طویل مدت میں اپنا انحصار جوہری اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت ہوگی، یہ ایک ایسا دورانیہ ہوگا جس کا تعین کیپیسٹی پیمنٹ کی شرط رکھنے والے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ جاری معاہدوں کی مدت ختم ہونے سے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو پیر کی صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام ٹریفک کی ناکہ بندی شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے، تاہم دیگر مقامات سے آنے یا جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔</strong></p>
<p>صدر ٹرمپ نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو ان لوگوں کو تیل بیچ کر پیسے نہ کمانے دیے جائیں جنہیں وہ پسند کرتا ہے جبکہ ان کو نہ بیچے جنہیں وہ پسند نہیں کرتا۔ اس ہدایت کا اصل ہدف یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے یا تو سب کچھ گزرے گا یا پھر کچھ بھی نہیں، تاہم ناقدین اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس ناکہ بندی کے لیے امریکی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کے قریب جانا پڑے گا، خواہ وہاں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے ہو یا فزیکل طور پر ناکہ بندی کو یقینی بنانے کے لیے۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہوسکتا ہے کیونکہ امریکی جہاز اس وقت ایرانی ہائپر بیلسٹک میزائلوں کی زد سے بچنے کے لیے ہدف کی حد سے کافی دور کھڑے ہیں۔ اس کے باوجود اگر آبنائے ہرمز کو 28 فروری سے پہلے کی سطح پر بحال کردیا جائے اور ایران کو کسی قسم کا ٹول ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے تو عالمی سطح پر اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ملک صدر ٹرمپ کے اس تصوراتی منصوبے میں امریکہ کی مدد کرے گا؟ کیونکہ جاپان جنوبی کوریا اور فرانس جیسے قریبی امریکی اتحادیوں سمیت کئی ممالک پہلے ہی ایرانیوں کے ساتھ اپنے تیل بردار جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے کامیاب مذاکرات کرچکے ہیں۔</p>
<p>ایک اور اہم سوال جو اٹھایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکی بحریہ ان بحری جہازوں کے خلاف کیا کارروائی کرے گی جو مثال کے طور پر چین یا دیگر اتحادی ممالک کے لیے تیل لے جارہے ہوں گے؟ اور اس کے جواب میں وہ ممالک، اگر ضرورت پڑی تو، کیا جوابی اقدامات اختیار کرسکتے ہیں؟</p>
<p>قطع نظر اس سے کہ ناکہ بندی کے کیا نتائج ہوں گے، یہ اقدام صدر ٹرمپ کے اس سابقہ فیصلے کو بھی خطرے میں ڈال دے گا جس میں انہوں نے ایران اور روس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ عالمی سپلائی بڑھا کر ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔ یہ دونوں ایسے حریف ہیں جنہوں نے دنیا کے ساتھ اپنی تجارت پر عائد امریکہ کی قیادت میں مغربی پابندیوں کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے، اگرچہ صدر ماضی میں اپنی دیگر بعض انتہائی سخت ہدایات سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اس معاملے میں بھی ایسا کریں گے یا نہیں۔</p>
<p>ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی جانب بڑھنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے ساتھ سخت اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔ چونکہ دونوں اہم فریق پہلے ہی ان بنیادی نکات کی خلاف ورزی کر چکے ہیں جو اسلام آباد مذاکرات کی بنیاد تھے، یعنی اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک اب بھی ایران کے کنٹرول میں ہے، اس لیے ماہرین کا اتفاق ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر عمل درآمد یقینی طور پر جنگ بندی کے خاتمے کا سبب بنے گا۔ اس کے نتیجے میں عمان کے علاوہ خلیج تعاون کونسل  کی دیگر ریاستوں کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔</p>
<p>یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دنیا کو تیل کی فراہمی میں اس قدر سنگین تعطل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 1973 میں پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے عرب ارکان نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کے امریکی فیصلے کے جواب میں امریکہ کو ایندھن کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی تھی، جسے بعد ازاں ہنری کسنجر کی کامیاب سفارت کاری کے ذریعے حل کیا گیا، تاہم اس پابندی نے فرانس کو اپنی ملکی طلب پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح 2011 میں جاپان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 15 میٹر بلند سونامی پیدا ہوا جس نے فوکوشیما کے تین ری ایکٹرز کی بجلی کی فراہمی اور کولنگ سسٹم کو ناکارہ بنا دیا، جس سے ایک بڑا ایٹمی حادثہ رونما ہوا۔ اس واقعے نے کئی مغربی یورپی ممالک کو جوہری توانائی سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف پیش قدمی کرنے پر مائل کیا۔</p>
<p>پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور مستقل جنگ بندی کی جانب بڑھنے کے لیے امریکہ اور ایران کے ساتھ فعال طور پر رابطہ رکھا، یہ ایک ایسا کردار ہے جسے نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ امید یہی ہے کہ ہم قلیل مدت میں اس مشق کا حصہ بنے رہیں گے۔ تاہم، حکومت کو ایسی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے جو مستقبل میں تیل کی فراہمی میں اس طرح کے کسی بھی بڑے تعطل کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال  فراہم کر سکیں۔ اس کے لیے حکومت کو درمیانی سے طویل مدت میں اپنا انحصار جوہری اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت ہوگی، یہ ایک ایسا دورانیہ ہوگا جس کا تعین کیپیسٹی پیمنٹ کی شرط رکھنے والے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ جاری معاہدوں کی مدت ختم ہونے سے کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285038</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 12:15:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/141214105d98add.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/141214105d98add.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
