<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فچ نے پاکستان کے طویل مدتی قرضوں کی ریٹنگ بی مائنس برقرار رکھی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285009/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فچ ریٹنگز نے پاکستان کے طویل مدتی غیر ملکی کرنسی کے جاری کنندہ کے ڈیفالٹ کی درجہ بندی (آئی ڈی آر) کو مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ  بی  پر برقرار رکھا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے ثالث کے طور پر پاکستان کا کردار ٹھوس فوائد فراہم کر سکتا ہے اور جزوی طور پر بیرونی دباؤ کو زائل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے پیر کو جاری  بیان میں کہا کہ پاکستان کی ریٹنگ کی توثیق مالیاتی استحکام اور میکرو اکنامک استحکام کے اقدامات میں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے، جو کہ بڑی حد تک آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق ہے اور اس کی مالیاتی صلاحیت کو سہارا دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران دوبارہ بنائے گئے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات کے خلاف ایک ڈھال فراہم کرتے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بروکر کے طور پر پاکستان کا کردار ٹھوس فوائد فراہم کر سکتا ہے اور بیرونی دباؤ کو جزوی طور پر متوازن کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی توانائی کی قیمتوں کے جھٹکے سے پاکستان کا بہت زیادہ متاثر ہونا ایک بڑا خطرہ ہے، خاص طور پر اگر اس کے نتیجے میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو۔ فچ ریٹنگز نے نوٹ کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا پروگرام کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ حکام نے مارچ 2026 میں آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی کریڈٹ سہولت (ای سی ایف) کے تیسرے جائزے اور لچک اور پائیداری کی سہولت کے دوسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ کر لیا ہے، جس سے بورڈ کی منظوری کی صورت میں مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر مل سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ جنوبی ایشیائی ملک توانائی کے جھٹکوں کے حوالے سے اب بھی خطرے کی زد میں ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا 90 فیصد تیل خلیجی ممالک سے منگواتا ہے اور اس کے پاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے کہا کہ مارچ کے آغاز سے دی جانے والی حکومتی فیول سبسڈی بجٹ کے دیگر شعبوں سے اخراجات کی دوبارہ تخصیص کے ذریعے فراہم کی گئی ہے، جبکہ اپریل سے زیادہ ٹارگیٹڈ سپورٹ اسکیم (ہدف شدہ امداد) میں منتقلی اور قیمتوں میں اضافے سے اخراجات میں کمی لائی گئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ مالیاتی خسارے پر مجموعی اثر قابو میں رہے گا کیونکہ حکومت دیگر اخراجات میں کٹوتی کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے حوالے سے فچ نے کہا کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے آنے والے مہینوں میں پاکستان میں افراطِ زر بڑھے گا، خاص طور پر سبسڈی میں تبدیلی کے باعث۔ توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں افراطِ زر کی اوسط شرح 7.9 فیصد رہے گی، جو مالی سال 2025 سے زیادہ لیکن مالی سال 2024 کی 23.4 فیصد شرح سے بہت کم ہوگی۔ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 2024 کے 22 فیصد سے کم کر کے 2025 کے آخر تک 10.5 فیصد کر دیا تھا، لیکن اپریل کے اوائل میں توانائی کی سپلائی اور افراطِ زر کے خدشات کی وجہ سے مارکیٹ ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ کا تخمینہ ہے کہ یہ معاشی جھٹکا جی ڈی پی کی ترقی کی رفتار کو متاثر کرے گا، تاہم قرض لینے کی لاگت میں کمی سے اعتماد بحال ہونے کے باعث مالی سال 2026 میں شرحِ نمو 3.1 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو مالی سال 2025 میں 3.0 فیصد تھی۔ ایجنسی کے مطابق پاکستان کی بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں مالی سال 2026 میں بڑھ کر 12.8 ارب ڈالر ہو جائیں گی، جو مالی سال 2025 میں تقریباً 8 ارب ڈالر تھیں۔ اپریل میں متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ واپس کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادائیگیوں کے لیے فنڈز کا انتظام بنیادی طور پر آئی ایم ایف، دیگر کثیر الجہتی اور دوطرفہ ذرائع اور کمرشل فنانسنگ سے متوقع ہے۔ پاکستان رواں مالی سال میں پانڈا بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ مالی سال 2026 میں 1.1 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 2026 کے آخر تک معمولی کمی کے ساتھ 21.3 ارب ڈالر تک رہ سکتے ہیں، جو 2.9 ماہ کی بیرونی ادائیگیوں کے لیے کافی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فروری 2026 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم تجارت اور وسیع تر معیشت پر اس کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فچ ریٹنگز نے پاکستان کے طویل مدتی غیر ملکی کرنسی کے جاری کنندہ کے ڈیفالٹ کی درجہ بندی (آئی ڈی آر) کو مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ  بی  پر برقرار رکھا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے ثالث کے طور پر پاکستان کا کردار ٹھوس فوائد فراہم کر سکتا ہے اور جزوی طور پر بیرونی دباؤ کو زائل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔</strong></p>
<p>کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے پیر کو جاری  بیان میں کہا کہ پاکستان کی ریٹنگ کی توثیق مالیاتی استحکام اور میکرو اکنامک استحکام کے اقدامات میں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے، جو کہ بڑی حد تک آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق ہے اور اس کی مالیاتی صلاحیت کو سہارا دے رہی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران دوبارہ بنائے گئے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات کے خلاف ایک ڈھال فراہم کرتے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بروکر کے طور پر پاکستان کا کردار ٹھوس فوائد فراہم کر سکتا ہے اور بیرونی دباؤ کو جزوی طور پر متوازن کر سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی توانائی کی قیمتوں کے جھٹکے سے پاکستان کا بہت زیادہ متاثر ہونا ایک بڑا خطرہ ہے، خاص طور پر اگر اس کے نتیجے میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو۔ فچ ریٹنگز نے نوٹ کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا پروگرام کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ حکام نے مارچ 2026 میں آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی کریڈٹ سہولت (ای سی ایف) کے تیسرے جائزے اور لچک اور پائیداری کی سہولت کے دوسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ کر لیا ہے، جس سے بورڈ کی منظوری کی صورت میں مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر مل سکیں گے۔</p>
<p>رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ جنوبی ایشیائی ملک توانائی کے جھٹکوں کے حوالے سے اب بھی خطرے کی زد میں ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا 90 فیصد تیل خلیجی ممالک سے منگواتا ہے اور اس کے پاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>ایجنسی نے کہا کہ مارچ کے آغاز سے دی جانے والی حکومتی فیول سبسڈی بجٹ کے دیگر شعبوں سے اخراجات کی دوبارہ تخصیص کے ذریعے فراہم کی گئی ہے، جبکہ اپریل سے زیادہ ٹارگیٹڈ سپورٹ اسکیم (ہدف شدہ امداد) میں منتقلی اور قیمتوں میں اضافے سے اخراجات میں کمی لائی گئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ مالیاتی خسارے پر مجموعی اثر قابو میں رہے گا کیونکہ حکومت دیگر اخراجات میں کٹوتی کر سکتی ہے۔</p>
<p>مہنگائی کے حوالے سے فچ نے کہا کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے آنے والے مہینوں میں پاکستان میں افراطِ زر بڑھے گا، خاص طور پر سبسڈی میں تبدیلی کے باعث۔ توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں افراطِ زر کی اوسط شرح 7.9 فیصد رہے گی، جو مالی سال 2025 سے زیادہ لیکن مالی سال 2024 کی 23.4 فیصد شرح سے بہت کم ہوگی۔ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 2024 کے 22 فیصد سے کم کر کے 2025 کے آخر تک 10.5 فیصد کر دیا تھا، لیکن اپریل کے اوائل میں توانائی کی سپلائی اور افراطِ زر کے خدشات کی وجہ سے مارکیٹ ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>فچ کا تخمینہ ہے کہ یہ معاشی جھٹکا جی ڈی پی کی ترقی کی رفتار کو متاثر کرے گا، تاہم قرض لینے کی لاگت میں کمی سے اعتماد بحال ہونے کے باعث مالی سال 2026 میں شرحِ نمو 3.1 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو مالی سال 2025 میں 3.0 فیصد تھی۔ ایجنسی کے مطابق پاکستان کی بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں مالی سال 2026 میں بڑھ کر 12.8 ارب ڈالر ہو جائیں گی، جو مالی سال 2025 میں تقریباً 8 ارب ڈالر تھیں۔ اپریل میں متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ واپس کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ادائیگیوں کے لیے فنڈز کا انتظام بنیادی طور پر آئی ایم ایف، دیگر کثیر الجہتی اور دوطرفہ ذرائع اور کمرشل فنانسنگ سے متوقع ہے۔ پاکستان رواں مالی سال میں پانڈا بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ مالی سال 2026 میں 1.1 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 2026 کے آخر تک معمولی کمی کے ساتھ 21.3 ارب ڈالر تک رہ سکتے ہیں، جو 2.9 ماہ کی بیرونی ادائیگیوں کے لیے کافی ہوں گے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فروری 2026 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم تجارت اور وسیع تر معیشت پر اس کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285009</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 09:36:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/13165408349e409.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/13165408349e409.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
