<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ناکہ بندی کا ایران کی تیل کی ترسیل پر کیا اثر پڑے گا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284995/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی تیل منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس اقدام سے یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی تیل کی سپلائی عالمی منڈی سے کٹ سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران آنے جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی۔ بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ یہ پابندی صرف ان جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں، جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق ایران مارچ میں یومیہ 1.84 ملین بیرل خام تیل برآمد کر رہا تھا جبکہ اپریل میں اب تک یہ شرح تقریباً 1.71 ملین بیرل یومیہ رہی ہے۔ جنگ سے قبل پیداوار میں اضافے کے باعث اس وقت 180 ملین بیرل سے زائد ایرانی تیل بحری جہازوں پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔ متعدد آئل ٹینکرز نے اس راستے سے گزرنے سے گریز کیا ہے، تاہم کچھ جہاز محدود تعداد میں گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپنگ ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے پرچم بردار ٹینکرز شالامار اور خیبرپور خلیج میں داخل ہوئے ہیں تاکہ متحدہ عرب امارات اور کویت سے کارگو حاصل کر سکیں، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی ممالک پر پڑے گا، خاص طور پر چین اور بھارت جیسے بڑے درآمد کنندگان پر، کیونکہ جنگ سے قبل عالمی تیل و گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی تیل منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس اقدام سے یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی تیل کی سپلائی عالمی منڈی سے کٹ سکتی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران آنے جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی۔ بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ یہ پابندی صرف ان جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں، جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوگی۔</p>
<p>ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق ایران مارچ میں یومیہ 1.84 ملین بیرل خام تیل برآمد کر رہا تھا جبکہ اپریل میں اب تک یہ شرح تقریباً 1.71 ملین بیرل یومیہ رہی ہے۔ جنگ سے قبل پیداوار میں اضافے کے باعث اس وقت 180 ملین بیرل سے زائد ایرانی تیل بحری جہازوں پر موجود ہے۔</p>
<p>دوسری جانب خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔ متعدد آئل ٹینکرز نے اس راستے سے گزرنے سے گریز کیا ہے، تاہم کچھ جہاز محدود تعداد میں گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔</p>
<p>شپنگ ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے پرچم بردار ٹینکرز شالامار اور خیبرپور خلیج میں داخل ہوئے ہیں تاکہ متحدہ عرب امارات اور کویت سے کارگو حاصل کر سکیں، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی ممالک پر پڑے گا، خاص طور پر چین اور بھارت جیسے بڑے درآمد کنندگان پر، کیونکہ جنگ سے قبل عالمی تیل و گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284995</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 13:48:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/13134452db8764a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/13134452db8764a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
