<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مذاکرات میں تعطل کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے، وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285026/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے آخر میں ہونے والی بات چیت کے بعد باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے مکمل کوششیں جاری ہیں اور انہوں نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جسے براہ راست نشر کیا گیا، شہباز شریف نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کی درخواست پر ہونے والی جنگ بندی برقرار ہے اور باقی مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مذاکرات کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ان مذاکرات نے جنگ کے بادل ہٹا دیے ہیں اور پاکستان کو تنازع کو پائیدار امن میں بدلنے کا موقع ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ تاریخ دیکھیں تو اوسلو معاہدہ، جنیوا معاہدہ، گڈ فرائیڈے معاہدہ—اکثر دشمنی ختم کرنے اور امن قائم کرنے میں مہینے بلکہ سال لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے بتایا کہ امریکی اور ایرانی وفود نے مسلسل 21 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات بالواسطہ نہیں تھے بلکہ پہلی بار دونوں وفود آمنے سامنے بیٹھے۔ میں خود اس کا گواہ ہوں۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے دونوں فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور باقی مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا اور کئی یورپی رہنماؤں نے پاکستان کے کردار پر مبارکباد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیموں کی کوششوں کو خاص طور پر سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان کی دانشمندی واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے مزید کہا کہ قومی رازوں کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے، لیکن انہوں نے یہ تمام لمحات خود دیکھے، اور فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم رات بھر جاگتی رہی جبکہ مذاکرات تقریباً ناکام ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے مگر آخرکار انہیں بچا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے آئندہ دورہ سعودی عرب اور اتحادی ممالک سے حالیہ روابط سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا اور کہا کہ ان دوروں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران امریکہ مذاکرات پر بات چیت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران دونوں وفود نے الگ الگ بیانات جاری کیے جن میں وزیر اعظم کے مطابق مشترکہ نکات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے مذاکرات کی میزبانی کی اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کے برادرانہ کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسا نادر موقع ملا ہے کہ وہ دو ایسے فریقین کے درمیان ثالثی کرے جو 47 سال سے آمنے سامنے بیٹھنے کو تیار نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے آخر میں ہونے والی بات چیت کے بعد باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے مکمل کوششیں جاری ہیں اور انہوں نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جسے براہ راست نشر کیا گیا، شہباز شریف نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کی درخواست پر ہونے والی جنگ بندی برقرار ہے اور باقی مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد مذاکرات کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ان مذاکرات نے جنگ کے بادل ہٹا دیے ہیں اور پاکستان کو تنازع کو پائیدار امن میں بدلنے کا موقع ملا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ تاریخ دیکھیں تو اوسلو معاہدہ، جنیوا معاہدہ، گڈ فرائیڈے معاہدہ—اکثر دشمنی ختم کرنے اور امن قائم کرنے میں مہینے بلکہ سال لگے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے بتایا کہ امریکی اور ایرانی وفود نے مسلسل 21 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات بالواسطہ نہیں تھے بلکہ پہلی بار دونوں وفود آمنے سامنے بیٹھے۔ میں خود اس کا گواہ ہوں۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے دونوں فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور باقی مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا اور کئی یورپی رہنماؤں نے پاکستان کے کردار پر مبارکباد دی ہے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیموں کی کوششوں کو خاص طور پر سراہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان کی دانشمندی واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔</p>
<p>وزیر اعظم نے مزید کہا کہ قومی رازوں کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے، لیکن انہوں نے یہ تمام لمحات خود دیکھے، اور فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم رات بھر جاگتی رہی جبکہ مذاکرات تقریباً ناکام ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے مگر آخرکار انہیں بچا لیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے اپنے آئندہ دورہ سعودی عرب اور اتحادی ممالک سے حالیہ روابط سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا اور کہا کہ ان دوروں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران امریکہ مذاکرات پر بات چیت ہوگی۔</p>
<p>مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران دونوں وفود نے الگ الگ بیانات جاری کیے جن میں وزیر اعظم کے مطابق مشترکہ نکات شامل تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے مذاکرات کی میزبانی کی اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کے برادرانہ کردار کو سراہا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسا نادر موقع ملا ہے کہ وہ دو ایسے فریقین کے درمیان ثالثی کرے جو 47 سال سے آمنے سامنے بیٹھنے کو تیار نہیں تھے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285026</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 09:59:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/140957015c38229.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/140957015c38229.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
