<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک ایران گیس پائپ لائن: سفارتی پیشرفت سے امیدیں بحال،بزنس مین پینل کا خیرمقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284991/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں نے طویل عرصے سے تعطل کا شکار پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی امیدیں دوبارہ زندہ کردی ہیں جسے پاکستان کی تاجر برادری ملک کے توانائی کے مستقبل کے لیے انتہائی ناگزیر قرار دیتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے بزنس مین پینل نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ پینل کے چیئرمین میاں انجم نثار نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے فیصلہ کن قدم اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں انجم نثار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا توانائی بحران اب ناقابلِ برداشت ہوچکا ہے جہاں سالانہ اربوں ڈالر ایل این جی اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ کیے جارہے ہیں، اس صورتحال نے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور کاروباری لاگت میں بھی اضافہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ دلیل دی کہ یہ پائپ لائن براہ راست زمینی راستے کے ذریعے ایک قابلِ بھروسہ اور کم لاگت متبادل فراہم کرتی ہے جو پاکستان کو سمندری رکاوٹوں اور عالمی سطح پر رسد (سپلائی) کے بحرانوں سے محفوظ رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایران نے 2009 میں ہونے والے معاہدوں کے بعد پائپ لائن کا اپنا حصہ مکمل کرلیا ہے لیکن پاکستان نے ابھی تک اپنی جانب تعمیراتی کام شروع نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں انجم نثار نے مالیاتی اور ریگولیٹری چیلنجز کا اعتراف تو کیا لیکن اس بات پر اصرار کیا کہ سیاسی عزم کے ذریعے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں نے طویل عرصے سے تعطل کا شکار پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی امیدیں دوبارہ زندہ کردی ہیں جسے پاکستان کی تاجر برادری ملک کے توانائی کے مستقبل کے لیے انتہائی ناگزیر قرار دیتی ہے۔</strong></p>
<p>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے بزنس مین پینل نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ پینل کے چیئرمین میاں انجم نثار نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے فیصلہ کن قدم اٹھائے۔</p>
<p>میاں انجم نثار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا توانائی بحران اب ناقابلِ برداشت ہوچکا ہے جہاں سالانہ اربوں ڈالر ایل این جی اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ کیے جارہے ہیں، اس صورتحال نے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور کاروباری لاگت میں بھی اضافہ کردیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ دلیل دی کہ یہ پائپ لائن براہ راست زمینی راستے کے ذریعے ایک قابلِ بھروسہ اور کم لاگت متبادل فراہم کرتی ہے جو پاکستان کو سمندری رکاوٹوں اور عالمی سطح پر رسد (سپلائی) کے بحرانوں سے محفوظ رکھے گی۔</p>
<p>اگرچہ ایران نے 2009 میں ہونے والے معاہدوں کے بعد پائپ لائن کا اپنا حصہ مکمل کرلیا ہے لیکن پاکستان نے ابھی تک اپنی جانب تعمیراتی کام شروع نہیں کیا۔</p>
<p>میاں انجم نثار نے مالیاتی اور ریگولیٹری چیلنجز کا اعتراف تو کیا لیکن اس بات پر اصرار کیا کہ سیاسی عزم کے ذریعے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284991</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 12:44:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1312231969a94ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1312231969a94ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
