<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فنڈنگ کیلئے تمام آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، پاکستان کا اسٹریٹجک فیول ذخائر بنانے پرغور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285022/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو سنبھالنے اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے حاصل کردہ 3.5 ارب ڈالر کی سہولت کے متبادل کے طور پر یوروبانڈز، دیگر ممالک سے قرض اور کمرشل قرضوں پر غور کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے رائٹرز کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے جھٹکوں کے باعث پاکستان کو اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہونے پر بھی غور کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سعودی عرب سے ایسے قرض کے لیے بات چیت کر رہی ہے جو یو اے ای کی سہولت کا متبادل ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ تمام آپشنز زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق پاکستان رواں ماہ یو اے ای کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بھی بنا ہوا ہے کیونکہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اسپرنگ اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام قرضوں کی ادائیگی سنبھال سکتا ہے، جبکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں، اور اس سطح کو برقرار رکھنا مجموعی معاشی استحکام کے لیے اہم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت یوروبانڈز، اسلامی سکوک اور ڈالر میں طے ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز پر غور کر رہی ہے، جبکہ اس سال یوروبانڈ جاری کرنے کی توقع ہے اور کمرشل قرضوں کے آپشنز بھی دیکھے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان نے ابھی تک مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات کے باعث 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں کسی تبدیلی کی درخواست نہیں دی، تاہم یہ ایک ممکنہ آپشن ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ رواں ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز تک نئی قسط کی منظوری دے سکتا ہے، جس سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر جاری ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آئندہ ماہ اپنا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو چینی یوآن میں ہوگا۔ 250 ملین ڈالر کا یہ اجرا ایک ارب ڈالر کے پروگرام کا حصہ ہے اور اسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی حمایت حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب کے مطابق تقریباً 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ، 41.5 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ہدفی امداد موجودہ مالی سال میں ایران جنگ کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جو 30 جون کو ختم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے نے اس بات کی ضرورت اجاگر کی ہے کہ پاکستان محض کمرشل ذخائر پر انحصار کرنے کے بجائے اسٹریٹجک ایندھن اور ایل پی جی ذخائر قائم کرے اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیزی سے پیش رفت کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو سنبھالنے اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے حاصل کردہ 3.5 ارب ڈالر کی سہولت کے متبادل کے طور پر یوروبانڈز، دیگر ممالک سے قرض اور کمرشل قرضوں پر غور کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>محمد اورنگزیب نے رائٹرز کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے جھٹکوں کے باعث پاکستان کو اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہونے پر بھی غور کرنا ہوگا۔</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سعودی عرب سے ایسے قرض کے لیے بات چیت کر رہی ہے جو یو اے ای کی سہولت کا متبادل ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ تمام آپشنز زیر غور ہیں۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق پاکستان رواں ماہ یو اے ای کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>پاکستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بھی بنا ہوا ہے کیونکہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اسپرنگ اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام قرضوں کی ادائیگی سنبھال سکتا ہے، جبکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں، اور اس سطح کو برقرار رکھنا مجموعی معاشی استحکام کے لیے اہم ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت یوروبانڈز، اسلامی سکوک اور ڈالر میں طے ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز پر غور کر رہی ہے، جبکہ اس سال یوروبانڈ جاری کرنے کی توقع ہے اور کمرشل قرضوں کے آپشنز بھی دیکھے جا رہے ہیں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان نے ابھی تک مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات کے باعث 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں کسی تبدیلی کی درخواست نہیں دی، تاہم یہ ایک ممکنہ آپشن ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ رواں ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز تک نئی قسط کی منظوری دے سکتا ہے، جس سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر جاری ہوں گے۔</p>
<p>پاکستان آئندہ ماہ اپنا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو چینی یوآن میں ہوگا۔ 250 ملین ڈالر کا یہ اجرا ایک ارب ڈالر کے پروگرام کا حصہ ہے اور اسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی حمایت حاصل ہوگی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب کے مطابق تقریباً 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ، 41.5 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ہدفی امداد موجودہ مالی سال میں ایران جنگ کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جو 30 جون کو ختم ہوگا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے نے اس بات کی ضرورت اجاگر کی ہے کہ پاکستان محض کمرشل ذخائر پر انحصار کرنے کے بجائے اسٹریٹجک ایندھن اور ایل پی جی ذخائر قائم کرے اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیزی سے پیش رفت کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285022</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 09:12:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/14090824b60c97e.webp" type="image/webp" medium="image" height="852" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/14090824b60c97e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
