<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات کا قرض لوٹانے کے لیے پاکستان کی چین اور سعودی عرب سے بات چیت، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285008/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلومبرگ نے معاملے سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات (یواے ای) کو تقریباً 3 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کے لیے سعودی عرب اور چین کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان گزشتہ سات برس میں پہلی بار متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس قرض کی واپسی میں توسیع (رول اوور) کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث اسلام آباد کو متبادل فنڈنگ کا بندوبست کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت زیرِ بحث مالی امداد کی رقم 3.5 ارب ڈالر سے زائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے ایک سال سے کم کی مختصر مدت کے لیے رول اوور کی پیشکش کی تھی جسے پاکستان نے قبول نہیں کیا۔ تاہم  بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس ادائیگی کو ایک معمول کی مالیاتی ٹرانزیکشن قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حکومتی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ قرض 2018 سے رول اوور ہوتا آ رہا تھا، جس میں تقریباً 6 فیصد سالانہ سود پر 3 ارب ڈالر کی سہولت شامل تھی لیکن رواں سال کے اوائل میں اسے سالانہ کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر توسیع دی جانے لگی تھی، جس کے بعد اسلام آباد نے اسے مکمل طور پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا، اس ادائیگی کی کلیئرنس 23 اپریل تک متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کو یہ ادائیگی ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جون تک اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے لیے دوطرفہ ڈپازٹس کا رول اوور ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو انادولو ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ سعودی عرب اور قطر پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کریں گے، جس سے اسلام آباد کو جون تک بیرونی ادائیگیاں کرنے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ سے بچنے میں مدد ملے گی۔ 3 اپریل 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 16.40 ارب ڈالر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا بلومبرگ نے نوٹ کیا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعلقات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جبکہ اسی دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا ہے۔ سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نے جمعہ کی رات اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان کے چین کے ساتھ بھی گہرے معاشی تعلقات قائم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اگلے مرحلے کو شروع کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلومبرگ نے معاملے سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات (یواے ای) کو تقریباً 3 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کے لیے سعودی عرب اور چین کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان گزشتہ سات برس میں پہلی بار متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس قرض کی واپسی میں توسیع (رول اوور) کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث اسلام آباد کو متبادل فنڈنگ کا بندوبست کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت زیرِ بحث مالی امداد کی رقم 3.5 ارب ڈالر سے زائد ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات نے ایک سال سے کم کی مختصر مدت کے لیے رول اوور کی پیشکش کی تھی جسے پاکستان نے قبول نہیں کیا۔ تاہم  بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس ادائیگی کو ایک معمول کی مالیاتی ٹرانزیکشن قرار دیا ہے۔</p>
<p>ایک حکومتی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ قرض 2018 سے رول اوور ہوتا آ رہا تھا، جس میں تقریباً 6 فیصد سالانہ سود پر 3 ارب ڈالر کی سہولت شامل تھی لیکن رواں سال کے اوائل میں اسے سالانہ کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر توسیع دی جانے لگی تھی، جس کے بعد اسلام آباد نے اسے مکمل طور پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا، اس ادائیگی کی کلیئرنس 23 اپریل تک متوقع ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کو یہ ادائیگی ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جون تک اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے لیے دوطرفہ ڈپازٹس کا رول اوور ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>اتوار کو انادولو ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ سعودی عرب اور قطر پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کریں گے، جس سے اسلام آباد کو جون تک بیرونی ادائیگیاں کرنے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ سے بچنے میں مدد ملے گی۔ 3 اپریل 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 16.40 ارب ڈالر تھے۔</p>
<p>دریں اثنا بلومبرگ نے نوٹ کیا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعلقات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جبکہ اسی دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا ہے۔ سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نے جمعہ کی رات اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی کی تھی۔</p>
<p>اسی طرح پاکستان کے چین کے ساتھ بھی گہرے معاشی تعلقات قائم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اگلے مرحلے کو شروع کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285008</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 16:38:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/13162501d69168c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/13162501d69168c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
