<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی کم قیمتوں سے مہنگائی کے خدشات کم، عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بڑھ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285034/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمتوں میں منگل کو دوبارہ اضافہ دیکھا گیا جس سے اس نے گزشتہ روز کی تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے واپسی کی۔ سونے کی قیمت میں یہ بہتری خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث آئی ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مزید امن مذاکرات کی امیدوں نےمہنگائی کے خدشات کو کم کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح دو بجکر 37 منٹ تک اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 4,768.19 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 7 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز برائے جون ڈلیوری میں بھی 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی قیمت 4,790.70 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے گرگئیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ مذاکرات کے آثار نے سپلائی کے خطرات کو کم کردیا ہے۔ اس سے قبل آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات پیدا ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نقل و حمل اور پیداواری لاگت بڑھا کر افراطِ زر (مہنگائی) میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر افراطِ زر کے دوران سونے کو مہنگائی کے خلاف ایک تحفظ  کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن بلند شرحِ سود اس غیر منافع بخش دھات  کی طلب کو کم کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹی لائیو کے ہیڈ آف گلوبل میکرو الیا اسپیواک کا کہنا ہے کہ مارکیٹس اب بھی یہ سمجھتی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے وقت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اب بھی ختم نہیں ہوئے ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو توقع ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے پیش رفت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی فوج نے پیر کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد تہران نے اپنے خلیجی پڑوسیوں کی بندرگاہوں کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، امریکی ڈالر ایک ماہ سے زائد عرصے کی اپنی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس کی وجہ سے دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے ڈالر کی قیمت والے سونے کی خریداری مزید سستی ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹی لائیو کے الیا اسپیواک کے مطابق قریبی مدت میں اہم معاشی اعدادوشمار کی کمی کی وجہ سے امریکہ-ایران سے متعلق سرخیاں ہی مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے والا اصل محرک ثابت ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیا اسپیواک نے مزید کہا کہ یہ صورتحال فی الحال قیمتوں میں غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ  کیلئے زمین تیار کررہی ہے اور سونے کو 4,850 ڈالر کی سطح کے قریب مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، تاجر اب اس سال امریکی شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا 29 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں جو گزشتہ ہفتے تقریباً 12 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے سے پہلے اس سال شرحِ سود میں دو بار کٹوتی کی توقعات ظاہر کی جا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر دھاتوں میں اسپاٹ سلور (چاندی) 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 76.27 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.1 فیصد اضافے سے 2,071.75 ڈالر اور پیلیڈیم 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,576.23 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمتوں میں منگل کو دوبارہ اضافہ دیکھا گیا جس سے اس نے گزشتہ روز کی تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے واپسی کی۔ سونے کی قیمت میں یہ بہتری خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث آئی ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مزید امن مذاکرات کی امیدوں نےمہنگائی کے خدشات کو کم کردیا ہے۔</strong></p>
<p>صبح دو بجکر 37 منٹ تک اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 4,768.19 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 7 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔</p>
<p>اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز برائے جون ڈلیوری میں بھی 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی قیمت 4,790.70 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے گرگئیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ مذاکرات کے آثار نے سپلائی کے خطرات کو کم کردیا ہے۔ اس سے قبل آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات پیدا ہوئے تھے۔</p>
<p>خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نقل و حمل اور پیداواری لاگت بڑھا کر افراطِ زر (مہنگائی) میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر افراطِ زر کے دوران سونے کو مہنگائی کے خلاف ایک تحفظ  کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن بلند شرحِ سود اس غیر منافع بخش دھات  کی طلب کو کم کر دیتی ہے۔</p>
<p>ٹیسٹی لائیو کے ہیڈ آف گلوبل میکرو الیا اسپیواک کا کہنا ہے کہ مارکیٹس اب بھی یہ سمجھتی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے وقت موجود ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اب بھی ختم نہیں ہوئے ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو توقع ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے پیش رفت کرے گا۔</p>
<p>دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی فوج نے پیر کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد تہران نے اپنے خلیجی پڑوسیوں کی بندرگاہوں کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، امریکی ڈالر ایک ماہ سے زائد عرصے کی اپنی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس کی وجہ سے دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے ڈالر کی قیمت والے سونے کی خریداری مزید سستی ہو گئی۔</p>
<p>ٹیسٹی لائیو کے الیا اسپیواک کے مطابق قریبی مدت میں اہم معاشی اعدادوشمار کی کمی کی وجہ سے امریکہ-ایران سے متعلق سرخیاں ہی مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے والا اصل محرک ثابت ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>الیا اسپیواک نے مزید کہا کہ یہ صورتحال فی الحال قیمتوں میں غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ  کیلئے زمین تیار کررہی ہے اور سونے کو 4,850 ڈالر کی سطح کے قریب مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، تاجر اب اس سال امریکی شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا 29 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں جو گزشتہ ہفتے تقریباً 12 فیصد تھا۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے سے پہلے اس سال شرحِ سود میں دو بار کٹوتی کی توقعات ظاہر کی جا رہی تھیں۔</p>
<p>دیگر دھاتوں میں اسپاٹ سلور (چاندی) 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 76.27 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.1 فیصد اضافے سے 2,071.75 ڈالر اور پیلیڈیم 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,576.23 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285034</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 11:32:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/141116538f6ac1b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/141116538f6ac1b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
