<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کی لوڈشیڈنگ کا آغاز، شارٹ فال پر قابو پانے کی کوششیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285023/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے بجلی کی پیداوار میں کمی کو پورا کرنے اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے روزانہ تین گھنٹے تک لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے۔ یہ کمی بنیادی طور پر آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث پیدا ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سسٹم میں تقریباً 2000 سے 2500 میگاواٹ کی کمی ہے، جس کی بڑی وجہ ہائیڈرو پاور کی کم پیداوار اور آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کی محدود کارکردگی ہے۔ اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کو اعتماد میں لیا گیا ہے، جو ملک کی توانائی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں، تاہم پیک آورز کے دوران محدود لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے، جو اوسطاً تقریباً 2.25 گھنٹے، زیادہ تر رات کے وقت ہوتی ہے، تاکہ فرنس آئل کے استعمال کو کم کیا جا سکے اور فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کو قابو میں رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 20,200 کیوسک جبکہ اخراج 8,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منگلا ڈیم میں آمد 29,100 کیوسک اور اخراج 8,000 کیوسک رہا۔ تربیلا میں پانی کی سطح 1,465.62 فٹ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ سطح 1,550 فٹ ہے اور قابل استعمال ذخیرہ 1.526 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا میں پانی کی سطح 1,156.90 فٹ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ سطح 1,242 فٹ ہے اور ذخیرہ 1.989 ملین ایکڑ فٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر فرنس آئل کی قیمت فروری 2026 میں تقریباً 200,000 روپے فی ٹن سے بڑھ کر حالیہ جنگ بندی سے قبل تقریباً 400,000 روپے فی ٹن تک پہنچ گئی، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کے باعث صوبوں کی جانب سے پانی کی طلب کم رہنے کے نتیجے میں ہائیڈرو پاور پیداوار میں کمی آئی ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب میں بارشوں سے گندم سمیت کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی صارفین کو مارچ 2026 کے لیے فی یونٹ 2 روپے سے زائد کا اضافی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی وجہ مہنگے فرنس آئل پر انحصار اور آر ایل این جی سے بجلی کی کم پیداوار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق تقریباً 3600 میگاواٹ صلاحیت کے آر ایل این جی پاور پلانٹس کو اس وقت مقامی گیس کی محدود فراہمی کی جا رہی ہے۔ 14 مارچ 2026 کو پاور ڈویژن نے بتایا تھا کہ آر ایل این جی کی طلب تقریباً 300 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جبکہ سوئی ناردرن سے صرف 130 ایم ایم سی ایف ڈی فراہم کی جا رہی تھی، جو صرف ایک پاور پلانٹ کو دی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 سے 30 مارچ کے دوران گیس کی دستیابی مزید کم ہو کر تقریباً 85 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی، جبکہ اس وقت یہ تقریباً 80 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جبکہ طلب تقریباً 350 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جس سے بجلی کی پیداوار میں کمی مزید بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں 2015 سے 2018 کے دوران بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے تین بڑے آر ایل این جی پاور پلانٹس قائم کیے گئے تھے، جن میں شیخوپورہ کا 1180 میگاواٹ بھکی پاور پلانٹ، جھنگ کا 1230 میگاواٹ حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ، اور قصور کا 1223 میگاواٹ بلوکی پاور پلانٹ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے بجلی کی پیداوار میں کمی کو پورا کرنے اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے روزانہ تین گھنٹے تک لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے۔ یہ کمی بنیادی طور پر آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث پیدا ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق سسٹم میں تقریباً 2000 سے 2500 میگاواٹ کی کمی ہے، جس کی بڑی وجہ ہائیڈرو پاور کی کم پیداوار اور آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کی محدود کارکردگی ہے۔ اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کو اعتماد میں لیا گیا ہے، جو ملک کی توانائی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں، تاہم پیک آورز کے دوران محدود لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے، جو اوسطاً تقریباً 2.25 گھنٹے، زیادہ تر رات کے وقت ہوتی ہے، تاکہ فرنس آئل کے استعمال کو کم کیا جا سکے اور فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کو قابو میں رکھا جا سکے۔</p>
<p>واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 20,200 کیوسک جبکہ اخراج 8,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منگلا ڈیم میں آمد 29,100 کیوسک اور اخراج 8,000 کیوسک رہا۔ تربیلا میں پانی کی سطح 1,465.62 فٹ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ سطح 1,550 فٹ ہے اور قابل استعمال ذخیرہ 1.526 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا میں پانی کی سطح 1,156.90 فٹ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ سطح 1,242 فٹ ہے اور ذخیرہ 1.989 ملین ایکڑ فٹ ہے۔</p>
<p>ادھر فرنس آئل کی قیمت فروری 2026 میں تقریباً 200,000 روپے فی ٹن سے بڑھ کر حالیہ جنگ بندی سے قبل تقریباً 400,000 روپے فی ٹن تک پہنچ گئی، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کے باعث صوبوں کی جانب سے پانی کی طلب کم رہنے کے نتیجے میں ہائیڈرو پاور پیداوار میں کمی آئی ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب میں بارشوں سے گندم سمیت کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>بجلی صارفین کو مارچ 2026 کے لیے فی یونٹ 2 روپے سے زائد کا اضافی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی وجہ مہنگے فرنس آئل پر انحصار اور آر ایل این جی سے بجلی کی کم پیداوار ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق تقریباً 3600 میگاواٹ صلاحیت کے آر ایل این جی پاور پلانٹس کو اس وقت مقامی گیس کی محدود فراہمی کی جا رہی ہے۔ 14 مارچ 2026 کو پاور ڈویژن نے بتایا تھا کہ آر ایل این جی کی طلب تقریباً 300 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جبکہ سوئی ناردرن سے صرف 130 ایم ایم سی ایف ڈی فراہم کی جا رہی تھی، جو صرف ایک پاور پلانٹ کو دی جا رہی تھی۔</p>
<p>20 سے 30 مارچ کے دوران گیس کی دستیابی مزید کم ہو کر تقریباً 85 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی، جبکہ اس وقت یہ تقریباً 80 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جبکہ طلب تقریباً 350 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جس سے بجلی کی پیداوار میں کمی مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں 2015 سے 2018 کے دوران بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے تین بڑے آر ایل این جی پاور پلانٹس قائم کیے گئے تھے، جن میں شیخوپورہ کا 1180 میگاواٹ بھکی پاور پلانٹ، جھنگ کا 1230 میگاواٹ حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ، اور قصور کا 1223 میگاواٹ بلوکی پاور پلانٹ شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285023</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 14:41:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/14091948b29a341.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/14091948b29a341.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
