<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد کے کشیدہ مذاکرات کے بعد بھی امریکہ ایران ڈائیلاگ جاری رہنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285035/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان دہائیوں میں ہونے والی سب سے اعلیٰ سطح کی بات چیت کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئی، تاہم مذاکرات سے واقف 11 ذرائع نے بتایا کہ ڈائیلاگ ابھی بھی جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملاقات، جو گزشتہ منگل کے سیزفائر اعلان کے چار روز بعد ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلا براہ راست رابطہ تھا اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے اعلیٰ سطح کی سفارتی پیش رفت بھی سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کے فائیو اسٹار سرینا ہوٹل میں مذاکرات تین حصوں میں ہوئے، ایک امریکی وفد کے لیے، ایک ایرانی وفد کے لیے اور ایک مشترکہ کمرہ جہاں پاکستانی ثالث موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیاں مرکزی موضوعات تھے۔ امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے پر زور دے رہا تھا جبکہ ایران نے اسے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بات چیت کے دوران کئی بار ماحول کشیدہ اور غیر دوستانہ رہا، تاہم بعض مواقع پر پیش رفت کے امکانات بھی پیدا ہوئے اور فریقین کسی معاہدے کے 80 فیصد قریب پہنچ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پاکستانی حکومتی ذریعے نے بتایا کہ مذاکرات میں امید پیدا ہوئی تھی کہ کوئی بریک تھرو ہو سکتا ہے، تاہم اختلافات دوبارہ بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات جوہری پروگرام، ہرمز آبنائے اور منجمد اثاثوں کی واپسی پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وفد نے اسے اپنی حتمی اور بہترین پیشکش قرار دیا، جبکہ ایران نے پابندیوں کے خاتمے اور مکمل سیزفائر کی ضمانتوں کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی قیادت، بشمول فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، مذاکرات کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرتی رہی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان دہائیوں میں ہونے والی سب سے اعلیٰ سطح کی بات چیت کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئی، تاہم مذاکرات سے واقف 11 ذرائع نے بتایا کہ ڈائیلاگ ابھی بھی جاری ہے۔</strong></p>
<p>یہ ملاقات، جو گزشتہ منگل کے سیزفائر اعلان کے چار روز بعد ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلا براہ راست رابطہ تھا اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے اعلیٰ سطح کی سفارتی پیش رفت بھی سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>اسلام آباد کے فائیو اسٹار سرینا ہوٹل میں مذاکرات تین حصوں میں ہوئے، ایک امریکی وفد کے لیے، ایک ایرانی وفد کے لیے اور ایک مشترکہ کمرہ جہاں پاکستانی ثالث موجود تھے۔</p>
<p>مذاکرات میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیاں مرکزی موضوعات تھے۔ امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے پر زور دے رہا تھا جبکہ ایران نے اسے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بات چیت کے دوران کئی بار ماحول کشیدہ اور غیر دوستانہ رہا، تاہم بعض مواقع پر پیش رفت کے امکانات بھی پیدا ہوئے اور فریقین کسی معاہدے کے 80 فیصد قریب پہنچ گئے تھے۔</p>
<p>ایک پاکستانی حکومتی ذریعے نے بتایا کہ مذاکرات میں امید پیدا ہوئی تھی کہ کوئی بریک تھرو ہو سکتا ہے، تاہم اختلافات دوبارہ بڑھ گئے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات جوہری پروگرام، ہرمز آبنائے اور منجمد اثاثوں کی واپسی پر رہے۔</p>
<p>امریکی وفد نے اسے اپنی حتمی اور بہترین پیشکش قرار دیا، جبکہ ایران نے پابندیوں کے خاتمے اور مکمل سیزفائر کی ضمانتوں کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>پاکستانی قیادت، بشمول فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، مذاکرات کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرتی رہی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285035</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 12:03:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/141159567f29a3a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/141159567f29a3a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
