<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی امید، خام تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285019/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشیا کی ابتدائی ٹریڈنگ میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں سامنے آئیں، جس سے سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کسی حد تک کم ہو گئے۔ یہ خدشات آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باعث پیدا ہوئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.86 ڈالر یا 1.87 فیصد کمی کے بعد 97.50 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 2.25 ڈالر یا 2.27 فیصد گر کر 96.83 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اس سے قبل پیر کے روز دونوں بینچ مارکس میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف ناکہ بندی شروع کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی کا دائرہ خلیج عمان اور بحیرۂ عرب تک بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق دو جہاز آبنائے ہرمز سے واپس لوٹ گئے۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو وہ خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ معاہدے کے اشاروں نے مارکیٹ میں کچھ دباؤ کم کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اے این زیڈ بینک کے مطابق تقریباً 10 ملین بیرل یومیہ سپلائی متاثر ہو چکی ہے، جبکہ طویل ناکہ بندی مزید 3 سے 4 ملین بیرل یومیہ برآمدات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی اور دیگر عالمی اداروں نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ توانائی ذخیرہ کرنے یا برآمدات محدود کرنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، اوپیک نے اپنی تازہ رپورٹ میں عالمی طلب کے اندازے میں 500,000 بیرل یومیہ کمی کر دی ہے، جو مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشیا کی ابتدائی ٹریڈنگ میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں سامنے آئیں، جس سے سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کسی حد تک کم ہو گئے۔ یہ خدشات آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باعث پیدا ہوئے تھے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.86 ڈالر یا 1.87 فیصد کمی کے بعد 97.50 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 2.25 ڈالر یا 2.27 فیصد گر کر 96.83 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اس سے قبل پیر کے روز دونوں بینچ مارکس میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف ناکہ بندی شروع کی۔</p>
<p>امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی کا دائرہ خلیج عمان اور بحیرۂ عرب تک بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق دو جہاز آبنائے ہرمز سے واپس لوٹ گئے۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو وہ خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ معاہدے کے اشاروں نے مارکیٹ میں کچھ دباؤ کم کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>ادھر اے این زیڈ بینک کے مطابق تقریباً 10 ملین بیرل یومیہ سپلائی متاثر ہو چکی ہے، جبکہ طویل ناکہ بندی مزید 3 سے 4 ملین بیرل یومیہ برآمدات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی اور دیگر عالمی اداروں نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ توانائی ذخیرہ کرنے یا برآمدات محدود کرنے سے گریز کریں۔</p>
<p>مزید برآں، اوپیک نے اپنی تازہ رپورٹ میں عالمی طلب کے اندازے میں 500,000 بیرل یومیہ کمی کر دی ہے، جو مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285019</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:53:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/14115533e9e4b32.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/14115533e9e4b32.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
