<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِ خزانہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے موسمِ بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285000/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے موسمِ بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے پیر کو واشنگٹن پہنچ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ہارورڈ میں ملاقاتوں کے بعد وزیرِ خزانہ عالمی مالیاتی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے تاکہ پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے اور معاشی ترجیحات کو آگے بڑھایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Financegovpk/status/2043525949648732647?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Financegovpk/status/2043525949648732647?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے موسمِ بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچے جو 13 سے 18 اپریل 2026 تک واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق اپنے دورے کے دوران وزیرِ خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک گروپ کے زیرِ اہتمام اہم تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے، اس کے علاوہ وہ عالمی مالیاتی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر کثیر الجہتی اور دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے جن میں ورلڈ بینک گروپ کی منیجنگ ڈائریکٹر (آپریشنز) اینا بجردے، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار ڈیوپ اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے منیجنگ ڈائریکٹر تسوتومو یاماموٹو شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت سے بھی ملاقات کریں گے جن میں فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک اور مشرقِ وسطیٰ و وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد آزور شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے میکرو اکنامک آؤٹ لک، اصلاحات کی پیش رفت اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ امریکی تجارتی نمائندہ  جیمی سن گریر سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے حمایت پر بات چیت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ عالمی مالیاتی اداروں اور کارپوریشنز کے اعلیٰ نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے جن میں فرینکلن ٹیمپلٹن، روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی، سٹی بینک، اور جے پی مورگن چیس جیسے بڑے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے اداروں اور بینکوں کی قیادت کے ساتھ ساتھ صفِ اول کے ٹیکنالوجی اور پالیسی پلیٹ فارمز کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں محمد اورنگزیب چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور برطانیہ سمیت شراکت دار ممالک کے اہم ہم منصبوں اور مالیاتی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے تاکہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مستحکم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کثیر الجہتی اور ترقیاتی مالیاتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے، جن میں انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ ، گیٹس فاؤنڈیشن، اور ایشیائی ترقیاتی بینک ، جائیکا اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک جیسے اداروں کے اعلیٰ نمائندے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ اہم کثیر الجہتی فورمز میں شرکت کریں گے، جن میں G-24 وزرائے خزانہ اور سینٹرل بینک گورنرز کے اجلاس اور کولیشن آف فنانس منسٹرز فار کلائمیٹ ایکشن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اعلیٰ سطح کے راؤنڈ ٹیبل مذاکرات اور پالیسی مباحثوں کے سلسلے میں بھی اپنا حصہ ڈالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دورے کا ایک اہم پہلو ورلڈ بینک کی میزبانی میں ہونے والے راؤنڈ ٹیبل مذاکرات میں پاکستان کی شرکت ہوگی جس کا عنوان ڈیجیٹل سماجی تحفظ کی فراہمی: پاکستان، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے حاصل کردہ اسباق اور ایجادات ہے۔ اس فورم پر پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر گورنمنٹ ٹو پرسن  پیمنٹ سسٹم تیار کرنے اور اسے وسعت دینے کے اپنے تجربات، خاص طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری مصروفیات کے علاوہ وزیرِ خزانہ سرمایہ کاری کے فورمز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ گول میز مذاکرات میں بھی شرکت کریں گے جن میں جیفریز جے پی مورگن اور سٹی بینک کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیشنز شامل ہیں۔ ان نشستوں میں وہ پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں، اصلاحاتی ایجنڈے اور سرمایہ کاری کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دورے کے دوران توقع ہے کہ وزیرِ خزانہ 50 سے زائد اعلیٰ سطح  مصروفیات میں حصہ لیں گے، جن میں دو طرفہ ملاقاتیں، کثیر الجہتی فورمز، پالیسی مذاکرات، سرمایہ کاری کے راؤنڈ ٹیبلز اور میڈیا کے ساتھ گفتگو شامل ہے۔ یہ مصروفیات عالمی معاشی برادری کے ساتھ پاکستان کے فعال اور تعمیری روابط کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے موسمِ بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے پیر کو واشنگٹن پہنچ گئے۔</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ہارورڈ میں ملاقاتوں کے بعد وزیرِ خزانہ عالمی مالیاتی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے تاکہ پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے اور معاشی ترجیحات کو آگے بڑھایا جاسکے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Financegovpk/status/2043525949648732647?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Financegovpk/status/2043525949648732647?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>قبل ازیں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے موسمِ بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچے جو 13 سے 18 اپریل 2026 تک واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے جارہے ہیں۔</p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق اپنے دورے کے دوران وزیرِ خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک گروپ کے زیرِ اہتمام اہم تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے، اس کے علاوہ وہ عالمی مالیاتی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر کثیر الجہتی اور دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی شرکت کریں گے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے جن میں ورلڈ بینک گروپ کی منیجنگ ڈائریکٹر (آپریشنز) اینا بجردے، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار ڈیوپ اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے منیجنگ ڈائریکٹر تسوتومو یاماموٹو شامل ہیں۔</p>
<p>وہ آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت سے بھی ملاقات کریں گے جن میں فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک اور مشرقِ وسطیٰ و وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد آزور شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے میکرو اکنامک آؤٹ لک، اصلاحات کی پیش رفت اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ امریکی تجارتی نمائندہ  جیمی سن گریر سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے حمایت پر بات چیت کی جا سکے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ عالمی مالیاتی اداروں اور کارپوریشنز کے اعلیٰ نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے جن میں فرینکلن ٹیمپلٹن، روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی، سٹی بینک، اور جے پی مورگن چیس جیسے بڑے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے اداروں اور بینکوں کی قیادت کے ساتھ ساتھ صفِ اول کے ٹیکنالوجی اور پالیسی پلیٹ فارمز کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>مزید برآں محمد اورنگزیب چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور برطانیہ سمیت شراکت دار ممالک کے اہم ہم منصبوں اور مالیاتی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے تاکہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مستحکم کیا جا سکے۔</p>
<p>وہ کثیر الجہتی اور ترقیاتی مالیاتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے، جن میں انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ ، گیٹس فاؤنڈیشن، اور ایشیائی ترقیاتی بینک ، جائیکا اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک جیسے اداروں کے اعلیٰ نمائندے شامل ہیں۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ اہم کثیر الجہتی فورمز میں شرکت کریں گے، جن میں G-24 وزرائے خزانہ اور سینٹرل بینک گورنرز کے اجلاس اور کولیشن آف فنانس منسٹرز فار کلائمیٹ ایکشن شامل ہیں۔</p>
<p>وہ اعلیٰ سطح کے راؤنڈ ٹیبل مذاکرات اور پالیسی مباحثوں کے سلسلے میں بھی اپنا حصہ ڈالیں گے۔</p>
<p>اس دورے کا ایک اہم پہلو ورلڈ بینک کی میزبانی میں ہونے والے راؤنڈ ٹیبل مذاکرات میں پاکستان کی شرکت ہوگی جس کا عنوان ڈیجیٹل سماجی تحفظ کی فراہمی: پاکستان، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے حاصل کردہ اسباق اور ایجادات ہے۔ اس فورم پر پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر گورنمنٹ ٹو پرسن  پیمنٹ سسٹم تیار کرنے اور اسے وسعت دینے کے اپنے تجربات، خاص طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے پیش کرے گا۔</p>
<p>سرکاری مصروفیات کے علاوہ وزیرِ خزانہ سرمایہ کاری کے فورمز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ گول میز مذاکرات میں بھی شرکت کریں گے جن میں جیفریز جے پی مورگن اور سٹی بینک کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیشنز شامل ہیں۔ ان نشستوں میں وہ پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں، اصلاحاتی ایجنڈے اور سرمایہ کاری کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں گے۔</p>
<p>اپنے دورے کے دوران توقع ہے کہ وزیرِ خزانہ 50 سے زائد اعلیٰ سطح  مصروفیات میں حصہ لیں گے، جن میں دو طرفہ ملاقاتیں، کثیر الجہتی فورمز، پالیسی مذاکرات، سرمایہ کاری کے راؤنڈ ٹیبلز اور میڈیا کے ساتھ گفتگو شامل ہے۔ یہ مصروفیات عالمی معاشی برادری کے ساتھ پاکستان کے فعال اور تعمیری روابط کی عکاسی کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285000</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 14:19:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1314160539df1ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1314160539df1ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
